پیارے یونس

پیارے یونس

پیارے یونس، آپ کا خط ملا۔ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ خیریت سے ہیں۔ آپ نے اپنے خط  میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات کی تھی۔ جواباَ عرض ہے کہ اگرچہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ بخیرو خوبی انجام پا چکا ہے لیکن عوام میں ان کے نتائج پر تجزیوں اور تبصروں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ ایچ ڈی پی نے پہلی باربلدیاتی انتخابات میں حصہ لیکر اچھی کارکردگی دکھائی ہے جبکہ مجلس وحدت المسلمین نے علمدار روڑ اور ہزارہ ٹاون سے فقط ایک ہی نشست حاصل کرکے عام انتخابات کی یاد تازہ کرادی ہے ۔علمدار روڑ کے حلقہ 9 اور 10  سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں اور ایم ڈبلیو ایم کے واحد کامیاب امیدوار نے انتہائی عجلت میں پشتونخوا میپ کی “غیر مشروط حمایت” کا اعلان کر کے وہی عمل دہرادیا ہے جو پی بی 2 سے منتخب ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے واحد ایم پی اے آغا رضا نے انجام دیا تھا ۔

 انہوں نے بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خیال سے مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر ثناءاللہ زہری کی  غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا کہ شاید ایسا کرکے وہ کوئی چھوٹی موٹی وزارت حاصل کر سکیں ۔ لیکن ان کی اس جلد بازی نے نہ صرف ان کی سادہ لوحی اور سیاست سے نابلد ہونے کا بھانڈہ پھوڑ دیا بلکہ وہ کچھ حاصل بھی نہ کر سکے ۔ دوسری جانب ایچ ڈی پی بھی آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائینس کے پلیٹ فارم سے کسی بہتر پوزیشن کے حصول میں کوشاں ہے ۔ بعض دوستوں کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اگر ہزارہ قوم کے یہ نو منتخب نمائندے کسی عجلت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے مل کر کوئی متفقہ فیصلہ کرتے تو میٹروپولیٹن سیٹ اپ میں اپنے لئے بہتر جگہ بنا سکتے تھے ۔ آج کل لوگوں میں اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ موجودہ بلدیاتی الیکشن میں اچھی کارکردگی دکھانے کے بعد کیا ایچ ڈی پی مستقبل میں اپنی نئی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برآں ہو سکے گی ؟ میرے خیال میں ایچ ڈی پی کے رہنماوں اور اراکین کو اس بات کی داد دینی پڑے گی کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بظاہر شکست کھانے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی انہوں نے عوام سے اپنا ناطہ توڑا بلکہ وہ پہلے کی طرح میدان میں ڈٹے رہے اور اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بارعوام نے ان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کردیا ۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ اب چونکہ حکمران بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کا اشارہ کرتے ہوئے ملک اور صوبے کے حالات میں بہتری کے بلند و بانگ دعوے کررہے ہیں لہٰذا توقع کی جانی چاہئے کہ ایچ ڈی پی کے منتخب کونسلرز انتہائی قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود عوامی نمائندگی کا اپنا حق بھرپور طریقے سے ادا کریں گے اور شہر میں روداری اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لئے اپنی بھر پور کوششیں کریں گے ۔

    آپ نے اپنے خط میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ایچ ڈی پی کا اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے ۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں ۔ اس وقت مجھے میرے ایک سینئر دوست کی بات یاد آرہی ہے جو کہا کرتے تھے کہ “اپوزیشن کی سیاست ہمیشہ آسان ہوا کرتی ہے کیوں ایسے میں مد مقابل پر صرف تنقید کرکے اور الزامات لگا کرتمام ذمہ داریوں سے بری ہوا جاسکتا ہے جو کہ اتفاق سے دنیا کے آسان ترین کاموں میں سے ایک ہے ۔ لیکن جب کسی کو تھوڑے بہت اختیارات مل جائیں تو عوام کی ان سے توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں” میرے خیال میں ہمیں اس بات کی توقع رکھنی چاہئے کہ جنہوں نے حکومتی اداروں میں رسائی نہ ہونے کے باوجود ہر قدم پر قوم کی نمائندگی کا حق ادا کیا اور اپنی سیاست اورپالیسیوں کی بدولت کوئٹہ شہر کو خانہ جنگی سے بچائے رکھا مستقبل میں بھی اپنے فرائض بھر پور طریقے سے ادا کرتے رہیں گے ۔ آپ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ فی زمانہ کوئٹہ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کی بحالی ہے ۔ اگر ایچ ڈی پی کے نو منتخب بلدیاتی اراکین شہر کے دیگر امن پسند طبقات سے مل کر کوئٹہ کو اس کا پرانا امن لوٹا سکیں تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔ اس کے لئے لازمی ہوگا کہ ایچ ڈی پی ہزارہ قوم کی نمائندہ پارٹی کی حیثیت سے شہر اور صوبے کی دیگر اقوام کے ساتھ تعلقات کو مذید فروغ دینے کیلئے ان سےمسلسل رابطہ برقرار رکھیں اور انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ کوئٹہ سب کا مشترکہ گھر ہے اگر اس کے کسی کونے میں آگ لگی ہو تو سب کا فرض بنتا ہے کہ مل کر اس آگ کو پھیلنے سے روکیں قبل اس کے کہ آگ پورے گھر کو بھسم کرکے رکھ دے  ۔

ڈیئر یونس ۔ مجھے یاد ہے کہ جب حسین علی یوسفی ایچ ڈی پی کے چیرمین تھے تو اپنی شہادت سے قبل انہوں نے ایک قومی مصالحتی پروگرام کا آغاز کیا تھا ان کی خواہش تھی کہ کسی طرح قوم کے مختلف طبقات کے درمیان ایک ایسے مکالمے کی ابتداء ہو جس کے نتیجے میں آپس کی دوریاں  کم ہوں اورمشکلات کا مل کر مقابلہ کیا جاسکے ۔اس سلسلے میں وہ ہراس شخصیت اور ادارے سے ملنا چاہتے تھے جو ان کے سیاسی مخالف تصور کئے جاتے تھے ۔اب اسے قوم کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپنا یہ مشن پورا نہیں کرنے دیا گیا ۔ میرا خیال ہے کہ ایچ ڈی پی کی موجودہ قیادت شہید یوسفی کے ادھورے مشن کو مکمل کرنے کے لئے دوبارہ ایک ایسے ڈائیلاگ کا آغاز کر سکتی ہے جو معاشرے میں سیاسی شائستگی ، برداشت اور تحمل کو فروغ دے سکے ۔ ایسا کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات میں موجودغلط فہمیوں کا اذالہ کرنے اور دوریاں کم کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے جن کی معاشرے کواشد ضرورت ہے ۔ ایچ ڈی پی کوان وجوہات کا بھی جائزہ لینا ہوگا اور ان رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہوگاجن کی بدولت ہزارہ معاشرے کے کچھ حلقات ان کے نزدیک آنے سے کتراتے ہیں۔

پیارے یونس! جی چاہتا ہے کہ خط کے آخر میں کل بروز بدھ ہونے والے ناخوشگوار واقعے پر کچھ بات کروں ۔ اس  واقعے کے بعد سے ایک سوال جو بہت سارے لوگوں کی طرح میرے بھی دماغ میں گونج رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر انار کے کریٹوں کا ٹرک سینکڑوں میل دور کسی اور ملک سے پیک ہو کے آتا ہے اور ان میں قرآنی اوراق پائے جاتے ہیں تو اس میں کوئٹہ کے عوام بالخصوص ہزارہ قوم کا کیا قصور جو نہ تو اس کافر انار کو اگانے کے مجرم ہیں نہ ہی اس کے کاروبار میں شریک ۔ بلکہ اب تو یہ بات بھی کنفرم ہو گئی ہے انار کے کریٹوں میں قرآنی اوراق تھے ہی نہیں بلکہ وہ کسی فارسی ادبی کتاب کے صفحات تھے جن میں تصویریں مضامین اور اشعار شامل تھے ۔ جب سے میں نے فیس بک پر ان اوراق کی تصویریں دیکھی ہیں تب سے افسوس کے ساتھ ساتھ مجھے اپنی ہنسی پر قابو پانا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے یہ غیرت مند مسلمان بھائی جو قرآن کی توہین کا بدلہ لینے بے گناہ لوگوں کی جائدادوں کو آگ لگا رہے ہیں انہوں نے کبھی قرآن پڑھا ہی نہیں ورنہ وہ اعراب لگے عربی رسم الخط اور فارسی میں فرق پہچان لیتے ۔ اب تو بس یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے یہ جوشیلے اور” باغیرت “مسلمان ان اناروں کو کافر قرار دے کر کسی نالی میں پھینک آتے ہیں یا متبرک کہہ کر دوگنے داموں فروخت کرتے ہیں ؟  

مجھے آپ کے اگلے خط کا انتظار رہے گا۔

آپ کا دوست

حسن رضا چنگیزی

12 دسمبر 2013                                    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.