پاکستان ایک تجربہ گاہ

پاکستان ایک تجربہ گاہ
download (1)
وطنِ عزیزمیں جس طرح ہر موسم کے پھل اور سبزیاں وافر مقدار میں موجود ہیں بالکل اسی طرح ”اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے“بھانت بھانت کی بولیاں بولنے واے سیاسی رہنما ؤں اور پارٹیوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ہر کسی کی نظریں حکومت کے حصول پر جمی ہوئی ہیں۔کچھ تو کسی نہ کسی شکل میں حکمرانی کا تجربہ کر کے اس کے مزے لوٹ بھی چکے ہیں جب کہ کچھ آنے والے دنوں پر اپنی نظریں جمائے بیٹھے ہیں تا کہ وہ بھی کوئی نیا تجربہ کر سکے۔یہاں کسی جاگیردار کی لاٹری نکل آئے اور اسے ملک پر حکمرانی کا موقع ملے تو پورے ملک کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھتا ہے۔ اُسے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ان کے مزارعے کس حال میں جی رہے ہیں اگر پرواہ ہوتی ہے تو فقط اس بات کی کہ بس فصل اچھی ہو تاکہ منافع زیادہ ملے۔اور ویسے بھی مزارعے ہوتے ہی اسی لئے ہیں کہ ان کا خون پسینہ بہتا رہے تاکہ مالک کی تجوریاں بھرتی رہیں۔اب اس بات سے کون اختلاف کرے گا کہ جاگیر جتنی بڑی ہوگی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حجم بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور طاقت کا اظہار بھی، اسی لئے نعرۂ مستانہ لگایا جاتا ہے”کپھے،کپھے“۔

