Home

سیلف پورٹریٹ

 کوئی اس بات پر یقین کرے یا نا کرے لیکن مجھے سو فیصد یقین ہے کہ میں ایک ایسا نابغہ روزگار شخص ہوں جو اگر ہر دو گھنٹوں کے بعد فیس بک پر اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ نہ کروں تو نہ صرف یہ دنیا ایک عالم و فاضل شخص کی عالمانہ تحریروں سے محروم رہ جائے گی بلکہ فیس بک کے مالک ” میرذاکر برق ” کا بھی دیوالیہ نکل جائے گا اور وہ کچھ ہی دنوں میں سڑکوں پر بھیک مانگتا نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں روز وقفے وقفے سے نہ صرف حکمت اور دانائی سے بھرپور اپنی تحریریں فیس بک کی زینت بناتا رہتا ہوں بلکہ دوسروں کی طرف سے شیئر کی جانے والی ہر تصویر، تحریر اور ویڈیو پر ماہرانہ رائے دینا بھی میں نے اپنے فرائض منصبی میں شامل کررکھا ہے۔                  تفصیل

نئی تحریریں

مقبول ترین

مقبول مضامین

کالمز

بلاگ

مضامین

مقبول افسانے

فلیش فکشن

مذکورہ کتاب میں تیس ایسے مضامین شامل ہیں جو میں نے 2013 اور 2015 کے درمیانی عرصے میں لکھے۔ ان میں سے کئی مضامین ڈان اردو سمیت بعض دیگر میگزینز پر شائع بھی ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک بھر میں وحشت کا راج تھا اور کوئٹہ شہر کی سڑکیں روز ہزارہ مرد، خواتین اور بچوں کے خون سے لال ہو رہی تھیں۔ ان مضامین میں ان اور ان جیسے دیگر مقتولین کا ذکر ہے اور یہ کتاب منسوب بھی انہیں مقتولوں کے نام  ہے جنہیں شہید قرار دے کر دفنا دیا گیا۔ ان تحریروں میں آہیں بھی ہیں اور سسکیاں بھی، شکوے بھی ہیں اور دہائیاں بھی، سازشوں کی کہانیاں بھی ہیں اور سرد مہریوں کے قصے بھی، مایوسیوں کے تذکرے بھی ہیں اور امید، عزم و استقامت کے استعارے بھی۔  یہ قتل و غارت کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا تاریک باب ہے جسے کتاب کے سانچے میں ڈھال کر دستاویز کی شکل دی گئی ہے۔