سڑک

سڑک 

گاڑی دھیمی رفتار سے جارہی تھی اور وہ اپنے دوست کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا جب اسے اچانک بریکیں لگانی پڑیں ۔ ان سے آگے جانے والی کار بیچ سڑک رک گئی تھی ۔ پہلے تو یہ گمان ہوا کہ شاید ٹریفک جام ہوگیا ہے ۔ اس نے کھڑکی سے سر نکال کے دیکھا تو آگے کھڑی کار کے سامنے سڑک خالی پڑی تھی ۔ اس نے غور سے دیکھا تو دوسری طرف سے آنے والی ایک گاڑی بھی عین اسی جگہ آکر رک گئی تھی اور دونوں گاڑیوں کے مالکان کھڑکیوں سے سر نکالے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے میں مصروف تھے جبکہ پیچھے کھڑی گاڑیاں مسلسل ہارن بجا رہی تھیں ۔
اسے بڑا غصہ آیا ۔
اس نے بھی ہارن پہ ہاتھ رکھ دیا اور ساتھ ہی اونچی آواز میں گالیاں بکنے لگا:
“کیا یہ تمھارے باپ کی سڑک ہے جو اس طرح ٹریفک روک کے کھڑے ہو، کیا تمہیں دوسروں کا زرہ برابر بھی احساس نہیں ؟”
اب یہ اس کے چلّانے کا اثر تھا یا مسلسل بجتے ہارنوں کا نتیجہ کہ دونوں گاڑیاں تیزی سے حرکت میں آگئیں اور ٹریفک پہلے کی طرح رواں دواں ہوگیا ۔
اس نے بھی بڑبڑاتے ہوئے اپنی گاڑی کو گیئر میں ڈالا اورٹینشن دور کرنے کے لئے سٹیریو آن کر دیا ۔
وہ کچھ دور ہی چلے ہونگے جب انہیں سامنے سے ایک گاڑی آتی دکھائی دی ۔ دونوں ایک ہی نظر میں اس گاڑی کو پہچان گئے ۔ یہ انکے جگری دوست کی گاڑی تھی ۔ اس نے ہاتھ نکال کے اشارہ کیا تو سامنے سے آنے والی گاڑی رک گئی ۔
وہ ایک دوسرے کا حال پوچھنے لگے ۔ سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لائن لگ گئی اور ہارن کی کان پھاڑنے والی آوازیں ابھرنے لگیں ۔ اس کے پیچھے کھڑی گاڑی بھی مسلسل ہارن بجائے جارہی تھی ۔
اسے بڑا غصہ آیا ۔ اس نے کھڑکی سے سر نکالا اور چلّا کے کہا ؛
“کیا یہ تمھارے باپ کی سڑک ہے جو اس طرح ہارن بجائے جا رہے ہو ، کیا دو منٹ انتظار نہیں کر سکتے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.