اکلوتا

اکلوتا 

deaf-grumpy-old-man "بیٹا آج واپسی پر اپنے ابو کے لئے آلہ سماعت لانا نہ بھولنا، تم روز بھول جاتے ہو” ماں نے ایک بار پھر اسے یاد دلایا۔
"میں بھولتا نہیں لیکن نہیں لا پاتا کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں ۔ اور ابھی پچھلے سال ہی تو میں نے انہیں ایک آلہ خرید کر دیا تھا ۔ اب میری اتنی آمدنی کہاں کہ میں روز انہیں ایک نیا آلہ لیکر دوں ؟” بیٹے نے اپنے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے کہا!
"لیکن وہ تو کب کا ٹوٹ پھوٹ چکا, اب تو تمہارے ابو کہیں آتے جاتے بھی نہیں ۔ کہتے ہیں کہ جب مجھے لوگوں کی باتیں سنائی ہی نہیں دیتیں تو میں ان سے مل کر کیا کروں گا؟” ماں نے ایک بار پھر امید بھری نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا!

"ابو احتیاط بھی تو نہیں کرتے تبھی تو انہوں نے وہ آلہ اتنی جلدی توڑدیا۔ اب کیا گارنٹی ہے کہ وہ نئے آلے کو سنبھال کر رکھیں گے,اوپر سے کاروبار میں بھی اب وہ پہلے والی بات کہاں؟ اس لئے ابو سے کہئے کہ وہ کچھ مہینے اور انتظار کرلیں جب پیسے آئیں گے تو دیکھا جائے گا۔ ویسے انہیں باہر جانے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ بہتر ہے کہ آرام سے گھر بیٹھے رہیں ۔ اب میں چلتا ہوں کیونکہ مجھے دیر ہورہی ہے” اس نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا!۔
لیکن ابھی وہ صحن میں پہنچا ہی تھا کہ اس کا چارسال کا اکلوتا بیٹا دوڑتا ہوا آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
"ابو مجھے نئی والی گاڑی چاہئے جو ماجد کے پاس ہے اور جس پر رنگ برنگی بتیاں لگی ہوتی ہیں” بیٹے نے مچلتے ہوئے کہا!
"ارے رے رے میرے بیٹے کو نئی گاڑی چاہئے! ٹھیک ہے میں واپسی پر لیتا آؤنگا۔ لیکن اس شرط پر کہ تم اپنی امی کو تنگ نہیں کرو گے ” اس نے بیٹے کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
"ارے آپ بھی کس کی باتوں میں آگئے ؟ ابھی پچھلے ہفتے ہی تو آپ اس کے لئے بیٹری سے چلنے والا روبوٹ لیکر آئے تھے لیکن اس نے دو ہی دنوں میں اسے توڑ کر رکھ دیا۔ اب آپ پھر ڈھیر سارے پیسے خرچ کرکے اس کے لئے نئی گاڑی لے آئیں گے جسے یہ اسی طرح کچھ ہی دنوں میں توڑ پھوڑ دے گا”
یہ آواز اس کی بیوی کی تھی جو باپ بیٹے کی تکرار سن کر باورچی خانے سے نکل آئی تھی۔
"تو کیا ہوا ، کھلونے کیا ہمارے بیٹے کی خوشی سے بڑھ کر ہیں ۔ ایک ہی تو بیٹا ہے ہمارا ۔ اب اگر ہم اس کی اتنی سی بھی فرمائش پوری نہیں کریں گے تو ہماری محنت و مشقت کا فائدہ ہی کیا؟”
یہ کہہ کر وہ باہر جانے لگا تو اس کی بیوی اور بیٹا بھی باورچی خانے کی طرف لوٹ گئے۔
لیکن اس کی ماں دیرتک کمرے میں گم سم بیٹھی رہی۔

Share This:

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں