سلطان راہی کا پاکستان

سلطان راہی کا پاکستان
images
کوئی پندرہ سال پہلے کی بات ہے میں نے ٹیلی ویژن پر ایک اُوٹ پٹانگ پاکستانی فلم دیکھی(حالانکہ یہاں صرف پاکستانی فلم لکھنا ہی کافی ہے) فلم کا نام بھی کچھ ایسا ہی تھا یعنی”مسٹر چارسو بیس“۔فلم تو اس لائق نہیں تھی کہ اسے یاد رکھا جاتا لیکن فلم میں ایک ایسا سین ضرور تھا جو آج تک میرے اعصاب پر سوار ہے ۔سین کچھ یوں تھا کہ سلطان راہی جو کہ فلم کے ہیرو تھے نے رسیّاں ڈال کے دو چلتے ہوئے ہینو ٹرکس کو ہاتھوں سے روک رکھا تھا۔میں اس سین پر بہت ہنسا۔اگلے دن جب میں نے یہ بات ایک دوست کو بتائی تو اس نے کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔میں بڑا حیران ہوا کہ ایسی مضحکہ خیز صورت حال لیکن اسکے ہونٹوں پہ ایک معمولی مسکراہٹ تک نہیں؟میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا ”میں نے تو سلطان راہی کی ایسی بھی فلم دیکھی ہے جس میں اس نے پوری چلتی ہوئی ٹرین کو اپنے ہاتھوں سے روک رکھا تھا“
میں کچھ جھینپ سا گیا۔سلطان راہی ہمارا وہ ہیرو تھا جوغنڈوں میں پھنسی اپنی بہن کی فریاد پر ایک ہی چھلانگ میں لندن سے چیچوں کی ملیاں پہنچ جاتا اور دشمنوں کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دیتا، کلاشنکوف کی درجنوں گولیاں کھا لیتا مگر مجال ہے کہ اس کے پائے استقامت میں ہلکی بھی لغزش آجاتی۔