اب یہی حکومت اگر کسی سرمایہ دار کے ہاتھ آجائے تو ایسے میں ملک اور عوام کی جو درگت بنتی ہے اس کا مظاہرہ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔اب انہیں کون یہ بات سمجھائے کہ کسی کار خانے اور ملک کو چلانے میں زمیں و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔کارخانے میں کسی نئی مشین یا چند کمپیوٹرز کا اضافہ کرکے اوربدلے میں درجنوں بلکہ سینکڑوں ملازمین کو نوکریوں سے نکال کر اپنے کارخانے بلکہ یوں کہئے کہ خود اپنے اخراجات میں کمی لاکر آمدن میں اضافہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن اگر یہی فارمولا کبھی ڈاون سائیزنگ تو کبھی رائٹ سائیزنگ جیسے پیچیدہ ناموں سے ملکی عوام پر مسلط کیا جائے گا تو ظاہر ہے اس سے ملک میں نہ صرف بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ عوام میں بے چینی اور مایوسی بھی بڑھے گی۔حالانکہ حکمرانوں کی تو یہ ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں تاکہ ان کا معیارِ زندگی بہتر سے بہتر ہوں،لیکن پہلے ہم اس ملک کو کار خانے کے بجائےملک توسمجھیں ۔
اب زر ا آپ اس بات کا تصور کریں کہ ملک پر کسی مولوی کی حکومت قائم ہو جاتی ہے (حالانکہ محض یہ تصورہی رونگٹے کھڑے کرنے کے لئے کافی ہے) جن کی پوری زندگی ڈنڈے کے زور پر سبق یاد کرتے اور کراتے گزری ہو، جو اپنے مسلک اور اپنی پارٹی کے علاوہ ہردوسرے مسلک اور پارٹی کو گناہ گار اور خطا کار تصور کرتے ہوں،جو اسلام اور شریعت کی اپنی ہی تشریح کرتے ہوں اور اس تشریح سے اختلاف کرنے والوں کو کافر اور قابلِ گردن زنی قرار دیتے ہوں،ایک دوسرے کی امامت میں نماز پڑھنا تو درکنار، مسجد کے دروازے پرتختی آویزاں کرتے ہوں جس پر واضح لکھا ہوتاہو کہ”دیگر مسالک کے لوگوں کا مسجد کے اندر قدم رکھنا سخت منع ہے“ تو اندازہ کریں کہ ایسے میں ملک میں کیسا”روح پرور ماحول“ہوگا،لوگ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ”شیرو شکر“ ہوں گے اور نتیجے میں کیسا ”مثالی معاشرہ“ وجود میں آئے گا؟لیکن پہلے ہمارے مولوی اسلام، شریعت اورمساوات کی واحد تشریح پرتو متفق ہوں۔
ڈنڈے کے زور پر معاملات حل کرنے اور حکومت کرنے کا تجربہ یوں توہمارا مارشل طبقہ بھی پہلے کئی باربلکہ بار بار دہرا چکا ہے، لیکن کیا اس سے ملکی معاملات درست کرنے میں کوئی مدد ملی ہے؟ مگر وہ جو کہتے ہے ناں کہ”جھپٹناپلٹنا پلٹ کر جھپٹنا۔لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانا“ بہ الفاظِ دیگر”گڑھا کھودو اور اسکی مٹی دفنانے کے لئے ایک اورگڑھا کھودو“ یعنی کچھ نہ کچھ کرتے رہو،بے کارہرگز نہ بیٹھو ورنہ پھر اس ”ہونے“کا کیا فائدہ؟۔سرحدوں پہ کچھ کام نہیں تو نہ سہی سرحدوں کے اندر بھی توبہت سارے کام پڑے ہیں۔ وقتاَ فوقتاَحکومت پہ قبضہ کرنا بھی انہی کاموں میں سے ایک ہے۔ اور پھر بے وقوف سویلین کی زبان بندی بھی تو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہی ہے۔ یہ کام اگر براہِ راست نہیں کرسکتے تو کیا؟اس کام کو انجام دینے کے اور بھی تو کئی طریقے ہیں۔ بس فقط اپنے سٹریٹجک اثاثوں کو سنبھال کے رکھنا اور اُنہیں ہر وقت مصروف رکھنا ہی نہایت ضروری ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو زنگ نہ لگے اور ”بوقت ضرورت کام آئے“ (داشتہ بہ کار آید) اگر اس نیک مقصد کے حصول میں کچھ ”بے زبانوں“ کی جانیں چلی بھی جائے تو کیا؟ ویسے کسی بڑے ہدف کو پانے کی خاطر کچھ”چھوٹی موٹی“ قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہے۔لیکن کیا ہم نہیں جانتے کہ انہی تجر بوں نے تو ملک کا خانہ خراب کر رکھا ہے؟
ہمارے ارد گرد ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جنہوں نے انڈر ورلڈ مافیا کی طرح ملک کو اپنے اپنے علاقوں میں تقسیم کر رکھا ہے اگر کوئی غلطی سے بھی اپنی حدود پار کرکے ان کے علاقے میں چلا جائے تو اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ بھی ہم آئے روز دیکھتے رہتے ہیں۔ بوری بند یا مسخ شدہ لاشیں اورٹارگٹ کلنگ۔ کیا ہم ایسی خبریں روز نہیں سنتے؟ اب اگر ایسے میں کوئی انڈر ورلڈ ڈان ملک کی عنان سنبھالے تو زرا تصور کریں کہ کیا ہوگا؟ ٹیکس کے بجائے”بھتہ“ اکٹھا کیا جائے گا،جاسوسی کے بجائے ”فیلڈنگ“ کی جائے گی،عدالتوں کا کام بھائی لوگ سنبھال لیں گے،”پرچی“ کے زریعے احکامات جاری ہونگے اور”ُسُپاری“ کے زریعے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔یعنی نہ تو عوام کو انصاف کے لئے در بہ در بھٹکنا پڑے گا اور نہ ہی مقدمات کے فیصلے کے لئے طویل انتظار کرنا ہوگا۔پھر تو باقی عوام کی طرح ”اپن“ بھی مطمئن زندگی گزارے گا۔
ان ٹینشن والی باتوں کے بعد کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ کچھ ہلکی پھلکی بات ہوجائے؟ آپ کو اپنے سکول کے زمانے کی کچھ باتیں بتاؤں۔ جب ہم سکول میں تھے تو ہفتے میں ایک یا دو دن ایسے بھی آتے جب بور مضامین پڑھ پڑھ کے دماغ خراب ہو جاتاتوایسے میں ایک پیریڈ کا ہمیں شدّت سے انتظار رہتا جسے ہم پی ٹی یعنی فزیکل ٹریننگ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ایک ریٹائرڈ صوبیدار جس کے گلے میں ڈور کے ساتھ ایک سیٹی(جسے ہم اشپلق کے نام سے یاد کرتے تھے) لٹکی رہتی تھی ہمیں پی ٹی کرانے سکول کے گراؤنڈ میں لے جایا کرتا تھا۔ وہاں ہم ہاتھ پیر ہلا کے اور بھاگ دوڈ کرکے خوب ہلّا گلّا کیا کرتے تھے۔اتفاق سے ہمارے پی ٹی آئی یعنی فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر بھی زرا ”فوجی“ قسم کے آدمی تھے،ڈسپلن پہ بہت زیادہ زور دیا کرتے تھے۔ہمیشہ ماضی میں گم رہتے اور فوج میں بِتائے دنوں کو یاد کرتے رہتے تھے۔
اُن دنوں کی یاد کرتے کرتے میرے ذہن میں یہ سوال اُٹھنے لگا ہے کہ اگرکبھی کسی کھلاڑی یا فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر کو حکومت کرنے کا موقع ملے تو کیا ہوگا؟ ہر طرف وہی ہلا گلا، بھاگم بھاگ اور کھیل کود۔ اس کا اندازہ ہم ان بیانات سے ہی کر سکتے ہیں”میں ایک ہی گیند میں تین تین وکٹیں گرا دونگا، سب کی وکٹیں اُڑا دونگا،مجھے ایک اچھی ٹیم کی ضرورت ہے،میری باولنگ کے سامنے کوئی نہیں ٹہر سکے گااور ہم اگلے الیکشن میں کلین سویپ کریں گے(ہاؤ زاٹ) جہاں تک عوام کی بات تو وہ ہے ہی اسی لئے بس کہ میچ دیکھتے جائے اور تالیاں بجاتی جائیں۔اب کوئی ہو جو ان کھلاڑیوں کو یہ سمجھائے کہ سیاست کھیل اور ملک کھیل کا میدان ہرگز نہیں۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے سیاستدان ملک کو ملک ہی سمجھیں۔ اسے اپنی جاگیر، اپنا کارخانہ، اپنا مدرسہ،اپن کا علاقہ اور اپنا ڑریسنگ روم نہ سمجھیں،اور ا س پر مزید تجربہ کرنے سے باز رہیں؟کیا عوام اس بات کی توقع کر سکتے ہیں کہ ملک پر کبھی کسی حقیقی رہنما کی بھی حکمرانی ہوسکتی ہے جواپنے آپ کو عوام کا نمائندہ،خود کو ان کے سامنے جوابدہ اور عوام کو ہی ملک کا حقیقی سرمایہ اور حقیقی مالک سمجھے،؟”ای بسا آرزو کہ خاک شد“

یہ مضمون پہلی بار ڈان اردو پر شائع ہوا ۔

Tuesday 18 December 2012
http://urdu.dawn.com/2012/12/18/pakistan-a-test-laboratory-aq/

Share
0Shares

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں