الف ،ایک جدو جہد کی ابتدا۔

الف ، ایک جدو جہد کی ابتدا۔

   

   پچھلے پندرہ سالوں کے دوران ہزارہ قوم پر جو دہشت گردی مسلط رہی اس نے قوم کی اجتماعی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کئے ۔ اس قتل عام اور نسل کشی نے نہ صرف گھر گھر صف ماتم بچھا دیا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر امن و سکون کی تلاش میں دیارغیر کی طرف کوچ کرنے پر بھی مجبور ہوئے ۔ ایسے کتنے لوگ تھے جو آنکھوں میں پرسکون زندگی کے خواب سجائے گھر والوں اور دوستوں کو وداع کرکے سفر پرنکلے لیکن منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے برف زاروں اور بھپرے سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوگئے ۔

    ان تاریک سالوں میں اگر ایک طرف طالب علموں سے ان کی درسگاہیں چھوٹ گئیں تو دوسری طرف مزدوروں اور تاجروں سے ان کا روزگار چھن گیا ۔ ہزارہ قوم کو اونچی دیواروں میں چنوا کر انہیں باقی معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کی جو پالیسی اختیار کی گئی اس نے قوم بالخصوص جوان طبقے کو تنہائی کے احساس میں مبتلا کردیا لیکن کیونکہ وہ ایک تعلیم یافتہ اور بیدار معاشرے کے رکن تھے اس لئے انہوں نے گھٹ گھٹ کر جینے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو اظہار کا وسیلہ بنایا ۔

  وہ خاموشی کے تالاب میں کنکر پھینک کر موج ایجاد کرتے رہے ۔ایسے میں اگر شاعروں نے اپنی شاعری کے زریعے قوم کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے آشکار کرکے اپنا فرض نبھایا تو لکھنے والوں نے بھی قلم سے ہتھیار کا کام لیا ۔  اگر مصوروں نے برش اور رنگوں کے زریعے اس بربریت کے خلاف جہاد میں اپنا حصہ ڈالا تو گلوکاروں نے بھی اپنی آواز کے زریعے قوم کے مورال کو بلند رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ طویل تاریک راتوں میں روشنی کی شمع جلا ئے رکھنے کا یہی جذبہ ہمیں قوم کے نوجوان فنکاروں میں بھی نظر آیا جو بے سرو سامانی کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی سے غافل نہیں رہے ۔ ایسے جوانوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنا کیمرہ اُٹھایا ، ایک بیگ شانے پر لٹکایا اور قوم کی مظلومیت کو دستاویزی شکل دینے چل پڑے ۔

     انہی نوجوانوں میں ایک نام مہدی عسکری کا ہے ۔ کچھ مہینے قبل میری ان سے  ملاقات ہوئی تو وہ ایک ہزارہ گی ٹیلی فلم پر کام کا آغاز کرنے جارہے تھے ۔ ان کے پیشہ ورانہ تعلیمی پس منظر اور صلاحیتوں کا میں پہلے ہی معترف تھا ۔ مجوزہ ٹیلی فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے ایک عزم چھلک رہا تھا ۔ موجودہ صورت حال کے پس منظر میں معاشرے کی اجتماعی سوچ بالخصوص نوجوان طبقے کے نفسیاتی مسائل ان کی مجوزہ ٹیلی فلم کا بنیادی موضوع تھا ۔

      موضوع کی اہمیت اور تیکنیکی مسائل پر ان کی گفتگو سن کر ہی مجھے اس بات کا یقین ہونے لگا کہ وہ ایک بہت ہی خوبصورت منصوبے کا آغاز کرنے جارہے تھے ۔ پھر وہ اس منصوبے کی تکمیل میں لگ گئے ۔ اس دوران کبھی کبھار فون پر ان سے میری مختصر بات چیت ہوجاتی ۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر مذکورہ فلم کے خوبصورت اور آرٹسٹک پوسٹرز دیکھتا تو D FILM’s  کی جوان ٹیم کی صلاحیتوں کا اور بھی معترف ہوجا تا ۔

    آج فلم کا آفیشل ٹریلر دیکھا تو یہ سمھجنے میں دیر نہ لگی کہ الف کی ٹیم سے میں نے جو امیدیں وابسطہ کر رکھی تھیں میں ان میں مکمل حق بجانب تھا ۔ اگر میں یہ کہوں کہ الف ہزارہ گی زبان میں بننے والی ایسی پہلی فلم ہوگی جسے تیکنیکی اعتبار سے شاہکار قرار دیا جاسکتا ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔ مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ D FILM’s  کی ٹیم نے نا بسامانی اور محدود امکانات کے اندر رہ کر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہوگا ۔

   ہزارہ گی جیسے کنزرویٹو معاشرے میں ایسی کسی فلم کی تیاری جس کے زریعے نوجوان نسل کی نفسیاتی الجھنوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہو بذات خود ایک جرآت مندانہ قدم ہے ۔ امید رکھنی چاہئے کہ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے با صلاحیت نوجوان بھی آگے آئیں گے اور معاشرے میں ایک صحت مند سرگرمی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

   میں اس فلم کے ڈائریکٹر مہدی عسکری اور اس کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور معاشرے کے ہر فرد سے اس بات کی توقع کرتا ہوں کہ وہ ان باصلاحیت جوانوں کی حوصلہ افزائی میں کنجوسی سے ہر گز کام نہیں لیں گے ۔ ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ اگر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی تو وہ اگلی مرتبہ اس سے بھی بہتر نتائج دے سکیں گے ۔    

3 thoughts on “الف ،ایک جدو جہد کی ابتدا۔

  • 10/03/2014 at 11:56 pm
    Permalink

    الف ، آغاز پویش و پیکار

    از پانزده سال به اینسو، سایه ای سیاهٔ وحشت در زندگی جامعهٔ هزاره اثرات گستردهٔ افگنده است۰ قتل عام ها و نسل کشی ها نه تنها گلیم غم در خانه ها پهن نموده اند بلکه هزاران هزار هزاره را در جستجوی زندگی پر امن تر، در سرزمین های دور و دور تر ، رهسپار کرده اند شاید کسی بسادگی نتواند حدس زند که به چه تعدادی از شهروندان، یاران و خویشاوندان خود را وداع گفته ، در مسیر جزائر نجات نصیب طوفانِ برف و امواج دریاهای بیکران گشته اند۰

    در این سالهای تیره و تار که در های مدارس بر روی دانشجویان یکی پس از دیگری بسته شدند و دنیای کار برای کارگران و بازرگانان تنگ گردید و با سیاست اعمار حصار های بلند و بالا هزاره ها را از فعالیت ها کنار زدند بویژه قشر جوان را در قفس تنهای قید کردند تا نتواند نسل آگاه و پر ماجرا نظرات خود را اظهار نماید اما خوشبختانه؛

    اخگر شهر پر از گوهر ما پُر شرر است

    جوانان با پرتاب نمودن سنگی ، فضای سکوت دریاچه را برهم زده همواره موجی بر پا نمودند؛

    شاعران با ترانه های ناب شان صدای مظلومیت مردم را انعکاس دادند ، نویسندگان با داستان نویسی پرداختند ، نقاشان آنرا با رنگهای گوناگون به تصویر کشیدند ، آواز خوانان آن را به نای و نغمه در آوردند تا مورال مردم شان را بالا ببرند و هنر مندان دور بین های خویش را برشانه نهادند تا از فجایع خونین و غمبار مدبرانه عکاسی نمایند تا هریک به نوبهٔ خود همانند شمع در شبهای تار و طویل روشنی بخشد

    مهدی عسکری نام یکی از این جوان هاست که قبلاً از استعداد هنری وی آشنا بودم۰ چندی قبل با او گفتگوی داشتم از چشمانش فروغ امید بخش میدرخشید۰ وی مصمم بود که فلم تلویزیونی هزارگی بسازد۰ موضوع داستان فلم او مربوط به « چگونگئ ذهنیت مردم » و بخصوص به « مسایل روانی جوانان » میشد۰

    در جامعهٔ محافظه کار هزاره ، ساختن فلمی در همچو موضوع ، جنون و جرات میخواهد بنابر این اینجانب به همهٔ هنر پیشگان فلم « الف » و بخصوص به مدیر آن مهدی عسکری چنین کار شایسته و برجسته را تبریک میگویم

    نویسنده؛ حسن رضا چنگیزی
    مترجم؛ رضا واثق
    * از کم و کاستی در ترجمه معذورت میطلبم ۰ قصدم فقط رساندن پیام محترم حسن رضا چنگیزی به دوستانیست که به زبان اردو آشنا نیستند۰

    Reply
  • 10/03/2014 at 8:12 am
    Permalink
    Much appreciated, tang nazari key khilaf pehla qatra
    Reply
  • 10/03/2014 at 8:05 am
    Permalink
    It’s a historic step and we are pleased to watch such a wonderful work.
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.