دیر لگی آنے میں تم کو

دیر لگی آنے میں تم کو

1045066_526988070684165_1830703032_n

فروری بروز ہفتہ کوئٹہ کو پاک صاف کرنے کی خاطر اسے ایک بار پھر ہزارہ قوم کے خون سے غسل دیا گیا۔ابھی کچھ ہی ہفتہ پہلے یعنی  10جنوری 2013 کو جب دنیا نئے سال کا جشن منارہی تھی کوئٹہ کے  علمدار روڑ پرہزارہ قوم کے درجنوں افراد کو خون میں نہلا کرانہیں نئے سال کا تحفہ دیا گیاتھا۔ تب بہت سے لوگوں نے پہلی بار سی فور نامی کسی دھماکہ خیز مواد کے بارے میں سنا۔اس ہلاکت خیز مواد نے جو تباہی پھیلائی اس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت نوے سے زیادہ  افراد ہلاک ہوئے۔ایک درجن سے زیادہ لوگ ایسے تھے کہ جن کا نام و نشان بھی نہ مل سکا۔
10 جنوری کو علمدار روڑ پر ہونے والے واقعہ کے بعد ہزارہ قوم کے پرامن احتجاج اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلوچستان میں  رئیسانی حکومت ختم  کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔اس اقدام سے اگرچہ مقتولوں کے لواحقین اور ہزارہ قوم کے زخموں پر بظاہر کچھ مرہم رکھنے کی کوشش ضرور کی گئی لیکن حکومت انہیں مکمل طور پر مطمئن ہر گز نہ کرسکی۔حکومت کے بلند و بانگ دعوے اپنی جگہ لیکن عوام کو گورنر راج سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں۔ایف سی اس سے قبل بھی کوئٹہ میں تعینات تھی اور اسے پولیس کے مکمل اختیارات بھی حاصل تھے لیکن اسکے باوجودکوئٹہ میں قتل عام جاری تھا۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گورنر راج کے بعد مٹھی بھر دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کرکے انہیں گرفتار کیا جاتالیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوابلکہ لوگوں کو اس بات کی شکایت رہی کہ گورنر راج اور فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی آڑ میں بلوچ قوم پرستوں کے خلاف شکنجہ تنگ کیا جا رہا ہے۔کوئٹہ کے عوام بالخصوص ہزارہ قوم کے افراد ایسی کسی خبر کے منتظر ہی رہے جو ان کے اطمینان کا باعث بنتی۔اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے واقعے کے صرف ایک ہی مہینے کے بعدایک اور ہزارہ نشین علاقے ہزارہ ٹاون میں پہلے سے بھی بڑا سانحہ رونما ہوگیا۔حالانکہ یہ بات ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا تھاکہ دہشت گرد ایک ایسی صوبائی اسمبلی کی برطرفی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے جس کے بعض ارکان پر یہ الزام ہو کہ وہ نہ صرف ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے تھے بلکہ انہیں بھر پور تحفظ بھی فراہم کرتے تھے۔
یہ بات یقینی تھی کہ یہ دہشت گرد گورنر راج کو چیلنج کرنے کی بھرپورکوشش کریں گے اورایسا ہی ہوااور ایک بار پھر کوئٹہ کو معصوم اور بے گناہ ہزارہ بچوں،عورتوں،بوڑھوں اور جوانوں کے خون سے نہلادیا گیا۔ یہاں بھی جو بات عام لوگوں کے لئے بھی تعجب کا باعث تھی وہ یہ کہ ایک ہزار کلو یعنی ایک ٹن انتہائی مہلک اور جدید بارودی مواد کیسے حادثے کی جگہ تک پہنچا۔جبکہ کوئٹہ کے رہنے والے اس بات کا آئے روز مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جگہ جگہ کھڑے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار عام آدمی کی کس طرح تفصیلی جامہ تلاشی لیتے اور ان کی کیا درگت بناتے ہیں۔حتیٰ کہ جو لوگ اپنی حفاظت کی خاطر کوئی چھوٹا موٹا قانونی اسلحہ بھی پاس رکھتے ہیں ان کے ساتھ بھی انتہائی درشت رویہ روا رکھا جاتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی اتنی بڑی مقدار میں اتنا مہلک مواد لیکر بغیر کسی رکاوٹ کےآ سانی سے اپنے ہدف تک پہنچ سکے؟ایسے میں ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ شاید قانوں نافذ کرنے والے اداروں میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان دہشت گردوں کا ساتھ دیتے ہیں۔اس سے پہلے بھی کوئٹہ اور اطراف میں ہزارہ قوم کے خلاف دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے ان میں ایک بات واضح طور پر نوٹ کی گئی کہ قاتلوں کا تعاقب کرنے کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ان میں سے اکثر واقعات ایسے مقامات پر رونما ہوئے جہاں نزدیک ہی ایف سی یا پولیس کی چیک پوسٹ موجود تھی ۔بعض اوقات تو دو چیک پوسٹوں کے درمیان ایسے خونریز واقعات ہوئے جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔لوگ آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ جب  ستمبر2011 میں سابق وزیر اعلیٰ کے آبائی علا قے مستونگ میں زائرین کو بسوں سے اُتار کراوراُنہیں ایک قطار میں کھڑاکرکے شناخت کے بعد قتل کیا جارہا تھاتواس دوران تقریباَآدھے گھنٹے تک اس بین الاقوامی شاہراہ پردونوں اطراف کی ٹریفک کو کس نے روکے رکھا تھا؟لوگ آج تک اس سوال کابھی جواب نہیں ڈھونڈھ پائے کہ جب کچھ سال قبل  بلوچستان کے ایک طاقت ور وزیر عاصم کرد گیلو کے گھر پر ایک مبینہ خود کش دھماکہ ہوا تھا تو اس کے پیچھے کیااصل کہانی پوشیدہ تھی؟اس واقعے کہ تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں اوراس کا کسی نے نوٹس کیوں نہیں لیا؟ یہ وہ سارے سوالات ہیں جن کے جوابات اگر مل سکیں تو شاید کوئٹہ میں ہزارہ قوم کی نسل کشی کی گھتی سلجھانے میں تھوڑی مدد مل سکے۔لیکن کیا کیا جائے کہ اب بھی  کچھ ایسے لوگ اور حلقے موجود ہیں جو ہزارہ قوم کی دلجوئی یا ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مسلسل نمک پاشی میں مصروف ہیں۔پیپلز پارٹی کے ایک رہنما آیت اللہ ”درانی“جو کبھی اپنے آپ کو”تورانی“ کہلوانا زیادہ پسند کرتے تھے انہی لوگوں میں سے ایک ہے۔ان کا فرمان ہے کہ ہزارہ خود ہی ایک دوسرے کوقتل کررہے ہیں تاکہ اس بہانے آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرسکیں۔جب کہ بعض حلقے ایسے بھی ہیں جن کی کوشش ہے کہ ہزارہ نسل کشی کا الزام بلوچ قوم پرستوں کے سر تھونپ کے اصل قاتلوں کوتحفظ فراہم کریں۔
ہزارہ قوم اور بلوچستان کے تمام امن پسند حلقے ایک عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے،ان کے مراکز کا خاتمہ کیا جائے اوران کے سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے۔لیکن ان کے مطالبات پر کبھی کسی نے کان نہیں دھرا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے قتل عام میں تیزی آگئی اور جنس اور عمر کی پرواہ کئے بغیران کا خون بہایا جانے لگا۔جنوری کے واقعے کے بعد مقتولوں کے لواحقین اور ہزارہ قوم نے جس پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایاوہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے جس کو دیکھتے ہوئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ سراپا احتجاج بن گئے لیکن سب نے دیکھا کہ ان دہشت گردوں پہ پھر بھی ہاتھ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔جس کا نتیجہ16فروری کے سانحے کی صورت میں سامنے آیا،اب جبکہ حکومت نے بظاہرکچھ دلچسپی دکھاتے ہوئے ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے تب بھی ذہنوں میں وہی خدشات اپنی جگہ موجود ہیں کہ کیا ریاستی ادارے اس مرتبہ اپنے کام میں واقعی سنجیدہ ہیں یا ایک بار پھر ہزارہ قوم کومحض لوری دینے کی کوشش ہو رہی ہے؟ کیا ان دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں بھی لایا جائے گا یا ایک بار پھر ان کو فرار ہونے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے؟اگر ہمارے ادارے اپنے کام میں واقعی مخلص ہیں تو پھر مجھے ایک سوال کرنے کی اجازت دیجئے کہ کیا یہ کام پہلے انجام نہیں دیا جاسکتا تھا؟ کیا اس کے لئے سینکڑوں معصوموں کی قربانی لازمی تھی؟کیا ان قاتلوں کے خلاف کوئی ایکشن کرنے کے لئے عورتوں اور معصوم بچوں کی کٹی پھٹی اور سوختہ لاشوں کا انتظار کیا جا رہا تھا؟ کیا اب ہمارے بچے بلا کسی خوف اسکول جا سکیں گے؟کیا ہماری مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے وقت اس بات کی توقع کر سکیں گی کہ جن کو وہ پال پوس کے بڑا کر رہی ہیں کسی دن ان کے جسم کے ٹکڑوں کو کسی شاپر میں جمع کرنے کی نوبت نہیں آئے گی؟
جان کی امان پاوں تو یہ بھی عرض کروں کہ سپریم کورٹ بھی تو اپنا سو موٹو نوٹس پہلے لےسکتا تھا ۔لیکن کیا کریں کہ ہم فریاد ہی کرسکتے ہیں اور شاید صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ

                                           دیر لگی آنے میں تم کو۔  شکر ہے پھر بھی آئے تو       

یہ مضمون ڈان اردو پر پڑھنے کے لئے دیکھئے ۔ 

     دیر لگی آنے میں تم کو

http://urdu.dawn.com/2013/02/23/dair-lagi-aane-mein-tum-ko-riza-changezi-aq/

 

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں