یہ ان باتوں کا وقت نہیں

یہ ان باتوں کا وقت نہیں :

899422-shiakillingquettahazaraafpx-1433683817-558-640x480 پہلا دن ۔
• کیا آپ نے سنا کہ خان صاحب کے بیٹے کو انٹیلیجنس اداروں نے اٹھا لیا ہے ؟
• ہاں سوشل میڈیا پہ یہ خبر ایک گھنٹے سے گردش کر رہی ہے ۔
• دیکھا یہاں سچ بولنے کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ؟
• لیکن خان صاحب کے بیٹے نے کونسا اتنا بڑا سچ بولا تھا کہ اسے اٹھا لیا گیا ؟
• سچ تو خان صاحب نے بولا تھا ۔ اس نے ہزارہ قتل عام کا جتنی دلیری سے پردہ چاک کیا تھا اس کی سزا تو اسے ملنی ہی تھی ۔
• لیکن اس میں اس کے بیٹے کا کیا قصور، ایجنسی والوں نے خود خان صاحب کو کیوں نہیں اٹھایا ؟
• یہی تو مصیبت ہے ۔ خان صاحب  پر ان  کا زور نہیں چلا تو انہوں نے اس کے بیٹے کو اٹھالیا ۔

• یہ تو بہت بری بات ہے لیکن اس کا ایک بہت سیدھا سادہ حل موجود ہے اور وہ یہ کہ  خان کچھ دوستوں کو ساتھ لیکر تھانے جائے اوراپنی  گرفتاری دے کر اپنے بیٹے کو  آزاد کرا لے ۔ اس سلسلے میں وہ یکجہتی کونسل کے رہنماؤں سردار صاحب ، حاجی صاحب اور آغا صاحب کی خدمات حاصل کر سکتا ہے جن کے اوپر والوں سے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ وہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتا ہے کیونکہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کسی کے جرم کی سزااس کی اولاد کو ملے ۔کیا اس نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی ؟
• میرے خیال میں یہ ان باتوں کا وقت نہیں ۔ اس وقت ہمیں اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے تاکہ  مل کر حکومت پر دباؤ ڈال سکیں ۔ اس لئے ہم نے احتجاج کی کال دی ہے ۔
• احتجاج سب کا بنیادی حق ہے آپ کوبھی کرنا چاہئے لیکن اس سے پہلے بھی تو بہت سارے نوجوان اپنے گھروں اور گلی محلوں سے اٹھائے جا چکے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ۔ا ن دو ہزار کے قریب عورتوں ، بچّوں اور جوانوں کی تو بات ہی نہ کریں  جو گزشتہ چند سالوں میں قتل کئے گئے ہیں لیکن کیا اس نوجوان کو آپ بھول گئے جسے حال ہی میں لیاقت بازار کے کچھ ” غیرت مندوں “نے مار مار کر ادھ موا کردیا تھا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر ڈال دی تھی کہ “سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ” اور جو اب بھی بے کسی کی حالت میں قید میں پڑا سڑ رہا ہے ۔ اس کے بارے میں تو کبھی آپ نے کوئی بیان تک دینے  کی زحمت گوارا نہیں کی ۔
• یار ایک تو تمہیں گڑھے مردے اکھاڑنے اور نفاق ڈالنے کی بہت عادت ہے حالانکہ اس واقعے کو دو سے زیادہ ہفتے گزر چکے ہیں ۔ اب ان باتوں کا وقت نہیں رہا ۔ اس وقت ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں سارے اختلافات بھلا کر یک آواز ہونا چاہئے ۔

