بند جھروکا

بند جھروکا

2 مئی، 2014۔

چند سال پہلے کی بات ہے جب میں اپنے ایک شاعر دوست کے ساتھ کراچی کے ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ رات آہستہ آہستہ بیت رہی تھی اور ہم گپ شپ میں مصروف تھے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنا ایک بازو اپنی آنکھوں پر رکھا جیسے سونے کی کوشش کر رہا ہو ۔ میں نے بات چیت بند کردی اور سونے کی تیاری کرنے لگا ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ میرا دوست بار بار بے چینی سے کروٹیں بدل رہا تھا ۔ شاید اسے نیند نہیں آرہی تھی ۔ پھر اچانک وہ ایک نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے اٹھ بیٹھا ” ہوگیا ” وہ خوشی سے چلّایا ۔
میں بھی ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا ۔ اور حیرانی سے پوچھا ” کیا ہوا؟”
” شعر ہوگیا ” اس نے بچّوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہا ۔
یہ سننا تھا کہ میری ہنسی چھوٹ گئی ۔ میں ہنستے ہنستے دوہرا ہوگیا ۔ اب حیران ہونے کی باری ان کی تھی ۔ وہ شاید بڑی بے تابی سے مجھے اپنی نئی ” تخلیق ” سنانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن میری ہنسی تھی کہ رک ہی نہیں رہی تھی ۔ بالاخر میں نے اپنی ہنسی پر قابو پاکر ان سے پوچھا کہ تم اتنی دیر سے کروٹیں بدل رہے تھے ۔ کبھی سیدھے لیٹ جاتے تو کبھی اوندھے منہ ۔ کبھی دایاں پہلو بدلتے تو کبھی بایاں ۔ یار مجھے ایک بات بتاؤ ۔ تم شعر کہتے ہو یا جَنتے ہو؟ پھر ہم دونوں کافی دیر تک مل کر ہنستے رہے ۔
شاعر اور لکھاری تخلیق کی اس” تکلیف ” سے عموماَ گزرتے ہیں ۔ مجھے اس بات کا بخوبی تجربہ ہے کہ جب میرے ساتھ کوئی ” آمد ” والا معاملہ ہوتا ہے تو تخلیق کے سارے مراحل بڑی آسانی سے طے ہوتے ہیں ، الفاظ خود بخود آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتے ہیں ، جملے چشموں کی طرح پھوٹنے لگتے ہیں اور تحریر کسی ندی کی طرح اپنا راستہ خود بناتی جاتی ہے ۔ لیکن ایسا بھی لمحہ آتا ہے کہ جب سارا کچھ تلپٹ ہوجاتا ہے اور باوجود کوشش کے کچھ نہیں لکھا جاتا ۔ ایسے میں کروٹیں بدلنے اور درجنوں سیگریٹ پھونکنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔، الفاظ جیسے کہیں چھپ جاتے ہیں اور تحریر کا پھیکا پن خود میرا منہ چڑانے لگتا ہے ۔ اپنی ایسی تحریریں میں یہ سوچ کر ” قرنطینہ ” میں ڈال دیتا ہوں کہ ” داشتہ بکار آید “
آج کل بھی مجھ پر کچھ ایسی ہی کیفیت طاری ہے ۔ آپ اسے کاہلی کا بھی نام دے سکتے ہیں ۔ کبھی سوچتا ہوں کہ کاش میں بھی کوئی ” مصروف” بندہ ہوتا تو اپنی ” بے پناہ مصروفیات ” کا بہانہ بناکے اپنی کاہلی کو کوئی لبادہ پہنا بھی دیتا لیکن کیا کروں کہ میں اس نعمت سے یکسر محروم ہوں ۔ کئی دنوں تک کچھ نہ لکھ پاؤں تو طبیعت پر ایک عجیب بے چینی طاری ہونے لگتی ہے اور اپنا آپ ایک بےکار شے محسوس ہونے لگتا ہے ۔ زور زبردستی لکھتے رہنا شاید میرے بس میں نہیں اور ” آمد ” کا جھروکہ کافی دنوں سے بند پڑا ہے ۔ انتظار اس بات کا ہے کہ کوئی خوشگوار دستک پڑے اور ذہن کا یہ بند جھروکہ جلد کھل جائے ۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.