ہزارہ قتل عام تیسری قسط

ہندوستان کی مداخلت

  Hazara Genocide! Territorial Conflict and Iran-Saudi proxy war

    ایک بات طے ہے کہ کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا دارو مدار بڑی حد تک امن و امان کی مجموعی صورت حال پر ہوتا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری بلکہ مسلسل بڑھتی بد امنی کے باعث جہاں ملکی معاملات پر ریاست کی گرفت کمزور پڑنے لگی ہے وہاں لوگوں کا ریاست پر سے اعتماد بھی اٹھنے لگا ہے ۔ اسی بدامنی کے باعث ملک میں بیرونی سرمایہ کاری تقریباَ رک سی گئی ہے اور مقامی سرمایہ دار ملک چھوڑ کر بھاگنے لگے ہیں ۔ اسی طرح ادارے بھی تباہی کے جس دہانے پر کھڑے ہیں اور ملک کو معاشی شعبے میں جس بحران کا سامنا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ اس صورت حال کا ایک براہ راست فائدہ پاکستان کے روائتی حریف ہندوستان کو مل رہا ہے جو نہ صرف بڑی تیزی سے معاشی استحکام حاصل کر رہا ہے بلکہ خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے بھی خود کو تیار کررہا ہے ۔ پاکستان اور ہندوستان ہمیشہ ایک دوسرے پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات لگا تے رہے ہیں ۔ اگر ہندوستان دسمبر 2001 کے انڈین پارلیمنٹ پر حملے اور 2008 کے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتا آرہا ہے تو پاکستان بھی اپنی سرزمین پر شورش اور بدامنی کے بیشتر واقعات کے ذمہ دار انڈیا کو قرار دیتا آرہا ہے ۔ پاکستانی حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کو  بھارت کی سرپرستی حاصل ہے جبکہ افغانستان میں موجود بھارتی سفارت خانوں کو بھی پاکستان میں بدامنی اور شورش کو ہوا دینے میں ملوث قرار دیا جاتا ہے ۔

    اس بات میں کسی شک اور شبہے کی گنجائش نہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے مشرقی ہمسایہ بھارت کو ہی اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیا ہے ۔ مغرب میں موجود ایران اور شمال مشرق میں واقع چین ہمیشہ پاکستانی دوستوں کی صف میں شامل رہے ہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مختلف اوقات میں نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں ۔ پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی کےحصول کے لئے تگ و دو بھی اسی لئے کی کیوں کہ اسے ہندوستان کے مقابلے کے لئے تیار رہنا تھا ۔ مئی 1998 میں جب پاکستان نے چاغی میں اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو یہ کچھ ہفتے قبل پوکھران میں کئے گئے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب تھا ۔

       ان باتوں کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ بعض لوگ بلوچستان میں بد امنی اور ہزارہ قتل عام کی ایک وجہ پاک چین تعلقات اور بھارت سے اختلافات کو قرار دیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں گوادر پورٹ کی جغرافیائی اہمیت اور اسے چین کے حوالے کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس سے امریکہ سمیت ہندوستان بھی ناخوش نظر آرہا ہے ۔ بلوچ علیحدگی کی تحریک کو بھی بعض حلقے اسی کشمکش کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں ۔ میری نظر میں اگرچہ بلوچستان میں چینی اثرو نفوذ کا ہزارہ قتل عام سے کوئی براہ راست تعلق نہیں البتہ ان سرگرمیوں کا بالواسطہ اثر ہزارہ قوم کی زندگیوں پر ضرور پڑا ہے جس پر آگے چل کر بات کرنے کی کوشش کروں گا ۔

ایران سعودی پراکسی جنگ ۔

    ہزارہ قتل عام کی وجوہات میں ایک وجہ ایران اور سعودی عرب کی کشمکش کو بھی قرار ریا جاتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس پراکسی وار کو ہی ہزارہ نسل کشی کا سب سے بڑا سبب سمجھا جاتا ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔ بعض لوگ اس جنگ کو چودہ سو سالوں سے جاری مسلکی اختلافات کا تسلسل قرار دے کر ایک ہی جملے میں اس بحث کو لپیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن جس طرح میں نے بحث کے آغاز میں کہا تھا کہ فی زمانہ عقیدہ یا مسلکی اختلافات کو بڑی خوبصورتی سے محض بطور ایک محرک (Motive) استعمال کیا جارہا ہے جبکہ اصل اہداف (Objectives) سیاسی اور معاشی مفادات اور طاقت کا حصول ہیں لہٰذا میرا خیال ہے کہ عرب ایران پراکسی جنگ کے پیچھے بھی یہی حکمت عملی کارفرما ہے ۔

       پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں سے جاری اس بالواسطہ جنگ کو سمجھنے کے لئے ہمیں ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھنا ہوگا ۔

     ایرانی انقلاب ایک ایسے وقت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا جب پاکستان میں ضیائی آمریت اپنے پنجے مظبوطی سے گاڑھ چکی تھی اور افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف جہاد کی تیاریاں ہورہی تھی ۔ ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد جو نئے نعرے بلند ہوئے ان میں ۔ “اسلام مرز ندارد” کے نعرے کو بڑی مقبولیت حاصل تھی جو دراصل ایرانی ملاؤں کی” اسلامی انقلاب ” کو ایرانی سر حدوں سے باہر برآمد کرنے کی خواہش کا اظہار تھا ۔ اگر یہ خواہش صرف نعرے تک محدود رہتی تو شاید ایرانی انقلاب کے مخالفین اس کی ذیادہ پرواہ بھی نہ کرتے لیکن جب اسے ایک فلسفے کی حیثیت دے کر ایران نے اپنے انقلاب کے ثمرات بیرون ملک خصوصاَ پاکستان برآمد کرنے کے عمل کا آغاز کیا تو نتیجے میں ان کے مخالفین عرب ممالک بھی خم ٹھونک کر میدان میں کود پڑے ۔

       یہ ایک اتفاق ہرگز نہیں تھا کہ ایرانی انقلاب کی کامیابی کے محض کچھ مہینوں کے بعد پاکستان میں تحریک نفاذ فقہہ جعفریہ کے نام سے ایک ایسی شیعہ تنظیم وجود میں آئی جس نے پاکستان میں جعفری فقہہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی پاکستان میں بھی ایران جیسا انقلاب برپا کرنے کا نعرہ بلند کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان میں  عرب جہادیوں کی آمد شروع ہو گئی تھی جنکا مقصد بظاہر سوویت یونین کے خلاف جہاد میں حصہ لینا تھا ۔ اسی دوران خلیجی عرب ممالک کی سرپرستی میں نہ صرف پورے پاکستان میں دینی مدرسوں کے نام پر جہادیوں کی تربیت گاہوں کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا بلکہ علاقے میں ایرانی اثرات کے خاتمے کے لئے مختلف فرقہ پرست گروہوں کو نوازنے کی بھی ابتدا ہوئی ۔ عرب ممالک سے آنے والے جنگجو چونکہ لمبے عرصے کے لئے پاکستان آتے اس لئے وہ اپنا پورا کنبہ ساتھ لیکر آتے ۔ مقامی آبادی میں گھل مل جانے اور ان کی مکمل حمایت حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے نہ صرف یہاں کے باشندوں سے اپنی لڑکیوں کی شادیاں کروائیں بلکہ ان کے لئے اپنے خزانوں کے منہ بھی کھول دئے ۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان کی سرزمین پر سعودی عرب اور ایران کی کشمکش اور پراکسی جنگ کا آغاز ہوا ۔

      پاکستان میں فرقہ واریت کے حوالے سے 1985 کو بڑی اہمیت حاصل ہے جب تحریک نفاذ فقہہ جعفریہ نے ملک میں جعفری فقہہ کے نفاذ کی خاطر پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا ۔ تب علامہ عارف حسین حسینی مذکورہ تنظیم کے سربراہ تھے ۔ ان کا شمار ایرانی رہنماء آیت اللہ خمینی کے قریبی لوگوں میں ہوتا تھا ۔ کوئٹہ میں ہونے والے ایسے ہی ایک احتجاج کے دوران کچھ مقامی ملاؤں نے مطالبات کی منظوری سے انکار کی صورت میں کوئٹہ کو لبنان بنانے کی دھمکی دے ڈالی ۔ تب لبنان مختلف گروہوں کے درمیان شدید خانہ جنگی کا شکار تھا ۔ ان ایران پلٹ ملاؤں کی اس دھمکی کا بھی بظاہر یہی مقصد تھا کہ وہ کوئٹہ کو لبنان بنانے کے درپے تھے ۔ ملاؤں کی ان تندوتیز تقاریر کے باعث مظاہرے نے خون ریز شکل اختیار کرلی جس میں پولیس سمیت کئی عام شہری مارے گئے ۔ بعض لوگوں نے اس واقعے کو شیعہ سنی تصادم کا نام دیا جبکہ ضیائی مارشل لاء کے زیر اثر زرائع ابلاغ نے بھی اس واقعے کو خوب اچھالا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ  اس واقعے کے بعد نہ صرف پاکستان کے مختلف مسالک کے درمیان دوریاں بڑھتی گئی بلکہ اس سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کو اپنے منظور نظر گروہوں کی حوصلہ افزائی کا بھی بہانہ ہاتھ آیا ۔

    6 جولائی کے اس واقعے کے صرف دو مہینے بعد یعنی 6 ستمبر 1985 کو انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد ڈالی گئی  ۔ پنجاب کے شہر جھنگ میں تشکیل پانے والی اس تنظیم کا بنیادی مقصد پاکستان کو ایرانی انقلاب کے اثرات سے “پاک” رکھنا اور شیعیوں کے اثرو نفوز کو بڑھنے سے روکنا تھا ۔ میں مضمون کے آغاز میں عرض کر چکا ہوں کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر وہ پہلے شخص تھے جن کے قتل کا براہ راست الزام ایران پر لگایا گیا ۔ اس واقعے کے چند ہفتوں بعد راولپنڈی میں ایک ایسی بس کو دھماکے سے اڑایا گیا جس میں ایرانی ائر فورس کے انجئیر سوار تھے ۔ اس حملے کو علامہ ظہیر کے قتل کا بدلہ قرار دیا گیا ۔ پھر تو فرقہ وارانہ قتل وغارت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ۔ 5 اگست 1988 کو پشاور میں ایک قاتلانہ حملے کے نتیجے میں علامہ عارف حسین حسینی قتل کر دئے گئے جبکہ فروری 1990 میں انجمن سپاہ صحابہ جس کا نام تبدیل کرکے سپاہ صحابہ پاکستان رکھا گیا تھا کے بانی حق نواز جھنگوی کو ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک کردیا گیا ۔ اس واقعے کے رد عمل کے طور پر دسمبر 1990 میں خانہ فرہنگ ایران لاہور کے ڈائرکٹر صادق گنجی کو حملہ کرکے قتل کر دیا گیا ۔

  پنجاب میں قتل و غارت کا یہ سلسلہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہا ۔ اس دوران نہ صرف سپاہ صحابہ کے بطن سے لشکر جھنگوی کا جنم ہوا بلکہ تحریک نفاذ فقہہ جعفریہ کے صفوں سے سپاہ محمد نمودار ہوئی جنہوں نے مل کر پنجاب میں قتل و غارت گری کا ایسا بازار گرم کیا جس کی زد میں آکر لاتعداد ڈاکٹر ، انجنئر ، تاجر ،اساتذہ اور عام شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جن کی اکثریت کا تعلق شیعہ فرقے سے تھا ۔ اس دوران تاجروں سمیت تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقے کی ایک بڑی تعداد جان بچانے کی خاطر پاکستان چھوڑ کر دیگر ممالک میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوئی ۔ پنجاب سے سرمایہ باہر کے صوبوں اور ممالک میں منتقل ہونے لگا جسے دیکھتے ہوئے شریف برادران لشکر جھنگوی کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے ۔ اس معاہدے کے بعد لشکر جھنگوی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں نے پنجاب میں اپنی سرگرمیاں ختم کردیں اور بلوچستان کے بلوچ علاقوں اور کراچی میں منتقل ہونا شروع ہوئے ۔

   بلوچستان میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کرنے کے لئے لشکر جھنگوی نے پہلے پہل آر سی ڈی شاہراہ پر واقع بلوچ علاقوں کا انتخاب کیا جو پاکستانی اور ایرانی بلوچستان کو ملانے والی معروف بین الاقوامی شاہراہ ہے ۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے ایران کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے اس لئے ان علاقوں میں اپنا اثرو نفوز بڑھانے کی خاطر ایران نے یہاں آباد قبائل پر ہمیشہ خصوصی توجہ دی ۔ ایران کی اس خصوصی توجہ ہی کا نتیجہ تھا کہ 1990 کی دہائی میں یہاں کے لوگوں میں شیعہ مسلک اختیار کرنے کا رجحان بڑھنے لگا ۔ یاد رہے کہ ان دنوں ایسی افواہیں عام تھیں کہ مستونگ اور گردو نواح میں بلوچوں کی کئی با اثر شخصیات شیعہ مسلک اختیار کرنے والی تھیں ۔ مستونگ میں تو کئی خاندانوں نے ایسا کیا بھی ۔ لہٰذا جب فرقہ واریت کے نام پر دہشت گردی میں ملوث گروہ بلوچستان منتقل ہوئے تو انہوں نے مستونگ کے علاقے کو ہی اپنا مرکز بنایا جہاں اپنے پاؤں جمانے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے انہی خاندانوں کا صفایا کرنا شروع کیا جو اپنا مسلک ترک کر کے شیعہ ہوچکے تھے ۔ ان خاندانوں کو نہ صرف بڑی بے دردی سے قتل کردیا گیا بلکہ لوگوں کو انہیں دفنانے اور ان کی نماز جنازہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ ایک طرح سے ان لوگوں کے لئے واضح پیغام تھا جو ان کے خیال میں شیعہ مسلک اختیار کرکے علاقے میں ایرانی اثرو نفوذ کو بڑھاوا دینے کا سبب بن رہے تھے ۔

جاری ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.