• لیکن ابھی کچھ دن پہلے جب آپ نے ہزارہ قتل عام کے خلاف علمدار روڑ پر اپنا ” عظیم الشان جلسہ” کیا تھا تو اس میں آپ نے اتحاد کی بات کرنے کے بجائے سارا زور  اپنے مخالفین کونیچا دکھانے پر صرف کیا تھا ،پھر کیا وجہ ہے کہ اب آپ کو اتحاد کی باتیں یاد آرہی ہیں ؟
• لا حول ولا قوۃ 
! آپ پھر پرانی بات لیکر بیٹھ گئے ۔ یاریہ ان باتوں کا وقت نہیں ۔ اس وقت ہمیں اتحاد کی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے ۔ بلکہ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ہزارہ کو متحد ہوکر اس  بات پر احتجاج کرنا چاہئے ۔ اگر ان میں زرہ برابر بھی غیرت ہے تو ؟
• لیکن آپ ہی تو کہا کرتے تھے کہ “ہزارہ ہائی جہان متحد شوید ” کا نعرہ صرف لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ہے جبکہ ہمیں صرف اپنی فکر کرنی چاہئے ۔ کیا اپ کو یاد نہیں کہ جب بھی ہزارہ قتل عام کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کی کال دی جاتی تب آپ سب مل کر اس کے خلاف بھونپو بجانا شروع کرلیتے تھے؟ آپ نے تو ایک شاہی فرمان کے زریعے پاکستان سے باہر رہنے والوں کو پاکستان کے معاملات پر رائے زنی تک سے  منع کر رکھا ہے  اور برطانیہ میں ہونے والے پارلیمنٹری اجلاس اور ان کی قراردادوں کا تو آپ نے ہمیشہ مذاق ہی اڑایا اور ان کی یہ کہہ کر مخالفت کرتے رہے کہ اس سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہمارے زیادہ خلاف ہو سکتی ہے ۔پھر کیا وجہ ہے کہ ۔۔۔۔۔؟
• دیکھو یہ ان باتوں کا وقت نہیں ۔ آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اس وقت تمام غیرت مند ہزارہ کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلنا چاہئے کیونکہ یہ برا وقت کسی پر بھی آسکتا ہے ۔
• لیکن برے وقت کا آغاز تو تبھی ہوچکا تھا جب کسی نے کوئٹہ کو لبنان بنانے کی دھمکی دی تھی ۔ آپ نے تو کبھی اس کا تذکرہ تک نہیں کیا بلکہ اس موضوع پر ہمیشہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے ۔
• یار تمہاری سوئی ایک ہی جگہ اٹک گئی ہے حالانکہ یہ ان باتوں کا وقت نہیں ۔ اس وقت تو صرف اتحاد کی بات ہونی چاہئے اور قوم کے ہرغیرت مند فرد کو اس احتجاج میں شامل ہونا چاہئے تاکہ دوسروں کو ہماری طاقت کا اندازہ ہو ۔

• آپ نے یہ بات ہفتہ بھر پہلےاس وقت کیوں نہیں کہی جب پندرہ سال سے جاری قتل عام کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی جلوس نکا لا گیا تھا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی کال دی گئی تھی ، کیا آپ  اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جلوس میں شریک ہوئے تھے ؟
• یار میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ان باتوں کا وقت نہیں ۔ اس وقت ہمیں صرف اور صرف اتحاد کی ضرورت ہے ۔
• تو چلئے ایک کام کریں ۔ اپنے مطالبات میں ان تیس کے قریب نوجوانوں کی رہائی کا بھی مطالبہ شامل کریں جو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران  گھروں اور سڑکوں سے اٹھائے گئے ہیں تاکہ اندازہ تو ہو کہ آپ کو تمام اسیر نوجوانوں کی فکر ہے ۔
•تم سے تو بات کرنی ہی فضول ہے ۔ میں اتحاد کی بات کر رہا ہوں اور تم  نفاق ڈالنے پر تلے ہوئے ہو ۔
دوسرا دن ۔
• تم دھرنے میں آرہے ہو ؟
• کیسا دھرنا ؟
• ایک تو تمہاری بے خبری  پر افسوس کرنے کو دل چاہ رہا ہے ۔ ہم نے کل سے دھرنا دے رکھا ہے اور ریاست کے سامنے چار مطالبات رکھے ہیں ۔ ہم نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جب تک ہمارے چاروں مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہم اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے ۔
• اچھا ؟ یار مجھے بھی تو معلوم ہو کہ وہ مطالبات کیا ہیں ؟
11018817_10204032297677717_8296258251592619454_n

1- ریاستی دہشت گردی بند کرو۔
2- صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، آرمی چیف اور چیف جسٹس پاکستان ہمیں ضمانت دیں کہ ہمارے خلاف مزید دہشت گردی نہیں ہوگی ۔
3- سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو پندرہ سالوں سے جاری قتل عام میں ملوث عناصر کا کھوج لگائے ۔
4- طاہر خان کے بیٹے محمد اطہر خان کو فوری رہا کرے اور اسے گرفتار کرنے والوں کے خلاف انکوائری کی جائے ۔
• مطالبات تو سارے اے ون ہیں لیکن میں ایک بات سمجھ نہیں پارہا کہ آپ تو دھرنوں کے ہمیشہ خلاف تھے اور ماضی میں ہوئے دھرنوں کو ” لاشوں پر سیاست کا ” نام دیتے تھے ۔ اب کیا وجہ ہے کہ آپ خود بھی دھرنا دینے لگے ہیں ، وہ بھی محض کسی کی گرفتاری پر جس کی تفصیلات بھی معلوم نہیں ؟
• تم پہلے بھی منافق تھے اب بھی منافقت کر رہے ہو ۔ لوگ تمہارے بارے میں سچ ہی کہتے ہیں کہ تم انتہائی بے غیرت ہو اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے کام کرتے ہو ۔ اسی لئے ہمیشہ قوم میں نفاق ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہو ۔ تمہیں حالات کی نزاکت کا احساس کرنا چاہئے اور اتحاد و اتفاق کی بات کرنی چاہئے لیکن تم کچھ زیادہ ہی فضول بول رہے ہو جبکہ یہ ان باتوں کا وقت نہیں ۔
تیسرا دن ۔
• دیکھ لی سچائی اور عوام کی طاقت ؟ حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے خان صاحب کے بیٹے کو رہا کردیا ۔
• یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔مبارک ہو ! لیکن باقی مطالبات کا کیا ؟
• وہ بھی انشاءاللہ جلد ہی پورے ہونگے اور ہمارا اب بھی یہی عزم ہے کہ جب تک پہلے تین مطالبے پورے نہیں ہوتے دھرنا جاری رہے گا ۔
• چلیں اچھی بات ہے ۔ میری دعا ہے کہ آپ ثابت قدم رہیں اور آپ کے تمام مطالبات پورے ہوں ۔
• یہ ہوئی ناں بات ! پہلی مرتبہ تم نے کوئی ڈھنگ کی  بات کی ہے ۔ یہ ایسی ہی باتوں کا وقت ہے  ۔ اب مجھے لگنے لگا ہے کہ تم اتنے بھی بے غیرت نہیں ہو ۔ چلو دیر آید درست آید ۔
کچھ گھنٹے بعد ۔
• ہم نے اپنا دھرنا ختم کردیا ہے ۔
• کیوں ، کیا سارے مطالبات تسلیم کر لئے گئے ؟ اور کیا صدر پاکستان ، وزیر اعظم ، آرمی چیف اور چیف جسٹس نے ا س بات کی ضمانت دیدی کہ ہمارے خلاف مزید دہشت گردی نہیں ہوگی ؟کیا جوڈیشل کمیشن بھی بن گیا ؟

• تم سدھروگے نہیں اورہمیشہ منافق کے منافق ہی رہو گے کیوں کہ تمہیں احساس ہی نہیںکہ یہ ان باتوں کا  وقت نہیں ۔

" data-link="https://twitter.com/intent/tweet?text=%DB%8C%DB%81+%D8%A7%D9%86+%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D9%88%DA%BA+%DA%A9%D8%A7+%D9%88%D9%82%D8%AA+%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA&url=http%3A%2F%2Fwww.changezi.net%2F2015%2F06%2F11%2Fnot-a-good-time-01%2F&via=">">Tweet
621 Shares

7 Thoughts to “یہ ان باتوں کا وقت نہیں”

  1. Zakir khan
    قلم تو شاد و آباد بومنہ
  2. شبیرحسین
    بہترین ۔ بڑی سادگی سے آپ نے تمام حقیقت بتادیا ۔خدا قوم کو ان ڈرامے بازوں کے شر سے محفوظ رکھے ۔ آمین
  3. Salman

    Beautifully unveiled the drama of so called DHARNA.Now the question arises that who will come forward and answer the questions that have been raised in this article?

  4. Zabardast Hassan sahib.
    Noorband nawishtay.
    Hope everyone understand!

  5. Sir bakhki amu confusion ma Khalas kadaie.
    Zinda bashi, unmet warum ki her chi makhadit sabit kani sabit shod.

  6. wajahat

    chi maykhai sabit kani..

  7. آصف رضا میر
    انتہائی خوبصورت تحریر۔ بار بار پڑھا ہربار دلچسپ پایا۔ امید ہے جس کیلئے لکھا ہےاس کو پیغام ملا ھو

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.