کالا چشمہ

کالا چشمہ
imagesنہ جانے رات کا کونسا پہر ہوگا ؟ ہر طرف گہرا سنّاٹا طاری تھا ۔ اس کے کان پرندوں کی آوازیں سننے کے لئے بے تاب تھے ۔ آنکھوں پر پٹیاں چڑھی ہوئیں تھیں اور وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹا لحظہ شماری میں مصروف تھا ۔ صبح ہونے میں شاید ابھی دیر تھی ۔
کیا وہ دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو سکے گا؟ یہی وہ سوال تھا جس کا جواب پانے کے لئے وہ بستر پر لیٹا بے تابی سے کروٹیں بدلنے پر مجبور تھا ۔ ایک مرتبہ تو جی میں آیا کہ اپنے بیٹے کو آواز دے کر جگائے جو پاس ہی کہیں سورہا تھا لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے اپنا ارادہ بدل دیا ۔
اس کی عمر پینتالیس سال کے لگ بھگ ہوگی ۔ تقریباَ پندرہ سال پہلے ایک حادثے میں اس کی بینائی ضائع ہو گئی تھی ۔ اگرچہ اس کی جان بچ گئی تھی لیکن اسکی بدقسمتی دیکھئے کہ کئی دنوں بعد جب اسے ہوش آیا تو اندھیرے اس کی آنکھوں میں مستقل ڈیرے ڈال چکے تھے ۔ تب اس کے بیٹے کی عمر چار سال اور بیٹی کی دو سال رہی ہوگی ۔

یہ اس کے اور اس کے خاندان کے لئے زندگی کے مشکل ترین دن تھے ۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اس کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کی ذمہ داری اس کے دفتر نے اٹھا لی ورنہ اس میں تو اپنے علاج کی سکت بھی نہیں تھی ۔ ابھی وہ اس حادثے سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اس پر دوسری قیامت ٹوٹ پڑی اوراسے کچھ دے دلا کر ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا ۔
اب لے دے کے ہر مہینے ملنے والی پنشن کی معمولی رقم ہی اس کے خاندان کا واحد آسرا تھی ۔ اسے اس بات کا ڈر تھا کہ اگر آمدنی کا کوئی وسیلہ تلاش نہ کیا گیا تو دفتر سے ملنے والی رقم بھی جلد ہی ختم ہو جائے گی ۔
وہ کئی مہینوں تک انتہائی مایوسی کے عالم میں گھر پر ہی پڑا رہا لیکن پھر بیوی بچّوں کا پیٹ پالنے کی خاطر اسے گھر سے نکلنا ہی پڑا ۔ اسے دفتری کاموں کے علاوہ کسی اور کام کا تجربہ نہیں تھا ۔ اب توبینائی بھی جا چکی تھی جس کے بعد وہ پڑھنے لکھنے سے بھی یکسر قاصر ہوچکا تھا ۔ ایسے میں اسے کون نوکری دیتا ؟ لیکن بھلا ہواس کے ایک دوست کا جس کے توسط سے اسے دستکاری کے ایک ایسے ادارے میں ملازمت مل گئی جہاں اس جیسے بینائی سے محروم افراد چھوٹی موٹی گھریلو اشیاء بناکر تھوڑی بہت روزی روٹی کما لیتے تھے ۔ کئی ہفتوں کی محنت کے بعد بالا خر وہ اس قابل ہو ہی گیا کہ اپنے حصّے کا کام بخوبی انجام دے سکے ۔
آمدنی میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے تو زندگی بھی ایک مخصوص ڈگر پہ چل نکلی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی معزوری سے بھی سمجھوتہ کرلیا جس کے بعد زندگی کچھ سہل محسوس ہونے لگی ۔ شروع میں اسے کام کی جگہ جانے میں کافی مشکلات پیش آئیں ۔ وہ کوئی سواری کرنے کا متحل نہیں ہو سکتا تھا اس لئے مجبوراَ کسی دوست ، رشتہ دار یا ہمسائے کی خدمات حاصل کرلیتا جو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کام کی جگہ تک لے جاتا ۔ لیکن پھراسے محسوس ہونے لگا کہ لوگ اسے سہارا دینے سے کترانے لگے ہیں ۔ وہ خود بھی اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ زندگی بھر دوسروں کے سہارے نہیں جیا سکتا لہٰذا اسے جو کچھ کرنا تھا اپنے بل بوتے پر ہی کرنا تھا ۔ اب اس نے اپنے ایک ایک قدم کا حساب رکھنا شروع کیا اور بینائی سے محرومی کا خلاء پر کرنے کے لئے اپنی دیگر حسّیات سے زیادہ کام لینے لگا ۔ گھر سے نکلتے وقت اس کی آنکھوں پر کالا چشمہ پڑا رہتا جبکہ ہاتھوں میں سفید چھڑی ہوتی ۔ راہ چلتے اس کے کان ارد گرد کی آوازوں پر لگے رہتے ۔ سڑک پار کرتے ہوئے تو وہ کچھ زیادہ ہی احتیاط برتتا اور کچھ لمحے رک کر دونوں اطراف سے آنے والی گاڑیوں کی سن گن لیتا پھر تسلی ہونے کے بعد ہی زور زور سے چھڑی زمین پر مارتے ہوئے سڑک پار کرلیتا ۔ راستے میں پڑنے والے چینکی ہوٹل سے آتی دودھ پتّی کی خوشبو اس بات کی علامت ہوتی کہ وہ سفر کا بڑا حصّہ بخیرو عافیت طے کر چکا ہے ۔ اور جب سڑک کے کنارے بنے کچرہ دان سے اٹھتی ناگوار بدبو اس کے نتھنوں سے ٹکراتی تو اسے فوراَ اندازہ ہوجاتا کہ اس کی منزل اب زیادہ دور نہیں ۔
جیسے تیسے کرکے اس نے زندگی کے پندرہ سال گزار دیئے ۔ اس کی خوش قسمتی دیکھئے کہ بچّے بھی پڑھائی میں تیز نکلے ۔ بیٹے نے کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا جبکہ بیٹی کالج جانے لگی ۔ دونوں شام کو مختلف اوقات میں آس پڑوس کے بچّوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتے جن کی آمدنی سے نہ صرف ان کے تعلیمی اخراجات نکل آتے بلکہ گھرمیں کچھ نئی چیزیں بھی آجاتیں ۔ یوں زندگی ایک مناسب ڈھنگ سے گزرنے لگی اوراس کا اطمینان بھی بڑھنے لگا ۔ البتہ نہ جانے کیوں کبھی کبھاراسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کی بیوی کی آواز میں وہ پرانی شگفتگی ، کھنک اور شوخی باقی نہیں رہی تھی اس کے برعکس اس کی آواز میں تھکاوٹ کے آثار دکھائی دینے لگے تھے ۔ وہ کبھی اپنی بیوی کے چہرے کو ہاتھوں سے چھوتا تو اس کے چہرے پر جھریوں کا احساس کرکے اس کے دل پر ایک چوٹ سی لگتی ۔
کیا وہ اب بھی اتنی ہی خوبصورت ہوگی ، وہ سوچا کرتا ؟
پھرایک دن اس کی زندگی میں گویا انقلاب آگیا ۔ وہ ابھی گھر ہی پہنچا تھا جب اس کے بیٹے نے اسے ایک ایسی خوشخبری سنائی جواسکی زندگی بدلنے والی تھی ۔ شہر کے سرکاری ہسپتال میں کچھ غیر ملکی ڈاکٹر آئے ہوئے تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ آنکھوں کی انتہائی پیچیدہ بیماریوں کا بھی علاج کر سکتے ہیں ۔ بیٹے نے یونیورسٹی سے واپس آتے وقت ان سے اپائنٹمنٹ لے لی تھی اور کل انہیں ان ڈاکٹروں سے ملنے جانا تھا ۔ اچھی بات یہ تھی کہ مریضوں کو اپنے پلّے سے کچھ نہیں دینا تھا بس ہسپتال کے کچھ معمولی اخراجات بھرنے تھے ۔ اگرچہ اسے کسی معجزے کا یقیں نہیں تھا لیکن ایک موہوم امید کے سہارے وہ ان غیر ملکی ڈاکٹروں سے ملنے پر آمادہ ہوگیا ۔
اگلے دن ڈاکٹروں نے اس کی آنکھوں کے مختلف ٹیسٹ لینے کے بعد خوشخبری دی کہ ایک آپریشن کے بعد اس کی بینائی واپس آسکتی ہے ۔
آج اسے ہسپتال میں داخل ہوئے دو دن ہوچکے تھے شام کو اس کی آنکھوں کا آپریشن بھی ہوچکا تھا اور کل اس کی پٹیاں کھلنے والی تھیں ۔
کیا واقعی کل میں دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو سکوں گا ؟ یہی سوچتے ہوئے اس کی آنکھ لگی تو اندھیرا چھٹنے اور پو پھٹنے کے قریب تھا ۔
ہسپتال سے گھر واپسی پر اس کی دنیا مکمل بدل چکی تھی ۔ اس کی آنکھوں پر اب بھی وہی کالا چشمہ چڑھا ہوا تھا جو وہ ایک عرصے سے پہنتا آرہا تھا لیکن فرق اتنا تھا کہ کالے تاریک چشمے سے ڈھکی اس کی آنکھیں اب روشنی سے بھرپور تھیں اور اسے سب کچھ صاف نظر آرہا تھا ۔ اس کی نظریں بار بار اپنے جوان خوبصورت بیٹے کی طرف اٹھ رہی تھیں جو موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔
"ہم بس پہنچنے ہی والے ہیں "۔
یقیناَ اپنی ماں سے بات کر رہا ہوگا ۔ اس نے سوچا ۔ اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی تاکہ اپنی بیوی اور بیٹی کو جی بھر کر دیکھ سکے ۔
” چلئے ابو گھر آگیا ” رکشہ ایک جگہ رکا تو بیٹے نے آواز دی اور اتر کے رکشے والے کو پیسے دینے لگا ۔
وہ چونک پڑا اور رکشے سے سر نکال کے باہر دیکھنے لگا ۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں ۔ اس نے سڑک کے اس پار تنگ گلی میں واقع اپنے گھر کو پہچان لیا تھا ۔ وہ تقریباَ ویسا ہی تھا جیسا اس نے اسے پندرہ سال پہلے دیکھا تھا ۔ ہاں یہ وہی جگہ تھی جہاں سے سفید چھڑی تھامے وہ روز گزرا کرتا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکا تھا ۔
اس کے پاؤں میں بجلیاں سی بھر گئیں ۔ اس کی نظریں گھر کے دروازے پر ٹکی تھیں جس کے اس پاراس کی بیوی اور بیٹی اس کی راہ تک رہی تھیں ۔ وہ رکشے سے اترا اور سڑک پر اپنے قدم رکھ دیئے ۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ سڑک پار کرلیتا ایک گاڑی تیزی سے نمودار ہوئی اوراسے کچلتے ہوئے آگے جاکر رک گئی ۔
اس کا بیٹا بھاگ کر اس کے پاس پہنچا تو اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور کالا چشمہ ٹوٹ کر دور جا پڑا تھا ۔

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں