بساط شطرنج( ضمیمہ )

بساط شطرنج( ضمیمہ )ccc

نیازعلی (قیس) کے ساتھ میری لکھی ہوئی فارسی کتاب “بساط شطرنج” بنیادی طور پر(News analysis) پر مبنی ہے جس میں قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کا تجزیہ کرکے خطے کی سیاسی صورت حال اور مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ واقعات پر بحث کی گئی ہے۔2010 میں جناب مبارک علی صابر نے اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالاجس کی اشاعت ہزارگی اکیڈمی کے توسط سے ہوئی۔ درج ذیل تحریر بطور ضمیمہ اردو ایڈیشن میں شامل ہے۔ میں اپنی اس مختصر تحریر کو اپنے دوست قیس مرحوم کے نام سےمنسوب کرتا ہوں۔  فارسی میں (لکھی گئی)یہ کتاب (بساط شطرنج)مئی 2001میں چھپ کر بازار میں آگئی تھی۔تب سے اب تک پل کے نیچے سے بہت سارا پانی گزرچکا ہے اور خطے میں بڑی سیاسی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ جن میں گیارہ ستمبر 2001کو نیویارک میں ہونے والے حملے،اس کے نتیجے میں امریکہ اور اتحادی افواج کا افغانستان پر حملہ،طالبان اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کی شکست اور ان کی پاکستان آمد، پاکستان میں مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کی نئی اور شدید لہر،مختلف شدت پسند اور عسکری تنظیموں کی نئی صف بندیاں، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں پر منظم حملے،بلوچ رہنماؤں اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتیں اور بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک،بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پاکستان آمد،عدلیہ بحالی تحریک،پرویز مشرف کی طرف سے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان،بے نظیر بھٹو کا قتل اور انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کے علاوہ2003میں عراق پراتحادی افواج کا حملہ، صدام حکومت کا خاتمہ اور انہیں پھانسی کی سزا سمیت کئی ایسے واقعات شامل ہیں جن کا تفصیلی احاطہ کرنے کے لئے ایک مکمل کتاب کی ضرورت ہوگی۔یہاں پر کچھ واقعات کا سرسری جائزہ پیش خدمت ہے تا کہ شطرنج کی بچھی اس بساط پر جاری کھیل سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
گیارہ ستمبر2001کو امریکی شہر نیویارک کے جڑوان عمارتوں پر ہونے والے حملوں کے بعدجنہیں 9/11 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے خطے کی سیاسی صورت حال مین تیزی سے جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کے اثرات آج بھی شدت کے ساتھ محسوس کئے جاسکتے ہیں 9/11 کے اس تاریخی واقعے سے امریکیوں کو وہ بہانہ ہاتھ آگیا جس کی بدولت وہ مستقبل کے اپنے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتے تھے جن کے بارے میں وہ ایک عرصے سے سوچ و بچار کر رہے تھے۔ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ذمہ داری ان لوگوں پر ڈالی گئی جو کافی عرصے سے جہاد کے نام پر افغانستان میں مصروف عمل تھے. انہی دنوں لوگوں نے پہلی مرتبہ القاعدہ کا نام سنا جبکہ اس سے قبل افغانستان میں غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص اسامہ بن لادن اور دیگر عرب جنگجوؤں کے بارے میں کافی معلومات رکھنے والے لوگ بھی القاعدہ کے نام سے ناواقف تھے۔پھر لوگوں نے دیکھا کہ ”امریکہ پر حملے“ کے مجرموں کو ”انصاف کے کٹہرے“میں لانے اور ان کے سرپرستوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے افغانستان پر انتہائی جدید ہتھیاروں سے شدید حملے کئے گئے اور افغانستان میں موجود طالبان مخالف قوتوں کی مدد سے امریکہ نے طالبان اور ان کے غیر ملکی حامیوں کو افغانستان سے بھاگ نکلنے پر مجبور کیا۔اس دوران نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں طالبان جنگجو ہلاک ہوئے بلکہ بڑی تعداد میں گرفتار بھی کر لئے گئے۔جو بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے وہ بھاگ کر پاکستان آگئے اور انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اپنی آماجگاہ بنالیا۔اس طرح وہ خدشات کہ جنگجوؤں کی افغانستان میں شکست اور ان کی پاکستان آمد یہاں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دے گا،سو فیصد درست ثابت ہوئے۔افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے والوں نے مذہبی منافرت اور انتہا پسندی کے نام پرپاکستان بھر میں خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا جو سلسلہ شروع کیااس نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں۔
دوسری طرف ا مریکہ نے 9/11 ہی کے واقعے کو بنیاد بنا کر 2003 کے اوائل میں عراق پر چڑھائی کردی۔امریکہ نے عراق پر اس حملے کے تین مقاصد بیان کئے۔
1۔بین الاقوامی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والی صدام حکومت کا خاتمہ
2۔وسیع تباہی والے ہتھیاروں (WMD)کی تلفی اور
3۔عراقی عوام کی آزادی۔
مارچ 2003 میں شروع کئے گئے اس حملے میں پہلے پہل امریکہ،برطانیہ آسٹریلیا،سپین اور پولینڈ کی افواج نے حصہ لیا لیکن بعد میں تقریباََ چھتیس دیگرممالک نے بھی اس جنگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ افغانستان کے بعدعراق پر اتحادی افواج کے حملوں نے ایک بار پھر اس خطے کو جنگ کی دہکتی آگ میں دھکیل دیا۔اس دوران عراق میں جنگجوؤں اور شدت پسندوں کے کئی گروہ سامنے آئے جنہوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کئے رکھا۔بم دھماکوں، خودکش حملوں،راکٹ باری اور ایک دوسرے پر حملوں کے دوران ہزاروں لوگوں کو قتل کردیا گیا۔عراق میں اپنی من پسند حکومت قائم کرنے اور صدام حسین کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد اگرچہ بش انتظامیہ نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ انہیں عراق میں مہلک تباہی والے ہتھیار نہیں ملے لیکن عرا قی عوام کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے انہیں خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کے بعد دراصل امریکہ اپنے اصل مقاصدکے حصول میں کسی حد تک کامیاب ہو چکا تھا۔ یعنی عراق کے قدرتی وسائل خصوصاََ تیل کے کنوؤں پر قبضہ اور عراق کی نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم جو آگے چل کر عراق کی جغرافیائی تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔اس مقصد کے لئے عراق کو نہ صرف مختلف زونز (Zones) میں تقسیم کردیا گیا بلکہ شہروں کے اندر اونچی دیواریں کھڑی کرکے عوام کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جون 2006میں امریکی عسکری ماہنامے(US Armed Forces Journal) میں ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا”خونی سرحدیں“ (Blood Borders)۔ایک بہتر مشرق وسطیٰ کو کیسے دکھنا چاہئے؟(How a better Middle East should look?) کے ذیلی عنوانکے تحت مصنف رالف پیٹرز(Ralph Peters) نے اپنے اس مضموں میں مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کی سرحدوں کو غیر طبیعی (Un-natural)قرار دیتے ہوئے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ان کی دوبارہ حد بندی کی تجویز پیش کی۔اس تجویز کے حق میں دلائل دیتے ہوئے مضمون نگار نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدیں کبھی ایک جیسی نہیں رہتیں اور ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں جیسی کوسووو اور کانگو میں آئیں۔مصنف نے غیر طبیعی سرحدوں کو فتنہ و فساداور نا انصافیوں کا باعث قراردیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ مشرق وسطیٰ کے کردوں، بلوچوں اور شیعہ عربوں سمیت دیگر ایسے گروہوں کو جو مختلف ممالک میں بٹے ہوئے ہیں متحد کیا جائے۔ مثلاَ کرد جن کی آبادی تقریباَساڑھے تین کروڑ ہے کو دنیا کا سب سے بڑا ایسا نسلی گروہ قرار دیا جاسکتا ہے جو اپنی علیحدہ ریاست سے محروم ہے اور وہ تمام ممالک جو ان کے پہاڑوں اور زمینوں پر تسلط رکھتے ہیں ان کے ساتھ نا انصافی روا رکھے ہوئے ہیں۔لہٰذا عراق،ترکی شام اور ایران میں بکھرے ہوئے کردوں کو یکجا کرکے آزاد کردستان قائم کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح عراق اورسعودی عرب کے شیعہ آبادی والے علاقوں پر مشتمل شیعہ عربوں کی الگ ریاست قائم کی جائے جس میں ایران کی شیعہ عرب آبادی والا علاقہ بھی شامل ہو۔عراق کے تین سنی اکثریت والے صوبوں کو اختیار ہو کہ وہ چاہے توشام کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب،عرب امارات،ترکی،شام،عراق اورایران کی نئی حد بندیوں کی تجاویز کے بعد مضمون نگار کا کہنا ہے کہ علاقے کا سب سے غیر طبیعی ملک پاکستان ہے لہٰذا پاکستانی اور ایرانی بلوچستان کو ملا کر آزاد بلوچستان کی تشکیل ہونی چاہئے جبکہ پاکستان کے پشتون علاقوں کو افغانستان میں شامل کیا جانا چاہئے۔ اس طرح افغان صوبہ ہرات اور آس پاس کے ان علاقوں کو جو ایران سے نسلی روابط رکھتے ہیں ایران میں شامل کرلیا جائے۔آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق سرحدات کی از سر نو حد بندی فی زمانہ شاید ممکن نہ لگے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بہت ساری خونریزی کے بعدنئی اور حقیقی سرحدیں ابھر کر سامنے آئیں گی۔ مضمون نگار نے آگے چل کر یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ہمارے پاس کوئی جادوئی طاقت ہوتی توہم یقینا اسی انداز میں سرحدوں کی تشکیل نو کرتے۔ان کے خیال میں امریکی اور اتحادی فوجوں نے ان نا انصافیوں کو درست کرنے کا ایک بہت ہی اچھا موقع اس وقت گنوا دیا جب بغداد کا سقوط ہوا۔ مضمون کے آخر میں رالف پیٹرز نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرمشرق وسطیٰ کی سرحدوں کو ان کے حقیقی خونی رشتوں اورعقاید پر مبنی بنیادوں پر درست نہیں کیا گیا تو ہمیں یقین رکھناچاہئے کہ علاقے میں ہونے والی خونریزی ہمارے بھی حصے میں آسکتی ہے۔
اگرچہ بعد میں امریکی محکمہ دفاع نے مذکورہ مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کیا لیکن لوگوں نے پنٹاگون کی اس ادا کو بھی امریکہ کی سابق سیاسی پالیسیوں کے مترادف قرار دیا یعنی ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“
عراق پر امریکہ اور اتحادی افواج کے حملے میں 2003 سے لیکر اب تک انسانی جانوں کے ضیاع سے متعلق جو اعدادو شمار سامنے آئے ہیں وہ رونگٹے کھڑے کردینے والے ہیں۔ان اعدادوشمار کے مطابق جن کی امریکی حکام بھی تصدیق کر چکے ہیں جون2009 تک ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ اس وران ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد تیرہ لاکھ سے زائدہے۔آزاد زرائع عراقی ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔پرویز مشرف دور میں اطلاعات کے وفاقی وزیر مملکت طارق عظیم اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو میں اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد پچیس لاکھ تک ہو سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا عراقی عوام کی اتنی بڑی تعداد محض اتحادی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئی؟کیا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نہیں کہ عراقی عوام کو ایک خاص سازش کے تحت مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کے مقا بل لا کھڑا کر دیا گیا تاکہ انہیں آپس میں لڑا کر ان پر آسانی سے حکمرانی کی جا سکے؟کیا اس منصوبے میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک نہیں جنہوں نے مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر اپنوں کا ہی خون بہایااور عراقی عوام کو آپس میں الجھا کربیرونی قوتوں کو حکمرانی اور وسائل کی لوٹ مارکا موقع فراہم کیا؟ امریکہ کا یہ کہنا کہ جب تک عراقی عوام کو دہشت گردوں سے مکمل نجات نہیں دلایا جاتا اتحادی افواج عراق میں موجود رہیں گی اور القاعدہ کا یہ اسرار کہ جب تک اتحادی افواج عراق میں موجود ہیں ان کا جہاد جاری رہے گا کیا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر سارے گروہ ایک دوسرے کے وجود کو اپنے لئے غنیمت بلکہ ضروری تصور کرتے ہیں؟یہ بھی یاد رہے کہ جب اوبامہ کی سربراہی میں بننے والی نئی امریکی حکومت نے اعلان کیاکہ2011 تک عراق سے غیر ملکی افواج کا انخلاء مکمل کرلیا جائے گااور عراق کی حکومت عراقی عوام کے حوالے کی جائیگی جبکہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا تو اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ عراق میں موجود القاعدہ کے رہنماؤں نے اپنے جنگجوؤں کوہدایات جاری کی ہیں کہ وہ عراق سے نکل کر افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔جبکہ اسی دوران مغربی زرائع ابلاغ میں تواتر سے ایسی خبریں اور تجزیے شائع ہونے لگے جن میں پاکستان کو عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک ملک قرار دیا جانے لگااور امریکی انتظامیہ سے اس بات کا مطالبہ ہونے لگا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ عراق اور افغانستان سے ہٹاکر ایٹمی صلاحیت سے مالامال پاکستان پر مرکوز کردے جو ان کے بقول عالمی امن کے لئے خطرہ ثابت ہو رہا ہے۔ایسے میں امریکی عہدیداروں کے دیے گئے بیاتات بھی ریکارڑ پر ہیں جن میں انہوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے دہشت گردوں کے ہاتھوں جانے کے خدشات کا بارہا اظہار کیا۔ اگرچہ ان چند سالوں کے دوران افغانستان کی اندرونی صورت حال میں کافی تبدیلی آچکی ہے اور کئی دہائیوں کی خانہ جنگی سے متاثر یہ ملک جمہوریت کی طرف رواں دواں ہے۔عراق کی طرح یہاں بھی کثیر الملکی اتحادی افواج موجود ہیں۔امن و امان کی صورت حال اگرچہ اطمینان بخش نہیں اور اتحادی افواج اور طالبان ایک دوسرے کی موجودگی کو دلیل بنا کرآپس میں برسر پیکار ہیں لیکن عدم استحکام اور خانہ جنگی کی جو صورت حال چند سال پہلے تھی اس میں کافی بہتری آئی ہے۔اس کے برعکس 9/11کے بعد پاکستان میں امن و امان کی روز بروزبگڑتی ہوئی صورت حال کو کسی طور تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کتاب کے گزشتہ ابواب میں اس بات کا ذکر کیا جا چکا ہے کہ نواز شریف کے آخری دور حکومت میں مذہبی دہشت گردی کی ایک شدید لہر اٹھی تھی جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے تھے لیکن پرویز مشرف کے دور صدارت میں نہ صرف ایک بار پھر پورے پاکستان میں مذہبی دہشت گردی نے سر اٹھایا بلکہ ایک انتہائی منظم طریقے سے حکومتی شخصیات اوراداروں پر تواتر کے ساتھ حملے ہونے لگے۔ان حملوں کی زد میں خود مشرف بھی آئے جبکہ کئی دیگر اعلیٰ عسکری عہدیداروں کو بھی منظم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ان واقعات نے نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی صورت حال پر سوالیہ نشان لگادیابلکہ دنیا کی توجہ ایک بار پھر عراق اور افغانستان سے ہٹ کرپاکستان پر مرکوز ہوگئی اور ملکی و بیرونی ذرائع ابلاغ میں ایک بار پھر پاکستان کے مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جانے لگا۔ان خدشات کو تقویت تب ملی جب 27 دسمبر2007کودو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بننے والی بے نظیر بھٹو کوبھرے مجمع میں قتل کردیا گیا۔ حکومت نے اس قتل کی ذمہ داری بیت اللہ محسوداور ان قوتوں پر عاید کی جو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بیٹھ کرملک بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہیں۔یاد رہے کہ بیت اللہ محسود اپنے پیشرو عبداللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان کے سربراہ منتخب ہوئے تھے جنہیں پاکستانی فورسز نے جولائی
2007میں بلوچستان کے علاقے ژوب میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کردیا تھا۔عبداللہ محسود کئی سالوں تک امریکی جیل گوانتا نامو بے میں قید رہا تھا۔جب2004میں وہ وہاں سے رہا ہوکے آیا تو اسے شدت پسند حلقوں میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور بعد میں وہ ان شدت پسندوں کے سب سے بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آئے حالانکہ گوانتا نامو میں قیدرہنے سے پہلے کم ہی لوگ انہیں جانتے تھے۔ حکومتی عہدیداروں کے بیانات کے مطابق طالبان کے موجودہ رہنماء بیت اللہ محسود ان لوگوں میں سے ہیں جو بیرونی امداد کے بل بوتے پرپاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔اگرچہ حکومتی حلقے واضح طور پرکسی ملک کا نام لینے سے گریزاں نظر آتے ہیں لیکن لوگوں کے پاس اس بات پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس بھرپور طریقے سے کسی ملک کی عملداری کو للکارنا کسی بیرونی امداد کے بغیرہرگز ممکن نہیں۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ 19مئی2009کو پاکستانی انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک عرب ٹی وی کے حوالے سے مشہور امریکی صحافی سیمور ہرش(Semour Hersh)سے منسوب ایک بیان شائع کیاجس میں اس نے الزام عاید کیا تھا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کے حکم پر ایک خصوصی ڈیتھ سکواڈ نے قتل کیا۔سیمور ہرش کے مطابق بے نظیر بھٹوکا قصور یہ تھا کہ اس نے 2نومبر2007میں الجزیرہ ٹی وی پر ایک انٹر ویو کے دوران کہا تھاکہ انہیں یقین ہے کہ القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن مارا جاچکا ہے اور ان کی معلومات کے مطابق اسامہ کا قتل عمر سعید شیخ نے کیا تھا جو امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے الزام میں پاکستانی حکام کی تحویل میں ہے۔سیمور ہرش کے مطابق اگرچہ انٹر ویو لینے والے برطانوی صحافی ڈیوڈ فراسٹ نے بے نظیر کے بیان کے اس حصے کو کاٹ دیا تھا لیکن امریکی رہنماء یہ نہیں چاہتے تھے کہ اسامہ کی موت کی تشہیر کی جائے کیوں کہ اس طرح افغانستان میں ان کی افواج کے تعینات رہنے کا جواز باقی نہ رہتا۔
اگرچہ سیمور ہرش نے اگلے دن خود سے منسوب اس بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے لغو اور من گھڑت قرار دیا اور روزنامہ ڈان نے بھی اس خبر پر معزرت کی لیکن وہ لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے شکوک و شبہات کو مکمل طور پر مٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ اس خدشے کابھی اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر انہیں نہ روکا گیا تو وہ اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا سکتے ہیں۔صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی کا یہ بیان ریکارڑ پر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں مصروف عمل شدت پسندوں کے ایک مہینے کا خرچہ تقریباََ دو ارب روپے کے برابر ہے جس میں جنگجوؤں کی تنخواہیں،رہائش، کھانے پینے،نقل و حمل اسلحہ اور ”شہداء“ کے خاندانوں کی کفالت کے اخراجات شامل ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ پیسے انہیں ملتے کہاں سے ہیں تو ان کا جواب تھا ”یہ سب منشیات کے پیسے ہیں جن کی کاشت افغانستان میں ہوتی ہے“ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانی طالبان کے قبضے میں ایسے علاقے ہیں جہاں وہ آسانی سے منشیات کی کاشت کر سکیں؟کیوں کہ وہ تو وہاں گوریلا جنگ میں مصروف ہیں اور اگر اتحادی فوجوں کی موجودگی کے باوجود افغانستان میں بڑے پیمانے پر نہ صرف منشیات کی کاشت ہورہی ہے بلکہ اس کی آمدنی کا بڑا حصہ پاکستان میں موجود جنگجوؤں کو مل رہا ہے تو کیا یہ پاکستان کے لئے اچھنبے کی بات نہیں؟ایسے ہی کچھ اور سوالات بھی ہیں جنکے اگر جواب مل سکیں تو شایداس بین الاقوامی کھیل کو سمجھنے میں تھوڑی آسانی ہو۔
مثلاََ یمن،سوڈان،مصر الجزائر،عراق،لیبیا،اردن، تیونس، سعودی عرب،شام اور دیگر عرب ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں جو جنگجو طویل فاصلے اور کئی ملکوں کی سرحدیں عبور کرکے جہاد کی غرض سے افغانستان یا پاکستان آئے کیا کبھی انہوں نے فلسطینی اور لبنانی عوام کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لیا؟چیچن جنگجو اپنے وطن کی آزادی کی خاطر روس سے لڑنے کے بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کس مقصد کے تحت براجمان ہیں؟اسی طرح اگر اوزبک جنگجو اپنے ملک کے حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کرنے کے بجائے بین الاقوامی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر پاکستان کی عوام اور اداروں کے خلاف نبرد آزما ہیں تو ان کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟اگر ذمہ دار پاکستانی حلقوں کی اس بات پر اعتبار کیا جائے کہ قبائلی علاقوں میں چینی مجاہدین کو بھی تربیت دی جاتی ہے جو چین کے بعض صوبوں میں علیحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں تو دراصل یہ کن کا ایجنڈا ہے؟نیز مختلف مسالک کی عبادت گاہوں پر خود کش حملوں، دینی،سیاسی و مذہبی شخصیات کا قتل،پرہجوم جگہوں پر بم دھماکے،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہلکاروں پر حملے اور مذہبی منافرت اوروحشیانہ قتل و غارت گری کے زریعے لوگوں کا قتل کرکے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کون سا انتقام لیا جا رہا ہے؟اس کے برعکس جو لوگ پاکستان کوانتشار، عدم استحکام اور خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کے درپے ہیں کیا وہ بین الاقوامی قوتوں کو مداخلت کی دعوت دے کر دراصل ان کے ان مقاصد کو انجام دینے میں مدد گار ثابت نہیں ہو رہے جن کی منصوبہ بندی بہت پہلے سے کی جا چکی ہے؟
دوسری طرف ہمیں ان سوالوں کے بھی جواب تلاش کرنے پڑیں گے کہ کیا قبائلی علاقوں میں یہ شدت پسندی اچانک ابھر کر سامنے آئی ہے؟ کیا صحیح وقت پر اس خطرے کا سدّباب نہیں کیا جا سکتا تھا۔کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ منظور نظر گروہوں کو جان بوجھ کر کھلی چھوٹ دی گئی ہوتاکہ ان کی موجودگی کو جواز بنا کر مخصوص فائدے حاصل کئے جاسکے؟ مثلاََپاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصرار کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہم نے پینتیس ارب ڈالر کا نقصان اُٹھایا جس کا ازالہ ہونا چاہئے یا پھر اس بات کی تکرار کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا اور ہماری معیشت بری ظرح متاثر ہوئی لہٰذا ہماری کھل کے مدد ہونی چاہئے۔
بات کچھ بھی ہو یہ طے ہے کہ خطے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری بدامنی نے پورے خطے کوعدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے جبکہ خطے کی عوام بے سروسامانی اور لاچاری کی حالت میں بہتردنوں کی آس لگائے بیٹھی ہے۔لیکن کیا قبائلی علاقوں اور سوات میں بد امنی،لاقانونیت اور قتل و غارت کے پہلو میں بلوچستان میں بدامنی اور شورش،پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں گاہے بگاہے ہونے والے لسانی فسادات،پنجاب میں ہونے والے خود کش دھماکوں،منظم حملوں اور قتل و غارت گری کے واقعات کے ساتھ ساتھ روزبڑھتی ہوئی دہشت گردی،مختلف مسالک کے رہنماؤں کا قتل اور امریکی و دیگر مغربی حلقوں کی خطے کے بارے میں نئی منصوبہ بندیوں کو محض اتفاق قراردیا جاسکتا ہے؟ شاید نہیں بلکہ لگتا یہی ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں نے اپنے مفادات کی جنگ کا مرکز اب پاکستان میں منتقل کردیا ہے۔
عالمی طاقتوں کی خطے میں بچھائی گئی شطرنج کی اس بساط پر مزید کون کون سے مہرے قربان ہونگے اور کس کو کب شہ مات ہوگی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
حسن رضا چنگیزی
19مئی2009

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.