ڈرامائی انداز

ڈرامائی انداز

Untitled (3) لفظ "ڈرامائی انداز” میں مجھے بچپن سے ہی دلچسپی رہی ہے۔ اُن دنوں جب بھی میں کسی اخبار میں یہ خبر پڑھتا کہ پولیس نے چھاپہ مار کر فلاں ملزم کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا ہے تو مجھے اس خبر میں بڑی سنسنی محسوس ہوتی۔مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی کہ گرفتار ہونے والے کا قصور کیا تھا بلکہ اگر مجھے کچھ اچھا لگتا تو وہ تھا ڈرامائی انداز۔ یہ انداز کبھی میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کا مفہوم سمجھنے کے لئے میں نے بڑوں سے بھی مدد مانگی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔پھر میں نے اپنی طرف سے خود ہی یہ بات گھڑ لی کہ شاید جب پولیس چھاپہ مارنے جاتی ہو تو ٹی وی ڈراموں یا فلموں کے اداکاروں کی طرح نقلی داڑھی مونچیں لگا کر اپنا حلیہ بدل دیتی ہوں۔شاید ملزموں کو گرفتار کرنے سے پہلے ان کے درمیان کچھ مکالموں کا تبادلہ ہوتا ہو، کچھ دھینگا مشتی ہوتی ہو، شاید کچھ مک مکا بھی ہوتا ہو، کچھ لوگ بھاگنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہوں اور ایک آدھ کمزور ہی پکڑے جاتے ہوں۔
جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا اس ڈرامائی انداز کی گتھی سلجھانے کی آرزو بڑھتی گئی۔ پھر ایک ایسا وقت آیا کہ مجھ پر یہ راز آشکار ہوا کہ جو انداز سمجھ میں نہ آسکے اس کو ڈرامائی انداز کہتے ہیں۔ کچھ لوگ اس انداز کو”پر اسرار انداز” بھی کہتے ہیں یعنی جس کا راز کبھی نہ کھل پائے۔اس گرہ کے کھلنے کی دیر تھی کہ ایک ایک کرکے مجھے بہت ساری باتیں سمجھ میں آنے لگیں۔ تب مجھ پر یہ بھی عقدہ کھلا کہ ڈرامائی انداز اختیار کرنا صرف پولیس والوں کا ہی شیوہ نہیں بلکہ وطن عزیز میں تو سارے کام ڈرامائی اور پر اسرارانداز میں ہوتے ہیں۔کہیں کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ جب پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح اپنے آخری ایام میں انتہائی سخت بیمار تھے تو ایک مرحلے پر انھیں ہسپتال لے جانے والی ایمبولینس عین موقع پر ڈرامائی انداز میں خراب ہو گئی تھی جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا بروقت علاج نہ ہو پایا اور وہ دنیا سے کوچ کر گئے۔
پھر کچھ ہی عرصے بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو کسی نے بھرے مجمعے میں گولی مار کر ڈرامائی انداز میں قتل کر دیا لیکن اس سے پہلے کہ کوئی اس قاتل کو پکڑتا نامعلوم سمت سے ایک گولی آئی اور قاتل خود بھی ڈرامائی انداز میں مقتول ہوگیا۔آدھی صدی سے زیادہ وقت گزرچکا ہے لیکن یہ سارے واقعات ابھی تک پردہ اسرار میں ہیں۔ 1971 میں میری عمر کوئی پانچ سال ہوگی جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی، مجھے یاد ہے ہم کچے گھر میں رہتے تھے۔ابو (والد محترم) ایک سپاہی کی حیثیت سے 1965 کی جنگ میں حصہ لینے کے بعد فوج سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے جبکہ ہمارے ایک ہمسائے جو رشتے میں ابو کے پھوپھا زاد تھے اب بھی فوج میں صوبیدار تھے۔ گھر میں بیٹری سیل سے چلنے والا ایک کنگ سائز ریڈیو تھا جس پر جنگ سے متعلق ترانے اور خبریں نشر ہوتی تھیں۔تب گھر میں بجلی نہیں تھی لہٰذا شام ہوتے ہی لالٹین جلا کے روشنی کی جاتی لیکن دشمن جہازوں کی بمباری کے خدشے کے باعث رات کو گھروں میں روشنی کرنے کی اجازت نہیں تھی اس لئے امی (والدہ محترمہ) تمام کھڑکیوں اور روشن دانوں پر دبیز پردے لٹکا دیتی تھیں تاکہ روشنی کی کوئی کرن بھانڈہ پھوڑنے کمروں سے باہر نہ نکل سکے۔
ایسے میں ایک دن خبر آئی کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ بند ہو گئی ہے کیوں کہ پاکستانی فوج نے ڈھاکہ میں ڈرامائی انداز میں ہندوستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔اس واقعے کے بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور نوّے ہزار سے زائد پاکستانی فوجی اور نیم فوجی اہلکار جنگی قیدی بنا لئے گئے۔ ان قیدیوں میں ہمارا ہمسایہ بھی شامل تھا جس کے گھر سے آئندہ کئی مہینوں تک رونے پیٹنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔پھر چند سالوں کے بعد جب میں نے کچھ مزید ہوش سنبھالا تو ہر طرف روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے سنائی دے رہے تھے۔ ہر ایک کی زبان پر بھٹو کا نام تھا اور ہر طرف ان کی تقریروں کی دھوم تھی۔ لیکن پھرپتہ نہیں کیا ہوا کہ ایک فوجی جنرل ضیاء الحق نے ڈرامائی انداز میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں جیل میں پھنکوا دیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا اور انہیں اپنے ایک مخالف سیاست دان کے قتل کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں پھانسی دینے سے قبل ہی پراسرار انداز میں ہلاک کیا جاچکا تھا۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور ڈرامائی انداز میں واقعات رونما ہوتے رہے۔ ملک میں اسلامی نظام نافذ ہوا، جنرل ضیاء الحق امیرالمومنین بن گئے، ملک بھر کے گلی کوچوں میں ناظمین صلواۃ کا تقرر ہوا تاکہ مسلمانوں کو نماز کامکمل پابند بنایا جا سکے، فرقوں کے نام پر جماعتیں بننے لگیں، “ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پاکستانی” کا نعرہ مقبول عام ہونے لگا اور ہر طرف فرقہ وارانہ انقلاب کے نعرے بلند ہونے لگے۔ ملک میں روسی اسلحے اور امریکی ڈالر کی ریل پیل ہونے لگی اور جہاد کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔ایسے میں 10 اپریل 1988 کواسلام آباد کے قریب واقع اوجڑی کیمپ نامی امریکی اسلحے کے ذخیرے میں ڈرامائی انداز میں ایک دھماکہ ہوا اور پھر تب تک دھماکے ہوتے رہے جب تک اسلحے کا سارا ذخیرہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا اور جڑواں شہروں کے سینکڑوں لوگ لقمہ اجل نہیں بنے۔اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے جب اس پراسرار واقعے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا توصرف ایک مہینے بعد ہی انہیں ڈرامائی انداز میں برطرف کرکے گھر بھیج دیا گیا۔
پھرایک دن خبر آئی کہ امیرالمومنین کے طیارے کو بہاول پور کے قریب بستی لال کمال کی فضاؤں میں پراسرار انداز میں ایک حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے چند سینئر رفقائے کار اور امریکی سفیر آرنلڈ رافیل کے ہمراہ “شہید” ہو گئے ہیں۔یہ واقعہ 17 اگست 1988 کے دن پیش آیا تھا۔ اس حادثے میں طیارے کے علاوہ اس کے مسافروں کے بھی اتنے ٹکڑے ہوئے تھے کہ تابوتوں میں رکھنے اور دفنانے کے لئے ان کے جسموں کا مشکل ہی سے کوئی حصہ مل سکا تھا۔پھر اسی سال ہونے والے انتخابات میں امیرالمومنین کے حقیقی پیروکاروں کو جتوانے اور بے نظیر بھٹو کو اقتدارسے الگ رکھنے کے لئے راتوں رات ڈرامائی انداز میں نو جماعتوں پر مشتمل اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا گیا۔انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت بن تو گئی لیکن صرف دو سال کے بعد ہی اکتوبر 1990 میں کرپشن کے الزامات لگا کر ان کی منتخب حکومت کو ڈرامائی انداز میں برطرف کردیا گیا۔پھر نوازشریف کی حکومت بنی لیکن 1993 میں جب وہ صرف تین سال ہی حکومت کر پائے تھے انہیں بھی ڈرامائی انداز میں فارغ کردیا گیا۔اسی سال ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنیں لیکن پانچ سال کی مدت پوری کرنے سے قبل 1996 میں ایک بار پھر ان کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا گیا۔
اس مرتبہ انہیں ڈرامائی انداز میں اقتدار سے ہٹانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی ہی پارٹی کے ممبر اور صدرمملکت فاروق لغاری تھے۔1997 کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے لیکن اکتوبر 1999 میں ان کی حکومت پھر ڈرامائی انداز میں ختم کر دی گئی اور ان کے اپنے نامزد کردہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف پاکستان کے پہلے کمانڈو صدر بنے۔ان کے دور میں ڈرامائی انداز میں بہت سارے واقعات رونما ہوئے۔ شکار کے شوقین سعودی اور لبنانی شہزادے نواز شریف کو کمانڈو کی قید سے ڈرامائی انداز میں بحفاظت نکال کے لے گئے، مسلم لیگ قاف کی حکومت بنی، اکبر بگٹی ڈرامائی انداز میں قتل کردئے گئے، بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں، فرقہ واریت کی آڑ میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت میں اضافہ ہوا، میثاق جمہوریت پہ دستخط ہوئے، این آر او نامی معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو پاکستان آئیں توانہیں ڈرامائی انداز میں قتل کر دیا گیا۔
این آر او ہی کے تحت 2008 کے انتخابات ہوئے۔ ڈرامائی انداز میں ان انتخابات کے نتائج مرتب کئے گئے اور آصف زرداری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر بن گئے۔ انہوں نے یوسف رضا گیلانی، رحمان ملک، قائم علی شاہ اور اسلم رئیسانی جیسوں کے ساتھ مل کر اس ڈرامائی انداز میں حکومت چلائی کہ اس طویل دورانئے کے کھیل کے اختتام پر پاکستانی عوام کی اکثریت نے سکھ کا سانس لیا۔ابھی 11 مئی کو ایک بار پھرڈرامائی انداز میں انتخابات منعقد کئے گئے جن کے نتیجے میں کچھ پرانے کچھ نئے چہرے سامنے لائے گئے۔ یہ پرانے اور نئے چہرے ملک کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کی خاطر کچھ کریں گے بھی یا ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ڈرامائی انداز اختیار کریں گے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔میری مشکل اب بھی وہی ہے کہ میں ابھی تک یہ بات پوری طرح نہیں سمجھ پایا کہ یہ ڈر امائی انداز آخر ہوتا کیا ہے؟اگر یہ واقعی ڈراموں کے انداز ہیں تو ہے کوئی جو میری مدد کرے اور مجھے اتنا بتادے کہ ان ڈراموں کے سکرپٹ لکھتا کون ہے؟ ان کی ڈرامائی تشکیل کون کرتا ہے اور ڈائریکشن کون دیتا ہے؟؟
یہ مضمون Saturday 8 June 2013 کو ڈان اردو میں شائع ہوا
ڈرامائی انداز

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں