کہاں تک سنو گے ؟

کہاں تک سنو گے؟

05 جون، 2014

کرب
اس کے دونوں جوان بیٹوں کو ایک ایک کرکے قتل کر دیا گیا ۔ بڑا بیٹا تب  خون میں نہلایا گیا  جب2011 میں ہزارہ عید گاہ کے قریب خود کش دھماکہ کیا گیا ۔ وہ عید کا دن تھا، جسے کسی جنونی نے عاشورہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔ پھر چھوٹے بیٹے کو تب گولیوں سے بھون ڈالا گیا جب وہ کسی جھگڑے میں بیچ بچاؤ کرنے بڑھا تھا۔ خودکش دھماکہ کرکے اس کے بڑے بیٹے سمیت درجنوں لوگوں کو قتل کرنے والے کو جنت کی تلاش تھی جو گاڑی میں بارود بھر کر حوروں کی تلاش میں نکلا تھا، جبکہ کلاشنکوف کی گولیاں برسا کرچھوٹے بیٹے کو خون میں نہلانے والا ایک ایسا جوان تھا جس نے جنت کے متلاشی  کسی ایسےہی ” مسلمان ” کے ہاتھوں ” شہید ” ہونے سے بچنے کے لئے بھاگ کر کافروں کے ملک میں پناہ لے رکھی تھی ۔

خود کش دھماکہ کرنے والا شاید اپنا مسخ شدہ بھیانک چہرہ لئے جنت کی سہمی اور مدد کے لئے پکارتی حوروں کے پیچھے بھاگ رہا ہوگا جبکہ معمولی بات پر ایک نوجوان کو قتل کرکے واپس کافروں کے دیس لوٹ جانے والا غیرت مند نوجوان بھی وہاں کسی خوبصورت بیچ (Beach)  پر نیم برہنہ کافر حسینوں کے درمیان غسل آفتابی میں مصروف ہوگا۔
لیکن اس ماں کا کرب کون محسوس کرسکتا ہے جس  کی جنت کو جیتے جی جہنم میں تبدیل کردیا گیا ؟
 ہنر

اس کا درد بھی شاید ہی کوئی محسوس کرسکے جو کل تک زندگی کی تمام رعنائیوں سےبھرپورایک ہٹا کٹا نوجوان تھا۔ جس کے کسرتی بدن کو دیکھ کر ہر نوجوان کے دل میں یہ خواہش ابھرتی کہ کاش وہ بھی اس کی طرح خوب صورت بدن کا مالک ہوتا۔
شاید اسے کسی کی نظر لگ گئی، تبھی تو وہ  ہمیشہ کے لئے معزورہو گیا ۔ کسی نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے اپنی بارود سے بھری گاڑی ان کی بس سے ٹکرادی تھی۔ آج وہی جوان بستر پر آڑھے ترچھے انداز میں پڑا زندگی کے دن کاٹ رہا ہے ۔ دروازے پر ہونے والی ہر دستک پر اسے کسی ” اپنے ” کے آنے کا گمان ہوتا ہے جبکہ نظریں دوستوں کے دیدار کو ترستی رہتی ہیں۔
اس کے کرب کا صحیح اندازہ شاید ہی کوئی لگا سکے البتہ کوئی جاکر اسے یہ مشورہ ضرور دے سکتا ہے کہ وہ ہرگز دل چھوٹا نہ کرے کیوں کہ ہمارے ہاں اہمیت زندوں کی نہیں بلکہ مُردوں کی ہوتی ہے۔ جن کے تابوت سڑک پر رکھ کرہم دھرنا دیتے اور احتجاج کرتے ہیں ۔ جنکی قبروں کو سنگ مرمر سے سجانا ، ان پر پھولوں کی چادریں چڑھانا اور چراغاں کرنا ہمیں باعث ثواب لگتا ہے ، جن کے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں مانگنا اور نذرو نیاز کرنا ہماری زندگی کا حصہ ہیں ، جن کے نام سے گلی کوچے اور سڑکیں منسوب کرکے ہم اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ، جن کی قد آدم تصاویر چوراہوں پر لٹکانا ہمارے فرائض منصبی میں شامل ہے ، جن کے نام پر ووٹ مانگنا اور چندہ جمع کرنا ہمیں بُرا نہیں لگتا۔ لیکن ایڑیاں رگڑنے والے زندہ انسان ہمیں نظر نہیں آتے ، بلکتے بچّوں پر بھی ہماری نظر نہیں پڑتی نہ ہی مرنے والوں کے پیچھے زندہ رہ جانے والوں کی کسمپرسی ہمیں نظر آتی ہے۔
کیوں کہ ہم مُردوں کو زندہ رکھنے اور زندوں کو جیتے جی مارنے کا ہنرجانتے ہیں ۔

دشمن جاں 

وہ بھی ایک ایسے ہی واقعے میں”  شہید ” ہوا تھا جب موٹر سائیکل پر بیٹھا خود کش بمبار جلوس میں گھس آیا تھا۔ وہ بڑے جوش اور جذبے سے نعرے لگانے میں مصروف تھا، جب دھماکہ ہوا۔ میں اسے سکول کے زمانے سے جانتا تھا۔ نوجوانی کے دنوں میں وہ بلا کا مقرر تھا ۔ فکری لحاظ سے ہم دو متضاد دنیاؤں کے باسی تھے۔ میں انقلاب ثور کا حامی تھا تو وہ ولایت فقیہہ کا پیروکار۔ میں سرخ سلام پھیرنے والا تو وہ صلواۃ کی گردان کرنے والا۔ لیکن مجھے اس کی موت کا اتنا ہی صدمہ ہوا جتنا اس کے کسی قریبی ساتھی کو ہو سکتا تھا۔

2006 کی بات ہے میں کراچی کے ایک ہسپتال میں بستر پر لیٹا ہوا تھا ۔ دروازے پر دستک ہوئی ۔ میرے یس کہنے پر کوئی اندر آیا ۔ آنے والا وہی تھا ۔ وہ ایک کرسی کھینچ کر میرے سرہانے بیٹھ گیا ۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ ایک ٹُک میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ کہنے لگا ” حسن یاد ہے ہم آپس میں کتنا لڑا کرتے تھے ؟ تم ایچ ایس ایف میں تھے اور میں آئی ایس او کا ممبر تھا ۔ ہم جب بھی آمنے سامنے ہوتے تو دھینگا مشتی اور مار کٹائی کے علاوہ ہمارا کوئی کام ہی نہ ہوتا ۔” ہم پرانی باتیں ، لڑائی جھگڑے اور پھڈے یاد کر کے کافی دیر تک ہنستے رہے ۔
ہماری آپس میں کبھی نہیں بنی۔ گزشتہ کئی سالوں کے دوران بھی ہمارا کہیں آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ لیکن آج وہی”دشمن جاں”میری مزاج پرسی کے لئے آیا ہوا تھا۔ جاتے جاتے کہنے لگا کہ “بیماری اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے، لیکن مجھے تمھاری بیماری کا سن کر بہت صدمہ ہوا۔ اسی لئے پوچھنے چلا آیا۔” 2010 میں اس کی”شہادت” کی خبر سُنی تو میں سکتے میں رہ گیا۔ دل سے آواز نکلی کہ موت اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن تمھاری موت میرے لئے ایک بڑے صدمے سے کم نہیں ۔
اب بھی جب کبھی مجھے اس کی یاد آنے لگتی ہے تو ساتھ ہی اس کی اعلیٰ ظرفی بھی یاد آتی ہے اور میں رو پڑتا ہوں۔

سپورٹس مین

اسکے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ سجی رہتی۔ بات بات پر قہقے لگانا اس کا معمول تھا۔ میں نے اسے کبھی کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا ۔ ہم تنظیم کے ہال میں کبھی بیڈمنٹن تو کبھی ٹیبل ٹینس کھیلا کرتے۔ گزشتہ سالوں کے دوران بھی جب کبھی میں تنہائی سے اکتا کر دوستوں یا بچّوں کے ساتھ دشت کی طرف نکل جاتا تو کبھی کبھار اسے واک یا جاگنگ کرتے ہوئے دیکھتا۔ چہرے پر وہی مسکراہٹ ہوتی اور بدن میں وہی چستی ۔

2013 میں علمدار روڑ پر جب کسی “مجاہد” نے اپنے آپ کو اڑا کر مجھے میرے کئی دوستوں سےمحروم کردیا تواس واقعے میں وہ بھی اپنی ایک ٹانگ گنوا بیٹھا۔
مجھے نہیں معلوم کہ کیا اب بھی اس کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ رقصاں رہتی ہے یا سپورٹس  کی طرح اس کی مسکراہٹ بھی ماضی کا قصہ بن چکی ہے؟

برف کاکفن

یونیورسٹی میں وہ مجھ سے کئی سال جونیئر تھا ۔ لیکن ہماری آپس میں گپ شپ ہوتی رہتی تھی ۔ وہ ایک کم گو اور لئے دئیے رہنے والا نو جوان تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہماری راہیں جدا ہوئیں اور آمنا سامنا بھی کبھی کبھار ہی ہونے لگا۔ کچھ سال پہلے کسی دوست نے بتایا کہ ترکی سے یونان جاتے ہوئے برفانی طوفان میں اس کی موت واقع ہو گئی ہے۔ یہ خبر میرے لئے جتنی دلخراش تھی اس کے سفر کی داستان اس سے بھی زیادہ رنج آور۔ کسی نے بتایا کہ زندگی کے آخری دنوں میں وہ گھر سے کم ہی نکلتا تھا۔ اس نے دکان پر جانا بھی کم کر دیا تھا۔ اپنے اور بچّوں کے بہتر مستقبل کے لئے اس نے رخت سفر باندھا تو ترکی سے یونان کا راستہ چنا ۔ یونان میں داخل ہونے کے لئے برف پوش وادیوں سے گزرنے لگے تو شاید اسے اپنے خوابوں کی تعبیر سامنے نظر آنے لگی ۔ قدموں میں تیزی آئی تو جسم پر پہنے گرم کپڑے اور پیٹھ سے بندھا بیگ بوجھ محسوس ہونے لگا لہٰذا ساتھیوں کےمنع کرنے کے باوجود ایک ایک کرکے انہیں پھینکنے لگا۔ شاید اسے اس بات کا یقین ہو چلا تھا کہ وہ پل صراط پار کر چکا ہے۔ لیکن پھر اس کی ٹانگیں جواب دینے لگیں اور وہ گر پڑا ۔ کسی نے اسے کاندھے پر اٹھایا اور وہ پھر آگے بڑھنے لگے ۔ لیکن شاید اس برفیلے قبرستان کو پار کرنا اس کے نصیب میں نہیں تھا ۔

کچھ دنوں کے بعد اس کی میت کوئٹہ لائی گئی تو اس کا بدن برف جیسے سفید رنگ کی چادر میں لپٹا ہوا تھا ۔

کہاں تک سناؤں؟

2 thoughts on “کہاں تک سنو گے ؟

  • 06/06/2014 at 10:25 am
    Permalink
    آپ کے قلم کے یہ چند دردبھرےاور سنہرے الفاظ ایک فرسودہ، جنونی اور برداشت سے عاری معاشرے کی غمازھے۔ کاش ہم منطقی سوچ کے حامل ھوتے اور اپنے مسائل کو عقلی بنیاد پر حل کر سکتے۔
    زاتی طور پر میں آپ کا بہت قدردان ھو۔ امید کرتا ھو کہ اسی طرح لکھتے رہنگے۔
    Reply
    • 08/06/2016 at 1:35 am
      Permalink

      Raza bahi aj ap k Qalam sy bahut dard bari awaz masoos ki apny 25 sal pale k din yad agahe Allah pak apko hamesha salamat rake aur tundrusti atta farmahe Ameen

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.