کچھ علاج اس کا بھی

کچھ علاج اس کا بھی ۔image-bb79e37a949f47d95ddba7167c9e78c1739c6c55b261cfb90213abe2c7653ca0-V

16 دسمبر کے دن پشاور میں سکول کے بچّوں پر جو قیامت ٹوٹی اس نے پورے پاکستان کی طرح کوئٹہ کو بھی سوگوار کردیا ۔ ماؤں کی چیخ و پکار سن کے اور معصوم بچّوں کی گولیوں سے چھلنی لاشوں کے بارے میں سن کر کوئٹہ کی ماؤں کے بھی وہ زخم پھر سے تازہ ہوگئے جو وقت کے ساتھ شاید مندمل ہو بھی جاتے ۔ ان کی نظروں کے سامنے اپنے ان بچّوں کے چہرے گھومنے لگے جو اچھلتے کودتے سکول گئے لیکن واپسی پر ان کی کھٹی پھٹی یا گولیوں سے چھلنی لاشیں گھر آئیں ۔ کچھ مائیں اپنے ان بچّوں کو یاد کرکے پھر سے رونے لگ گئیں جنہیں خریداری کرتے وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ انہیں اپنے بچّوں کے قہقہے اور شرارتیں یاد آرہی تھیں ۔ انہیں یہ بھی یاد آرہا تھا کہ وہ کس طرح سکول بھیجتے وقت اپنے چھوٹے بچّوں کو شرارتوں سے باز رہنے اور پڑھائی پر توجہ دینے کی نصیحتیں کرتی تھیں ۔ انہیں اپنے وہ بڑے بچّے بھی یاد آرہے تھے جنہیں وہ موٹر سائیکل آہستہ چلانے کی تاکید کیا کرتی تھیں ۔ انہیں اپنے بچّوں کی آپس میں کھٹ پٹ اور شور شرابہ یاد آ رہا تھا لیکن اب وہ اپنے انہیں بچّوں کو یاد کر کرکے سسکیاں بھر رہی تھیں جو ہر قسم کی شرارتیں ترک کرکے ننھے قبروں میں جا سوئے تھے ۔
پشاور میں درندگی کا نشانہ بننے والے معصوم طلباء کے قتل عام پر کوئٹہ کی وہ بہنیں بھی اشکبار تھیں جن کے بھائیوں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ۔ ہسپتال کے بستر پر پڑے زخموں سے چور بچّوں کو دیکھ کر ان لوگوں کے زخم بھی ہرے ہوگئے تھے جو دہشت گردوں کی سفاکیت کا شکار ہوکر زندگی بھر کے لئے معزور ہوگئے تھے ۔
تبھی تو جب پورا پاکستان اس سفاکیت پر سراپا احتجاج تھا کوئٹہ کے یہ بچّے بھی اپنے بڑوں کی انگلیاں تھامے سڑکوں پر نکل آئے ۔ کیوں نہ نکلتے ، درد آشنا جو ٹہرے ؟ اس لئے حکمرانوں کی بنائی وہ اونچی دیواریں بھی ان کا راستہ نہ روک سکیں جن سے ٹکرا کر ان کی چیخیں ہمیشہ واپس لوٹ جاتی تھیں ۔
10857979_798429186906399_6492971292523756481_n 10407458_798430826906235_7653649969388279415_nپشاور کی ماؤں اور بچّوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں ابتہاج بھی شامل تھا ۔ وہی ابتہاج جس کی امی ،نانی اور چہیتی بہن دہشت گردی کے ایک ایسے واقعے میں ہلاک ہو گئی تھیں جب ایک “مجاہد” نے اللہ اکبر کا فلک شگاف نعرہ بلند کرکے اپنی بارود سے بھری گاڑی ان کی بس سے ٹکرا دی تھی ۔ وہ خود بھی کئی مہینوں تک ہسپتال کے بستر پر پڑا رہا تھا ۔ دہشت گردی کا وہ واقعہ اگرچہ اس کے چہرے کی خوبصورت مسکراہٹ نہیں چھین سکا لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے چپے دکھ کو اب بھی بخوبی محسوس کیا
جاسکتا ہے ۔ یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں وہیل چئیر پر بیٹھا سلمان بھی شامل تھا جو کبھی زندگی کی تمام تررعنائیوں سے بھر پور ایک نوجوان تھا لیکن ایک ایسے ہی سفاکانہ واقعے کا شکار ہوکر آج وہ زندگی بھر کے لئے بیساکھیوں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ اس کے لبوں پر خاموشی تھی لیکن چہرے پر سجی سنجیدگی دیکھ کراس کے اندر کے کرب کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا ۔
ایک بات جو بہت غیر معمولی اور اہم تھی وہ یہ کہ اپنے جیسے معصوموں کے قتل عام پر احتجاج کرنے والے تمام بچّوں کی زبانوں پہ تالے لگے ہوئے تھے ۔ ان سب کے منہ پر ٹیپ چپکا ہوا تھا اور وہ خلاف معمول شرارتیں کرنے کے بجائے گم سم تھے ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ جان چکے تھے کہ ان کے بولنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ ورنہ جو لوگ گزشتہ پندرہ سالوں سے اپنے پیاروں کے قتل پرمسلسل دہائیاں دے رہے ہیں ان کی آہ وبکا کا کچھ تو نتیجہ نکلتا ۔ لہٰذا وہ کچھ نہیں بول رہے تھے یا شاید بول بول کے اور چیخ چیخ کے تھک چکے تھے ۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ انہیں اس بات کا احساس ہو چکا ہو کہ ان کے خون کا رنگ پشاور میں قتل ہونے والے بچّوں کے لہو کے رنگ سے مختلف ہے یا شاید ان کی آہ و فغاں میں وہ تاثیر نہیں جو ان کے محافظوں کے ضمیر کو جگا سکے ۔ اس لئے وہ چپ تھے اور کچھ نہیں بول رہے تھے ۔ لیکن لبوں کی اس خاموشی میں ان کی معصوم آنکھیں بول رہی تھیں جن سے چھلکتا ایک سوال صاف نظر آرہا تھا کہ کیا کبھی ہمارے پیاروں کے قاتل بھی پکڑے جائیں گے اور کیا کبھی ان لوگوں کو بھی تختہ دار پر لٹکایا جائے گا جن کے ہاتھ پندرہ سو ماؤں ، بچّوں بوڑھوں اور جوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ؟
 دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں ..کچھ علاج ان کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟

10846443_798430170239634_1054029182420673850_n 1601353_798431170239534_4072286709118006690_n

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔۔۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.