شیطانِ بزرگ اور مونگ پھلی کے دانے

شیطانِ بزرگ اور مونگ پھلی کے دانے   

5 جولائی 1977 کو جب جنرل ضیاءالحق نے ایک فوجی اقدام کے زریعے منتخب پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تواکثر لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں بھی تبدیلی کا ایک بڑا لاوا پھٹنے کے قریب تھا ۔ 27 اپریل 1978 کے دن جب افغانستان میں سردار داود کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اورحزب دیموکراتیک خلق افغانستان (PDPA) کے رہنماء نور محمد ترہ کئی نئی کیمونسٹ حکومت کے پہلے سربراہ منتخب ہوئے تو پاکستان میں ضیائی مارشل لاء کے نفاز کو محض 9 مہینے گزر چکے تھے ۔ اور جب 11 فروری 1979 کوشہنشاہ ایران رضا شا پہلوی کی حکومت برطرف کردی گئی اورآیت اللہ خمینی اسلامی انقلاب کے نعرے کے ساتھ وارد تہران ہوئے تو افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے قیام کو صرف 10 مہینے کا عرصہ گزر چکا تھا ۔

ڈیڑھ سال کے انتہائی مختصر عرصے میں رونما ہونے والی ان تبدلیوں کو اکثر لوگ شاید محض اتفاق قرار دیں لیکن سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والے لوگ خطے میں رونما ہونے والے ان پے درپے واقعات کو ایک حسین اتفاق سمجھنے پر ہرگز تیار نہیںبلکہ وہ انہیں پہلے سے طے شدہ منصوبوں کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں دراصل شطرنج کے اس کھیل کا حصہ تھیں جسے دو عالمی طاقتیں مل کرکھیل رہی تھیں جب کہ جنرل ضیاء اور افغانستان کے کیمونسٹ حکمران تو شطرنج کی اس بازی کے محض مہرے تھے جو وقت آنے پر بڑی بے دردی سے قربان کردئے گئے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران جسکا سب سے پسندیدہ نعرہ ” امریکہ مردہ باد ” تھا، جس کی نظر میں امریکہ یعنی “طاغوت”پر تبریٰ بھیجنا احسن ترین کاموں میں سے ایک تھا اور جو “لا شرقی لا غربی” کے نعرے کو اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کا اہم جزو سمجھتا تھا زیادہ دیر اپنے آپ کو اس بین الاقوامی کھیل سے علیحدہ نہ رکھ سکا اور” شیطان بزرگ” امریکہ کی خواہشات کے عین مطابق ایک مہرے کی حیثیت سے میدان میں کود پڑا ۔ جس طرح ضیاءالحق نے “اسلام کو بچانے اور سرخ سیلاب کی راہ میں بند باندھنے” کا نعرہ مستانہ بلند کرکے پورے ملک کو جہاد کے نام پر امریکی مفادات کی جنگ میں جھونک دیا بالکل اسی طرح ایران نے بھی افغانستان میں اپنے منظور نظر گروہوں کو سوویت فوجوں کے خلاف جہاد پر اُکسا کر بالواسطہ امریکیوں کو مدد فراہم کی ۔ افغان جہاد میں ایران کی شرکت امریکہ کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں تھی جو ایک طرف تو شدت سے “مرگ بر آمریکا” کے نعرے لگا رہا تھا جبکہ دوسری طرف سوویت یونین کے خلاف جہاد میں مصروف گروہوں کو اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کرکے امریکی مفادات کی تکمیل میں مصروف تھا ۔ یہ بات تو طے ہے کہ جنرل ضیاء اپنی جہادی خدمات کے عوض امریکہ سے سالانہ اربوں ڈالر تنخواہ وصول کرتا تھا جسے وہ”مونگ پھلی کے دانوں” سے تشبیہ دیتا تھا ۔ اس تنخواہ کی ادائیگی عرب ملکوں کے ذمے تھی اور یہی عرب ممالک اس جہاد کے زیادہ تر اخراجات اٹھانے کے بھی پابند تھے ۔

سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن افغان جہاد سے متعلق امریکی کردار کا برملا اعتراف کر تے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ ” ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ آج ہم جن کے خلاف لڑ رہے ہیں ہم نے ہی بیس سال پہلے ان کی فنڈنگ کی تھی ۔ یہ کام ہم نے اس لئے انجام دیا کیوں کہ تب ہم سوویت یونین کے خلاف نبرد آزما تھے جس نے افغانستان پر حملہ کردیا تھا ۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ وہ وسط ایشیاء پر کنٹرول حاصل کرے لہٰذا ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا ۔ اس سلسلے میں ریگن انتظامیہ نے کانگریس سے مشورہ کیا جہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے چلیں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں اور سعودی عرب اور دیگر ممالک سے مجاہدین بھرتی کرواتے ہیں جو اپنا وہابی برانڈ اسلام وہاں لے کر آئیں تاکہ سوویت یونین کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین کو شکست ہوگئی اور اُسے اربوں ڈالر کا نقصان آٹھانا پڑا جو بالآخر اس کے ٹوٹنے کا باعث بنا ۔آج ہم جو کچھ کاٹ رہے ہیں یہ اسی فصل کا ثمر ہے جو ہم نے بویا تھا” ۔

مونگ پھلی کے دانوں کے عوض سوویت یونین کے خلاف اس امریکی جہاد میں ہمارا کیا کردار رہا ؟ اس بارے میں آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر اور افغان جہاد کے روح رواں بریگیڈئر محمد یوسف اپنی کتاب شکست روس (The Bear Trap) میں لکھتے ہیں ۔”اگرچہ ولیم کیسی(سی آئی اے چیف) نے اس بات کی تجویز دی تھی کہ (وسط ایشیائی ریاستوں میں)ایسی پروپیگنڈہ کتابیں بھیجی جائیں جن میں ازبکوں پر کئے گئے روسی مظالم کا ذکر ہولیکن میرا اصرار تھا کہ روسی اور ازبکی ترجمے والے قرآن مجید بھیجنا ذیادہ بہتر ہوگا ۔ نتیجتاَ پہلی کھیپ میں سی آئی اے نے ہمارے لئے قرآن مجید کے دس ہزار نسخوں کا بندو بست کیا جو ان علاقوں میں بھیج دئے گئے ۔ 1988 میں ہم نے ایک بار پھر سی آئی اے سے قرآن مجید کے مذید نسخوں کا مطالبہ کیا جوہمیں مہیا کردئے گئے ۔ حالات غیر متوقع طور پر امید افزاء تھے ۔ کثیر تعداد میں جوشیلے نوجوانوں نے ہم سے ہتھیار بھی طلب کئے اور اپنے علاقوں میں فی الفور جہاد شروع کرنے کی اجازت مانگی جبکہ کئی جوانوں نے مجاہدین کے ساتھ مل کرافغانستان میں جہاد پر آمادگی بھی ظاہر کردی ” ٭صفحہ -264۔257
افغان امریکی جہاد میں پاکستان کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بریگیڈیر یوسف نے اپنی مذکورہ کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ “1981 سے 1984 تک ہم باقاعدہ پاکستانی افواج کو افغانستان بھیجا کرتے تھے ۔ میں بڑے وثوق سے یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ انہیں میں خود منتخب کرتا اور بھیجنے سے پہلے انہیں ان کا کام تفصیل سے سمجھا دیتا تھا ۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جاسوسی کی غرض سے نہیں جاتے تھے بلکہ وہ پاکستان کے باقاعدہ فوجی تھے ۔ جو اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ جہاد میں عملی حصہ لیتے تھے ۔ یہ لوگ مجاہدین کو پیشہ ورانہ رائے دیتے اور ان کے مشیر کے طور پر کام کرتے ۔ تیل کی پائپ لائنوں کو اڑانا،ہوائی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کرنا اور گھات لگاکے حملہ کرنا ان کے مخصوص کام تھے ۔ عام طور پر ہماری ٹیم میں ایک آفیسر ایک جونئیر کمیشنڈ آفیسر اور ایک نان کمیشنڈ آفیسر شامل ہوتا ۔ ان میں سے کسی ایک کا پشتو زبان پر عبور رکھنا لازمی ہوتا تھا ۔ میں ٹیم کے ہر رکن کو تاکید کرتا کہ انہیں کسی بھی صورت میں گرفتار نہیں ہونا ۔ ہماری ٹیم کے لوگ دوران تربیت داڑھی رکھ لیتے اور انہی کی طرح لباس پہنتے تاکہ ان کی پہچان نہ ہو “۔٭ صفحہ 157-159
اس مقدس جہاد کو کامیاب بنانے کی خاطرجہاں امریکہ نے پاکستان ، عرب ممالک اور اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان کے سنّی جہادی گروپوں پر مشتمل سات جماعتی اتحاد تشکیل دیا وہاں ایران نے شیعہ گروہوں پر مشتمل آٹھ جماعتی اتحاد کو میدان میں اُتارا جنہوں نے جہاد اور آپس کی خانہ جنگیوں میں کابل کو کھنڈر اورافغانستان کو قبرستان میں تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ یہ بات لوگوں کے لئے ہمیشہ حیرت کا باعث بنی رہی کہ بظاہر خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران اپنے ہی خرچے پر امریکی مفادات پر مبنی اس جہادی کھیل میں کیوں کود پڑا ؟ ۔
سوویت یونین کو شکست سے دوچار کرنے کا خیال اتنا سحر انگیز اور کانوں میں رس گھولنے والا تھا کہ پاکستان اور ایران اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکے کہ ایک عالمی طاقت کی شکست و ریخت میں کرائے کے فوجیوں کا کردارادا کرکے انہوں نے خطے کے عوام کو کن مشکلات سے دوچار کردیا ہے ؟ شطرنج کی اس بساط پر لاکھوں پیادوں کے علاوہ اپنے کچھ اہم مہروں کی قربانی دینے اور “قطبی ریچھ” یعنی سوویت یونین کو شہہ مات دینے کے بعد امریکہ تو ہاتھ جھاڑ کے چلا گیا لیکن اس سے عالمی طاقت کے توازن میں جو بگاڑ پیدا ہوا یہ اسی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کسی جنگلی سانڈ کی طرح جس طرف چاہے منہ اُٹھا کے سرپٹ دوڑ پڑتا ہےاور راستے میں آنے والی ہر چیز کو پیروں تلے روندھتا چلا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ امریکی مفادات کی لڑائی میں کود کر پاکستان اور ایران نے کیا حاصل کیا ؟ سوائے اس کے کہ پورے خطے کو فرقہ وارانہ اور عرب عجم پراکسی جنگ کی بھٹی میں جھونک کر رکھ دیا ۔ تیل کی دولت سے مالامال ایران امریکہ کی عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو سنبھالنے میں کامیاب رہا لیکن ہم خطے میں جہاد کے نام پر بھڑکائی گئی آگ سے اپنا دامن نہ بچا سکے اورہماری بے وقوفیوں کے باعث پورا ملک جہاد کی ایک نرسری میں تبدیل ہوکے رہ گیا ۔
افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے اور وسط ایشیائی ریاستوں پراپنا تسلط جمانے کی خاطرہم نے ایک کے بعد ایک ناکام تجربے کئے ؟ افغانستان میں اپنی من پسند حکومت بنانے کی خاطر کبھی ہم نے اسلام آباد میں مجاہدین کی محفل سجائی تو کبھی پشاور میں جہادی رہنماوں کا میلہ لگایا، کبھی قرآن پر ہاتھ رکھوا کر ان سے وفاداری کے وعدے لئے تو کبھی خانہ کعبہ میں لے جاکر ان سے تابعداری کا حلف لیا اور جب کابل پر قبضے کے لئے یہ مجاہدین ایک دوسرے کا گلا کاٹنے میں مصروف تھے تب ہم نے طالبان کے نام سے ایک نئی فورس تشکیل دی تاکہ آئے روز کے جھنجٹ سے جان چھوٹے ۔ طالبان نے افغانستان میں کیا گل کھلائے اور وہاں سے پسپا ہونے کے بعد انہوں نے پاکستان کی کیا درگت بنائی اس پر بات کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں کیوں کہ یہ ماضی کی کوئی بُھولی داستان نہیں بلکہ حال کا قصہ ہے جسے ہم آئے روز سنتے رہتے ہیں ۔
آج ہمارے حکمران اور سیاست دان یہ کہتے نہیں تھکتے کہ “یہ ہماری جنگ نہیں” لیکن کاش جب ہم سی آئی اے سے قرآن چھپوا کر افغان جہاد میں برکت ڈال رہے تھے تب کوئی منور حسن بول پڑتا کہ قرآن کو اس جنگ میں مت گھسیٹو کیوں کہ یہ ہماری جنگ نہیں ۔ کاش جب کابل کو کھنڈر اور افغانستان کو قبرستان میں تبدیل کیا جارہا تھا تب کوئی عمران خان سڑکوں پر دھرنا دے کر بیٹھ جاتا اور کہتا کہ اس جنگ میں مت کُودو کیوں کہ یہ ہماری جنگ نہیں اور کاش جب طالبان افغانستان کے درختوں ، کھمبوں اور چوراہوں پرانسانی لاشیں لٹکارہے تھے تب کوئی چوہدری نثار کہیں سے نمودار ہوتا اور چیخ چیخ کر کہتا کہ اس جنگ سے دور رہو کیوں کہ یہ ہماری جنگ نہیں ۔۔۔
اگر ایسا ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ لیکن تب ہم گرم اور خستہ مونگ پھلیوں کا مزہ اُٹھانے میں مصروف تھے ۔

ڈان اردو پر پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک کھولئے ۔

شیطان بزرگ اور مونگ پھلی کے دانے
http://urdu.dawn.com/news/1000898/24dec13-riza-changezi-shaitaan-buzurg-the-bear-trap-aq/1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.