لیکن حقیقی زندگی میں جب دشمنوں نے اُسے حقیقی انداز میں گھیر لیا تو سب نے دیکھا کہ ساری بھڑکیں، سارے فلمی ڈائیلاگ دھرے کے دھرے رہ گئے اور فلموں میں درجنوں بدمعاشوں سے اکیلا بھڑنے والا ہیروانتہائی آسانی سے موت کا شکار ہو گیا ۔یہ صرف ایک فلمی کردار کی بات نہیں بلکہ سارا پاکستان ہی اسی کردار کے سحر میں مبتلا ہے۔سیاستدانوں اور حکمرانوں سے لیکر ایک عام پاکستانی تک ہر کوئی سلطان راہی بنا پھر رہا ہے۔جس طرف دیکھیں وہی فلمی ڈائیلاگ،وہی بھڑکیں”ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر اور مضبوط ہاتھوں میں ہے، اب کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتااور۔۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں نوچ لینگے ۔۔۔۔
دوسری طرف عوام بھی اس معاملے میں حکمرانوں سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ مہنگائی،بد امنی اور لاقانونیت کے باعث ان کی زندگیاں جہنم بن کے رہ گئیں ہیں لیکن وہی روح پرور ا ور ایمان تازہ کرنے والے نعرے کہ”ہم زندہ قوم ہیں پائیندہ قوم ہیں“ اور ”تم کس کس کو مرواؤگے۔ ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب زرا ملک کی مجموعی صورتِ حال بھی ملاحظہ ہوں۔ہر طرف قتل و غارت،بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکے اور اغوا برائے تاوان۔ اُوپر سے عزت مآب رحمان ملک کی عالمانہ باتیں۔۔۔؟ فرماتے ہیں ”ملک کے حالات خراب کرنے میں ملک دشمنوں اور بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے“ لو جی کر لو گل،تو پھر انتظار کس بات کا، دشمن کی آنکھیں نکال کیوں نہیں دیتے؟ ایسے میں اردشیر کاوؤس جی کی بات یاد آتی ہے کہ ”ایک گٹر نہیں بنا سکتے۔۔۔ ایٹم بم بنانے چلے ہیں“
اپنا ملک ٹھیک سے نہیں سنبھال سکتے لیکن دوسروں کو آنکھیں دکھانے اور بھڑکیں مارنے میں سُستی ہرگز نہیں دکھاتے۔جو معاملہ خود نہیں سدھار سکتے اسکا الزام جھٹ سے بیرونی قوتوں پہ لگا لیتے ہیں۔تب ہم دشمن کی آنکھیں نکالنا تو درکنار اُن سے آنکھ ملا کر بات بھی نہیں کرسکتے۔رحمان ملک یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ اسلامی ممالک ہمارے ہاں اپنی پراکسی وار لڑ رہے ہیں۔اب اتنا کچھ معلوم ہے تو ان کا راستہ روکتے کیوں نہیں؟ لیکن راستہ روکنا تو دور کی بات ان سے احتجاج کرنا بھی ایٹمی طاقت کے لئے نا ممکن ہے کہ مبادااس طرح وہاں سے امداد بلکہ خیرات کی مد میں آنے والی رقم بند ہو جائے۔
یہی تو فرق ہے فلمی اور حقیقی زندگی میں۔کوئی ہماری ناک کے نیچے دھڑلے سے انتہائی اہم آپریشن کرکے بہ آسانی نکل جائے توہم اپنی غلطیاں سدھارنے کے بجائے لکیر پیٹنے، بغلیں جھانکنے اور ایک دوسرے پر الزام دھر نے لگ جاتے ہیں۔دوسری طرف خود حکومت ہی کے بقول”کچھ مٹھی بھر دہشت گردوں نے پورے ملک اور اس کے اٹھارہ کروڑ۔۔؟ عوام کو یرغمال بنا کے رکھا ہوا ہے“ لیکن حکومت، ریاستی ادارے اور سیاستدان اپنا اپنا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔ہر طرف لوٹ مار،دہشت گردی،لا قانونیت،بد امنی اور بے یقینی کاراج۔ لیکن ہم ہیں کہ بھڑکیں مارنے سے باز نہیں آتے۔ کوئی ساڑھے اٹھارویں ترمیم کا تمغہ سینے پہ سجائے اترا رہا ہے تو کوئی ابھی تک موٹر وے کی بھول بھلیوں میں گم ہے،کوئی ڈینگی مچھر سے گتھم گتھا نظر آرہا ہے تو کوئی عاشوراکے خیریت سے گزرنے کا جشن منا رہا ہے۔
ایک جانب کچھ ایسے لوگ ہیں جو اگلے انتخابات کے نتائج سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ اب کی بار ملک کو لوٹنے کی باری ان کی ہے جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ عوام کو نوید دے رہے ہیں کہ پاکستان کو دوبارہ قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے یعنی ”بیک ٹو 1947۔ حالانکہ اس مقصد کے حصول میں تو ہمارے حکمران اور ان کے قائم کردہ تزویراتی اثاثے کئی سالوں سے اورد ل و جان سے پہلے ہی جتے ہوئے ہیں۔رہی چند مقامی ہیروز کی بات تو یہ وہ گنجے ہیں جنہیں بڑی منتوں اور مدتوں کے بعد ناخن نصیب ہوئے ہیں۔ جن سے یہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی حلیہ بگاڑ نے میں مصروف ہیں۔ یہ بھی ڈینگیں مارنے اور عوام کو سبز باغ دکھانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔
الغرض دعوے ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہے اور وعدے ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے ر ہے۔ ہر طرف ”مسٹر چارسو بیس“ نامی فلم چل رہی ہے پردے پر ہیرونے ایک دو نہیں بلکہ کئی کئی ٹرینوں کو ہاتھوں سے روک رکھا ہے، ہر سو سلطان راہی کی بھڑکیں سنائی دے رہی ہیں اور عوام ہیں کہ تالیاں اور سیٹیاں بجانے میں ہی مشغول ہیں۔

یہ بلاگ  پہلی بار ڈان اردو میں  شائع ہوا ۔

Friday 7 December 2012
http://urdu.dawn.com/2012/12/07/sultan-rahis-pakistan/

Share
57Shares

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں