آپ ہی اپنی اداؤں پہ زرا غور کریں!

آپ ہی اپنی اداؤں پہ زرا غور کریں!

Aslam-Raisani-220
ڈان اخباراسلام آباد: پاکستان کے سب سے پسماندہ اور غریب صوبے بلوچستان کے سابق وزیر اعلٰی نواب اسلم رئیسانی انتہائی امیر ہیں۔الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں کے مطابق، مالیاتی سال12-2011 میں رئیسانی کے پاس باون کروڑ بیس لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کی دولت موجود تھی، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال میں ان کی دولت کا تخمینہ پینتیس کروڑ دس لاکھ روپے تھا۔حال ہی میں اپنے اختیارات نگران وزیر اعلٰی کو دینے والے رئیسانی نے اپنے گوشواروں میں دیگر اثاثوں کی مالیت تینتالیس کروڑ پینتالیس لاکھ روپے درج کروائی ہے، تاہم انہوں نے ان اثاثوں کی مزید تفصیلات مہیا نہیں کیں۔رئیسانی کے پاس دو قیمتی ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکلیں، ایک مرسیڈیز اسپورٹس کار، ایک ہمرایچ ٹو اور اسلام آباد میں ایک مکان ہے۔بلوچستان کے سابق سربراہ کے پاس مجموعی طور پر چودہ کروڑ تیس لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی ہے۔وہ پندرہ کروڑ روپے مالیت کی ایک سیکیورٹی کمپنی اور ستر لاکھ روپے مالیت کی ایک کوئلے کی کان کے مالک ہیں۔اس کے علاوہ انہیں اپنی زرعی زمین سے سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر dawn.urdu.com کی ہے جسے میں نے من و عن نقل کی ہے ۔اس خبر کو پڑھ کر مجھے چند سال قبل نواب اسلم رئیسانی سے ہونے والی ایک اتفاقیہ ملاقات یاد آگئی ۔ اتفاقیہ اس لئے کہ ہم کچھ دوست نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کے لئے رئیسانی ہاؤس گئے تھے ۔ وہ تب پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر تھے ۔ یہ مارچ 2004 کی بات ہے ۔ ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی ابھی تشکیل کے مراحل میں تھی ۔ غالباََِِ اعلان ہونا باقی تھا ۔ کچھ دن پہلے 2 مارچ کو لیاقت بازار میں یوم عاشورکا واقعہ رونماہوا تھااس سانحے میں تقریباَ پچاس لوگوں کی جانیں گئی تھیں ۔ حکومت نے پہلی فرصت میں سارے شہر میں کرفیو لگا دیا تھا ۔ دوستوں کا خیال تھا کہ بلوچستان کی سیاسی پارٹیوں سے ملاقات کی جائے اور انہیں اس بات پہ آمادہ کیا جائے کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرنے کے علاوہ ہزارہ قوم کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کریں ۔ ہم کئی پارٹیوں سے ملے ۔
کرفیو کے ایک وقفے کے دوران ایسی ہی ایک ملاقات پیپلز پارٹی کے صوبائی صدرلشکری رئیسانی سے بھی ہوئی جہاں اتفاق سے کچھ دیر کے لئے بڑے رئیسانی یعنی نواب محمد اسلم بھی تشریف لائے ۔ ہمارے وفد میں عبد الخالق ہزارہ کے علاوہ ابراہیم ہزارہ، محمد علی ہزارہ اور نادر علی بھی تھے ۔ ہم دو گاڑیوں میں رئیسانی ہاوس پہنچے ۔ شفیق احمدخان بھی ہمارےساتھ تھے جوتب صوبائی کابینہ میں پیپلز پارٹی کے واحد وزیر تھے ۔ رئیسانی ہاوس پہنچے تو کچھ مسلح لوگوں نے ہمارا استقبال کیا ۔ انکی تعداد پندرہ بیس کے قریب تھی ۔سب کے ہاتھوں میں کلاشنکوفیں تھیں۔ کچے صحن میں جہاں بجری بچھی ہوئی تھی دو پرانی پک اپ گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ ہمیں ایک کمرے میں لے جایا گیا جو غالباَ ان کا مہمان خانہ تھا ۔ کمرے میں کچھ بوسیدہ کرسیاں پڑی تھیں ۔ دیوار پہ نواب غوث بخش رئیسانی کی کچھ بلیک اینڈ وائٹ تصویروں کے علاوہ کچھ پرانی بندوقیں اور تلواریں لٹکی نظر آرہی تھیں جبکہ فرش پر ایک پھٹی پرانی قالین بچھی ہوئی تھی ۔ لشکری رئیسانی سے گپ شپ جاری تھی تو اس دوران اسلم رئیسانی بھی آگئے ۔ ان کے ہاتھ میں سلیمانی چائے کی ایک پیالی تھی ۔ سلام کرکے فرش پر ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ۔ چائے کی ایک چسکی لی تو شاید مہمانوں کی موجودگی کا احساس ہوا ۔ اپنی پیالی کی طرف اشارہ کرکے بڑی فراخ دلی سے ہر ایک کو ایک گھونٹ لینے کی دعوت دے ڈالی ۔ سب نے معزرت ہی کرنی تھی ۔ کچھ مبہم باتیں کرنے کے بعد وہ اُٹھ کے چلے گئے تو کرفیو کا وقفہ بھی ختم ہونے کے قریب آگیا ۔ ہم بھی واپس ہونے لگے ۔ راستے میں ایک دوست نے شفیق احمد خان سے مذاق میں اس با ت کی شکایت کی کہ آپکےنواب اور اس کے بھائی نےجو آپکی پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں چائے تک نہیں پلائی ۔شفیق نے معزرت کرتے ہوئے کہا کہ دراصل نواب صاحب کسی مہمان کو چائے پلانے کی سکت ہی نہیں رکھتے ۔ وہ تو جیسے تیسے کر کے کسی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کا خرچہ بھی نور محمد صراف اور وہ مل کر اُٹھاتے ہیں ۔
میرے لئے یہ ایک نیا انکشاف تھا لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا میرا ایک دوست سوال کر بیٹھا کہ یہ جو پندرہ بیس کے قریب مسلح لوگ ان کے ساتھ ہوتے ہیں ان کا خرچہ کون اُٹھاتا ہے؟ شفیق کا جواب تھا کہ یہ ان کے قبیلے کےوہ لوگ ہیں جو اپنے ہی خرچے پر رضا کارانہ اپنے نواب کی حفاظت کے لئے ڈیوٹی سر انجام دیتےہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے دوست نے شفیق احمد خان کو بتایا کہ نواب صاحب کے یہ مسلح باڈی گارڈ کس طرح بین الاقوامی شاہراہ پرمسافربسوں کو لوٹ کر اپنا اور اپنے نواب کا پیٹ پال رہے ہیں تو شفیق نے مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا تھا ۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ نواب صاحب اپنے ان بندوں کی لوٹ مار کے علاوہ سید عباس المعروف سید ناصر شاہ سے بھی خرچہ پانی منگوا لیا کرتے تھے ۔
ایسے میں ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے ۔ ایک مرتبہ ایران جاتے ہوئے ایک مسافر بس کو لوٹا گیا تو کچھ لوگ پیپلز پارٹی کے ایک مقامی ہزارہ رہنما کے پاس گئے ۔ انہیں بتایا گیا کہ اس لوٹ مار میں رئیسانی کے لوگ شامل تھے ۔ مذکورہ رہنماسے اس بات کی درخواست کی گئی کہ وہ رئیسانی سے مل کر لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے میں ان کی مدد کریں ۔ دروغ بر گردن راوی جب یہ لوگ رئیسانی ہاوس پہنچے تو لٹنے والے شخص نے رئیسانی کے باڈی گارڈز میں سے ایک ایسے آدمی کو پہچان لیا جو اس دن کی لوٹ مار میں شامل تھا ۔ اسلم رئیسانی سے جب اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو اس نے از راہ التفات متاثرہ شخص کی لوٹی ہوئی جمع پونجی واپس کروانے کی حامی بھری لیکن ساتھ ہی اس سے یہ وعدہ بھی لے لیا کہ وہ اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کریں گے ۔
اسلم رئیسانی کے دور حکومت میں بلوچستان کا حلیہ جس طرح سے بگاڑا گیا اس کی مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے ۔ ہزارہ قوم کے ساتھ جو ہوا سو ہوا ،حسین علی یوسفی کا قتل ہوا تو اسلم رئیسانی کا بیان آیا کہ بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے اگر ان میں سے کچھ لوگ قتل ہو بھی جاتے ہیں تو بلوچستان کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ ہزارہ قوم کے قتل عام پر افسوس کرنے کے بجائے ٹرک بھر ٹشو پیپر بھیجنے کی آفر کو بھی ہزارہ قوم ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ اسلم رئیسانی چیف آف ساراوان کہلاتے ہیں ۔ وہ بلوچوں کے نواب ہیں لیکن کاش وہ ایک بلوچ ہونے کا ہی حق ادا کرتے؟بلوچی اور قبائلی روایات کے دعوے داراس بلوچ نواب کے دور میں تو خود بلوچوں کو بھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوسکا ۔ اس دور ان مسخ شدہ لاشوں کی تعداد میں جتنا اضافہ ہوا اسے بلوچ شاید کبھی نہ بھلا سکیں ۔
مجھے یاد ہے جس دن رئیسانی کے وزیر اعلیٰ بننے کامحض اعلان ہی ہوا ، اسی دن طوغی روڑ پر واقع صاحبی سٹور کو اس وقت کچھ مسلح افراد نے لوٹنا شروع کیا جب لوگ خریداری میں مصروف تھے ۔ وہ شام کے سات بجے کا وقت تھا ۔ اس دوران نہ صرف صاحبی سٹور کی ساری جمع پونجی لوٹ لی گئی بلکہ خریداروں سے بھی ان کا سارا مال و متاع چھین لیا گیا ۔ یہ دراصل ایک اشارہ تھا اورآنے والے دنوں کی ایک جھلک تھی جسے بلوچستان خصوصاَ کوئٹہ کے باسیوں نے اگلے پانچ سال تک بھگتنا تھا ۔ وہ پانچ سال بھی گزر گئے اور بلوچستان کے تن صد پارہ میں بے شمار نئے زخموں کا اضافہ ہوا لیکن اسلم رئیسانی جو کسی مہمان کو چائے پلانے کی سکت تک نہیں رکھتے تھے آج کروڑوں روپوں کی اعلانیہ اور اربوں روپوں کی غیر اعلانیہ جائیداد کا مالک ہے ۔ دوبئی میں انہوں نے کتنی جائیداد بنائی ہے اس کا ذکر کسی دستاویز میں نہیں ۔ ایک ارب روپے اُن سے اگر کوئی کھیل ہی کھیل میں ہتھیا کے لے گیا اور آج کسی یورپی ملک میں بیٹھا گلچھرے اُڑا رہاہے تو بھی پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ ہزارہ قوم کی لاشیں گرتی رہیں، بلوچوں کی بوری بند اور مسخ شدہ لاشیں ملتی رہیں لیکن اس سے رئیسانی کی صحت پہ کوئی فرق نہیں پڑا ۔ہاں ایک ایسا نواب جو کچھ سال پہلے تک گھر آئے کسی مہمان کو چائے تک نہیں پلا سکتا تھا آج کاؤ بوائے لباس پہنے ستر لاکھ روپے کی موٹر سائیکل پر اسلام آباد کی سڑکوں پہ گھومتا نظر آتا ہے، دوبئی میں قیمتی ہوٹل اور لندن کے پوش علاقے میں مہنگی رہائش گاہ کا مالک ہے جبکہ بلوچستان کے زخموں سے پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے لہو رس رہا ہے ۔
امید کرنی چاہئے کہ ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی اسلم رئیسانی کے بجائے غوث بخش بزنجو کے نقش قدم پر چلے گی۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ زرا غور کریں …………ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

Share
284Shares

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں