جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

kid82

ابّو یہ کون لوگ ہیں جو آئے دن ہمیں قتل کرتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو میری بیٹی مجھ سے کئی بار پوچھ چکی ہے۔ اسکول سے اُ س کی واپسی ہمیشہ ڈھیر سارے سوالوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایک دن جب وہ سکول سے گھر لوٹی تو کچھ زیادہ ہی مغموم نظر آئی۔ پوچھنے پر بتایا کہ آج جن دو افراد کو دفتر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ہے اُن میں سے ایک میری اُ س سہیلی کے ابّو تھے جو روزانہ میرے ساتھ ایک ہی گاڑی میں اسکول جایا کرتی تھی۔آج وہ راستے بھر روتی ہوئی آئی ہے۔ابّو یہ ہمیں آئے روز کیوں مارتے رہتے ہیں؟بیٹی نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایاپھرمجھے خاموش دیکھ کے خود ہی کہنے لگی ”آج میری ایک کلا س فیلونے بھی مجھ سے یہی سوال پوچھا تھا“ میں نے کہا پھر تم نے کیا جواب دیا؟ کہنے لگی میں نے اسے بتایا کہ جو آئے دن ہمارا قتل کررہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہم سے جلتے ہیں، جو تعلیم و محنت سے ہماری وابستگی اور صفائی پسندی سے خوف زدہ ہیں۔ لیکن ابّوکیا جاہل رہنے کے بجائے تعلیم حاصل کرنا، بھیک مانگنے کے بجائے محنت مزدوری کرنا اوراپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا اتنےبڑے جرائم ہیں جن کی وجہ سے ہمیں قتل کر دیا جائے؟
میں اُسے کیا بتاتا کہ اس تنگ نظر معاشرے میں ہمارے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے اور ہر جرم اس قابل ہے جس کی پاداش میں ہم سولی پر لٹکائے جانے کے قابل ہیں ۔کیا یہ معمولی جرم ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاںتعلیم کی شرح شرمناک حد تک کم ہے وہاں ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اہمیت تعلیم ہی کو دیتے ہیں اور جن کی نئی نسل میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان 100 فیصد ہے؟ تبھی توسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والے ان کے طلباء اور طالبات کو نشانہ بناکرقتل کیا جاتا ہے۔لیکن اُس نے میرے جواب کا زیادہ انتظار نہیں کیا اور پوچھنے لگی ”ابّو ان غریب مزدوروں نے کسی کاکیا بگاڑا ہے جن کو ہر دوسرے دن ”ٹارگٹ“کیا جا تا ہے؟
میں نے اُسے بتانا چاہا کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں حکمرانوں نے خودتو بھیک مانگنے کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اور جن کی نالائقی اور خود غرضی کے باعث عوام بھی خود کشیاں کرنے اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں وہاں دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے محنت مزدوری کرکے روزی روٹی کمانے والوں کا جرم کیا اس قابل ہےکہ انہیں معاف کیا جائے؟اسی لئے تو آئے روزان کے مزدوروں کو خون میں نہلایا جاتا ہے۔ لیکن شاید وہ آج کچھ زیادہ سوال کرنے کے موڈ میں تھی لہٰذ میرے جواب دینے سے پہلے پھر پوچھ بیٹھی ”کیاصاف ستھرا رہنا اور اپنے گھر محلے کو صاف رکھنا بھی بری بات ہے“؟
میں نے پھر اُسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے شہر میں جہاں ہر طرف گندگی کے ڈھیر پڑے ہوں، ہر کونے کھدرے سے تعفن اُٹھ رہا ہواور جہاں صفائی نصف ایمان کا نعرہ لگانے والے اپنا کچرہ گھروں کے سامنے پھینکنے کے عادی ہوں اگر وہاں کچھ لوگ اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ اپنے گلی کوچوں اور محلوں کو بھی صاف ستھرا رکھتے ہیں تو کیا یہ جرم ایسا نہیں کہ معاشرے کو ان کے وجود سے ہی پاک کردیا جائے ؟تبھی تو بار بار گلی کوچوں اور سڑکوں کو ان کے خون سے رنگا جاتا ہے۔میں اُسے یہ بھی بتانا چاہ رہا تھا کہ تعلیمی درسگاہوں کے اُستاد اوروہ دانشوراورسیاست دان بھی تو مجرم ہیں جو علم بانٹنے، نفرتوں کو کم کرنے اور محبتوں کو پروان چڑھانے کی تگ ودو کرتے رہتے ہیں اسی لئے تو اُن کے سروں میں گولیاں مار کر ان کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا جاتا ہے۔
میرا خیال تھا کہ اپنی بیٹی کو آج یہ بھی بتا دوں کہ جب سرکاری نوکریوں کا بازار لگتا ہے تو ہر ایک وزیراور بڑے افسر کی کوشش ہوتی ہے کہ”اپنے“ ہی لوگوں کو نوازے لیکن ایسے میں کچھ نوکریاں ہم جیسوں کے لئے بھی رکھ چھوڑتے ہیں کہ کچھ تو ایسے بھی ہوں جو کام بھی کرتے ہو تاکہ دفتر کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہے۔اب ایسے ماحول میں جب زیادہ تر لوگ محنت سے جان چھڑاتے ہو ں ان جیسے لوگوں کی”شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری“کیا ایسا جرم نہیں کہ جس کو لگام دینے کی ضرورت پڑے؟اسی لئے ہی تو ہمارے سرکاری ملازمین کو بھی تاک تاک کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
لیکن اس سے پہلے کہ میں یہ ساری باتیں اُسے بتاتا اُس نے ایک نیا سوال داغا۔”ابّو میں نے سنا ہے کہ ہمارےبزرگوں اور جوانوں نے پاکستان کی بہت خدمت کی ہے اورقربانیاں بھی دی ہے،کیا جنرل موسیٰ نے اس ملک کی خدمت نہیں کی؟میری مس بتاتی ہے کہ ہمارے جوانوں اور بزرگوں نے ہر میدان میں اپنے ملک اور مٹی سے وفاداری نبھائی ہے،لیکن ہمارے یہ پاکستانی بھائی پھر بھی ہمیں قتل کئے جارہے ہیں،کیاوطن اورقوم کے ساتھ وفاداری نبھانے کا یہی انعام ملتا ہے“؟ میرے پاس اس سوال کا اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ یہ بھی ہمارے جرائم میں ہی شامل ہے جس کی ہمیں سزا مل رہی ہے۔میں اُسے بتانا چاہ رہا تھاکہ ہمارا ایک ناقابلِ معافی جرم یہ بھی ہے کہ ہم عقیدے،زبان،ثقافت اور عددی اعتبار سے ”اقلیت“میں ہیں اور شاید یہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے کیوں کہ اقلیت میں ہونا بذات خود ایک ناقابل معافی اور سنگین غلطی ہے۔جی چاہ رہا تھا کہ اسے یہ بھی بتادوں کہ جو ہمیں ختم کرنے کے درپے ہیں اُن کی نظر میں ہماری مائیں،ہمارے بزرگ اور ہمارے بچّے سارے مجرم ہیں کیوں کہ وہ ہزارہ ہیں، ہمارے قاتلوں کی نظر میں ہمارا وجود ہی سب سے بڑاجرم ہے۔تبھی توبسوں سے اُتار اُتار کر اور شناخت کے بعد ہی ہمیں قتل کیا جاتاہے۔
آج میں دل کھول کے اپنی بیٹی کو اُس کے سارے سوالوں کے جواب دینا چاہ رہا تھا میں چاہ رہا تھا کہ اسے بتادوں کہ ہم پاکستان کو اپنا وطن اور اپنی سرزمین جان کے اس کی خدمت کر رہے ہیں اور اس کے لئے قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ہم نے ہر مرحلے پر اس مٹی سے اپنی وفاداری ثابت کی ہے لیکن افسوس ۔۔۔ حکمران ہمارے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے ٹرک بھر ٹشو پیپربھیج دیں گے تاکہ ہم اپنے بہتے آنسو پونچھ سکیں،کوئی ہمارے کاروبار اور ہماری جائیدادوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہےتو کوئی ہم پر ہونے والے مظالم پر بغلیں بجا رہا ہے۔اور عام لوگ؟ وہ فی الحال اس بات سے مطمئن ہیں کہ آگ تومحض ان کے ہمسایوں کے گھر لگی ہے جبکہ وہ خوداپنے گھروں میں محفوظ ہیں۔ جہاں تک قاتلوں کی بات ہے تو انہوں نے شاید سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں یا پھر وہ یقینا فرشتے ہونگے جو کسی کو نظر ہی نہیں آتے۔
میں نے اپنی ساری توانائی جمع کی اور اسے یہ سب بتانے کی تیاری کرنے لگا۔لیکن اس پر نظر پڑی تو دیکھا کہ وہ سو گئی تھی، شاید اُسے مجھ سے کسی جواب کی توقع نہیں تھی یا پھر شاید وہ بھی جان چکی تھی کہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنا اتنا آسان بھی نہیں۔

یہ مضمون ڈان اردو کے لئے لکھا گیا ۔
Friday 11 January 2013

http://urdu.dawn.com/2013/01/11/jaane-kis-jurm-ki-paayi-hai-saza-aq/

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں