بلاسفیمی

ایک سچی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔Blasphemy

1988 کی بات ہے ۔ تب میں گھر کا خرچہ اٹھانے کے لئے ایک سوزوکی پک اپ چلایا کرتا تھا ۔ میں اور میرے جیسے کچھ اور سوزوکی ڈرائیور صبح سویرے میدانی میں آکھڑے ہوتے ۔ تب سولہ ایکڑ بڑے گڑھوں کے درمیان ایک ویران علاقہ ہوا کرتا تھا ۔ ہمارا ٹھکانہ ڈاکٹر جمعہ کے کلینک اور مائلو ٹرسٹ کے عین سامنے میدان میں ہوتا جو کینٹ کے علاقے میں شامل تھا ۔ یہی پر کسی نے ایک خیمہ نماء ہوٹل بنا رکھا تھا جس میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور جمعرات اور جمعہ کے دنوں میں بھیڑ لگائے رکھتے تھے ۔ عام دنوں میں اس خیمہ ہوٹل میں اکا دکا لوگ ہی آتے ۔ ارد گرد چونکہ خالی جگہ بہت تھی اس لئے ایران سے آنے والی بسیں ہزارہ مسافروں کو یہیں اتارتیں ۔ تب اس ویرانے میں کچھ دیر کے لئے ایک میلہ سا لگ جاتا ۔ مسافروں میں زیادہ تر افغانی ہوتے جو کچھ دن علمدار روڑ کے ہوٹلوں میں رہنے کے بعد آگے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے۔

ان بسوں کے آنے سے نہ صرف ہمیں کچھ سواریاں ملنے کی امید پیدا ہوتی بلکہ آوارہ پھرنے والے ہیروئنیوں اور اٹھائی گیروں کو بھی کچھ ہتھیانے کا موقع میسر آتا جوجمگھٹوں کی صورت میں آس پاس ہی منڈلاتے پھرتے تھے ۔
ان کا آپس میں اتحاد دیکھنے کے قابل تھا ۔ ہزارہ ، بلوچ اور پشتون ہیروئنی برسوں کے دوستوں کی طرح شیرو شکر ہو کے آڑھے ترچھے ہوکر گھوما کرتے تھے ۔ عموماَ ایسا ہوتا کہ مختلف بولیاں بولنے اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے ہیروئنی ایک بڑی چادر کے نیچے مل کر سوٹہ(کش) لگاتے اور آپس میں گپ شپ کیا کرتے تھے ۔ میں نے کبھی ان نشیئوں کو آپس میں لڑتے نہیں دیکھا ۔
لیکن ۔۔۔
ایک دن ایران سے واپس آنے والی ایک بس ہمارے پاس آکر رُکی ۔ مسافر اترنے لگے جن میں حسب معمول زیادہ تعداد افغانیوں کی تھی ۔ اکثر نے شرٹ اور پتلونیں پہن رکھی تھیں ۔ میں اپنی سوزوکی پک اپ میں بیٹھا کسی سواری کا انتظار کر رہا تھا جب محلّے کا ایک ہیروئینی علی خان پوٹلی اپنے پشتون نشئی دوست جمعہ خان لیونئی کے ساتھ میرے پاس آیا ۔ دونوں میرے محلّے میں رہتے تھے اس لئے ہماری آپس میں جان پہچان تھی ۔ علی خان پوٹلی کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں سے نکال کے اس نے ایک عینک مجھے دکھائی جو Ray Ban کمپنی کی تھی اور مجھ سے اس کی قیمت پوچھنے لگا ۔ عینک کے ایک شیشے پر Ray Ban کا اسٹکر صاف نظر آرہا تھا ۔ بلا شبہ وہ ایک مہنگی عینک تھی جس کی قیمت ان دنوں چار سو روپے کے آس پاس تھی ۔ قیمت بتانے پر وہ بڑا خوش ہوا اور ساتھ آئے اپنے دوست جمعہ خان لیونئی کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا ۔ یہ بیگ ایران سے آئے کسی مسافرکا تھا جسے ان دونوں نے مل کر اڑایا تھا ۔
مجھے کوئی ڈھنگ کی سواری نہیں ملی لہٰذا وہیں اپنی “گاڑی” میں بیٹھا رہا ۔ کچھ دیر ہی گزری ہوگی جب پاس ہی سے لڑنے جگھڑنے کی آوازیں آنے لگیں ۔ دیکھا تو جمعہ خان لیونئی علی خان پوٹلی کو مار پیٹ رہا تھا ۔ شاید ہاتھ لگے “خزانے” کی تقسیم پرجھگڑا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ پوٹلی ایک طرف مکّوں سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا تو ساتھ ہی چیخ چیخ کے اپنے دوستوں کو آوازیں دے رہا تھا تاکہ وہ اسے لیونئی کی مارپیٹ سے بچا سکیں لیکن اس کے سارے نشئی دوست دائروں کی صورت میں بیٹھے کش لگانے میں مصروف رہے ۔ شاید یہ ان کے لئے معمول کی بات تھی اس لئے کسی نے اس کی داد رسی کی کوشش نہیں کی ۔ میں ان دونوں کی لڑائی دیکھنے میں محو تھا اور علی خان پوٹلی کو پٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
پھر اچانک علی خان پوٹلی کی کی ایک تیز آواز ابھری : ارے اس نے حضرت علی کو گالی دی ہے ؛
یہ سننا تھا کہ ٹولیوں میں بیٹھے نشیئوں میں ایک کھلبلی مچ گئی ۔ سب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ نعرہ حیدری لگاکے جمعہ خان لیونئی پر چڑھ دوڑے ۔ کچھ ہی منٹوں میں لیونئی زمین پر پڑا کراہ رہا تھا ۔ اس کی ناک سے خون جاری تھا جبکہ پوٹلی پاس کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ وہ ایک زرا سی ہوشیاری سے نہ صرف زیادہ مار کھانے سے بچ گیا تھا بلکہ اپنے حریف کو بھی دھول چا ٹنے پر مجبور کر چکا تھا ۔
کچھ دیرکے بعد میں نے دیکھا کہ علی خان ایک بار پھرجمعہ خان کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اس سے خوش گپیوں میں مصروف تھا ۔
شاید دونوں چوری کردہ سامان کی منصفانہ تقسیم پر بات کر رہے تھے ۔
واللہ اعلم باصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.