پناہ گاہ

پناہ گاہ 

forest-05
وہ سارے سر جوڑے بیٹھے ہوئے تھے ۔ سب کے چہروں پر فکر مندی کے آثار تھے اور جسموں پر نقاہت طاری تھی ۔ ان کے ہاں خوراک کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔ بچّے بھوک سے بلک رہے تھے لیکن ان کی ماؤں کے پاس انہیں دینے کو کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا ۔ بوڑھے اور کمزور تو پہلے ہی خوراک نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار چکے تھے جبکہ جو زندہ تھے وہ بڑی بے بسی سے حالات کے سدھرنے کا انتظار کر رہے تھے ۔
انہیں اس زیر زمین ٹھکانے میں پناہ لئے کئی مہینے ہو چکے تھے ۔ یہ محفوظ ٹھکانہ جو ایک سرنگ میں بنی بھول بھلیوں کی شکل میں تھا ان کے بزرگوں نے بنا رکھا تھا جو اس طرح کے حالات سے بارہا گزرچکے تھے ۔

بزرگوں سے ہی انہوں نے یہ سیکھا تھا کہ ایسے مشکل حالات کا کیسے مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ بڑے بوڑھوں نے انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے اس لئے انہیں ہر قسم کی صورت حال کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے تاکہ نقصان کم سے کم ہو ۔
ان کا تعلق ایک قدیم قبیلے سے تھا ۔ وہ ہمیشہ سے بڑے محنتی تھے ۔ اتحاد و اتفاق پر مکمل یقین رکھتے تھے اس لئے تمام کام مل جل انجام دیتے ۔ یہ ان کی محنت اور غیر معمولی اتفاق کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ بڑے سے بڑا کام بھی بڑی آسانی سے انجام دیتے ۔ ان کا آپس میں جھگڑا کم ہی ہوتا لیکن اگر کبھی ایسی کوئی نوبت آ بھی جاتی تو قبیلے کی سربراہ جسے ملکہ کہا جاتا تھا ان کے درمیان تصفیہ کرادیتی ۔ پشتہا پشت سے چلنے والی روایات کے مطابق ملکہ کی بات حرف آخر ہوا کرتی تھی اور کسی کو اس کے احکامات سے روگردانی کی ہرگز اجازت نہیں تھی ۔
ملکہ کے آس پاس ہمیشہ چند تجربہ کار بوڑھے بوڑھیوں کا جھمگٹا لگا رہتا تھا جو قبیلے کے معاملات کی نگرانی میں ملکہ کا ہاتھ بٹاتی تھیں جس کے باعث تمام معاملات عموماَ خوش اسلوبی سے طے پاتے تھے ۔ لیکن اس مرتبہ پتہ نہیں کیا وجہ تھی کہ ان کی ذہانت کسی کام نہ آسکی اور وہ خراب حالات کی سنگینی کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے ۔ حالانکہ علاقے میں اس سے پہلے بھی حالات کئی بار خراب ہوئے تھے لیکن ہر مرتبہ انہوں نے مل جل کر تمام مشکلات کا مقابلہ کیا تھا ۔
ایسے میں زیر زمین بنی اس سرنگ نماء پناہ گاہ کی دیکھ بھال اور مرمت ہمیشہ ان کی پہلی ترجیح ہوتی جہاں حالات سدھرنے تک وہ آرام سے رہ سکتے تھے ۔ اس لئے وہاں کی دیواروں اور چھت کی تفصیلی جانچ کی جاتی اور جونہی کہیں کسی چھید کی موجودگی کا احساس ہوتا وہ فوراَ اس کی مرمت کا کام شروع کردیتے ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ خوراک کا ذخیرہ بھی کرتے رہتے تاکہ زیر زمین رہتے وقت انہیں کھانے کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ یہ خوراک وہ سرنگ میں بنی مخصوص جگہوں پر رکھتے اور جی جان سے اس کی نگرانی کرتے ۔ انہیں زیادہ فکر نوزائیدہ بچّوں اور بوڑھوں کی رہتی جو دوسروں کا محتاج ہونے کے باعث اپنا دفاع کرنے کے بھی قابل نہیں تھے ۔
انہیں یہاں پناہ حاصل کئے کئی مہینے ہو چکے تھے ۔ باہر کے حالات بدستور انتہائی خراب تھے اس لئے وہ اپنے ٹھکانے سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ وہ اپنے انتظامات سے بہت حد تک مطمئن تھے اس لئے انہیں یقین تھا کہ پہلے کی طرح وہ اس مرتبہ بھی یہ مشکل دن گزارہی لیں گے ۔ آغاز میں تو انہیں کچھ زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا نہ ہی کوئی بڑا واقعہ رونماء ہوا لیکن پھر ان پر ایک کے بعد ایک مصیبتیں نازل ہونے لگیں ۔ تب سردیاں اپنے زوروں پر تھی اور بارش اور برف باری کا سلسلہ بھی عروج پر تھا ۔ اگرچہ انہیں اپنی پناہ گاہ کی مضبوطی پر بڑا اعتبار تھا لیکن شاید یہ ان کی خام خیالی تھی کیونکہ ایک رات جب قیامت کی برف پڑرہی تھی تب سرنگ کی چھت ایک جگہ سے ٹوٹ کر گر گئی جس کے باعث اس میں تیزی سے کیچڑ بھرنے لگا ۔ یہ افتاد اتنی اچانک تھی کہ انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا اور ان کی خوراک کا بڑا حصہ کیچڑ میں بہہ کر غائب ہو گیا ۔
اگلی صبح جب طوفان تھما تو ان کی نظریں اس جگہ پڑیں جہاں انہوں نے خوراک ذخیرہ کر رکھا تھا لیکن اب وہاں صرف کیچڑ ملا پانی ہی نظر آرہا تھا جس میں بچی کچھی خوراک کے علاوہ کچھ لاشیں تیر رہی تھیں ۔
جیسے تیسے کرکے سب نے مل کر چھت کی مرمت تو کرڈالی اور کیچڑ میں سے خوراک کی تھوڑی بہت مقدار بھی نکال لی لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ ان سب کے زندہ رہنے کے لئے قطعی ناکافی ہے ۔ لہٰذا طے پایا کہ اس باقی ماندہ خوراک کو انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جائے گا تاکہ باہر کے حالات بہتر ہونے تک زندہ رہا جاسکے ۔
اس حالت میں کئی مہینے گزرگئے اور وہ وقت آن پہنچا جب ان کے پاس خوراک کا ایک دانہ بھی باقی نہ رہا جبکہ حالات جوں کے توں تھے ۔یہ ان کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے ۔ اب وہ صبح ہوتے ہی سر جوڑ کر بیٹھ جاتے اور کھانے کی تلاش کے طریقوں پر صلاح و مشورہ کرتے ۔ ان کے کان باہر کی اوازوں پر لگے رہتے تاکہ کسی متوقع تبدیلی کا احساس کرسکیں جبکہ ملکہ ہرروز بلاناغہ کسی نہ کسی طرح سرنگ کے واحد اور خفیہ دہانے سے سر نکال کے بڑے احتیاط سے باہر کی صورت حال کا جائزہ لیتی لیکن ہر بار نا امید لوٹ جاتی ۔
آج بھی سب سر جوڑے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ملکہ حسب معمول سرنگ کے دہانے سے سر نکالے چاروں طرف دیکھنے میں مصروف تھی ۔ تب اچانک اس کی آنکھیں چمکنے لگیں ۔ اسے سامنے بنے میدان میں ہلکا سبزہ نظر آرہا تھا ، درختوں پربھی کونپلیں پھوٹ آئی تھیں جبکہ فضاء میں گونجنے والی پرندوں کی خوبصورت آوازیں بہار کی نوید دے رہی تھیں ۔ ہر طرف سکون ہی سکون تھا ۔ اس نے سر اٹھا کرآسمان کی طرف دیکھا تو سورج پوری آب و تاب سے چمکتا نظر آیا ۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور گہری سانسیں لیکر ہوا میں رچی خوشبو سونگھنے لگی ۔ پھر جب وہ واپس سرنگ کے اندر آئی تو اس کے ہونٹوں پر ایک نقاہت بھری مسکراہٹ سجی ہوئی تھی جسے محسوس کرکے سب کے تن مردہ میں جان سی پڑ گئی ۔ یہ دیکھ کر ملکہ نے سب کو ایک مخصوص اشارہ کیا اور خود آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سرنگ سے باہر نکل گئی ۔ جس کی پیروی کرتے ہوئے باقیوں نے بھی قطار بنا کر سرنگ سے باہر نکلنا شروع کیا ۔ کچھ ہی دیر بعد چیونٹیوں کا یہ قبیلہ ایک بار پھر خوراک جمع کرنے میں مصروف تھا تاکہ نہ صرف خود پیٹ بھر کر کھا سکیں بلکہ اگلی سردیوں کے لئے بھی کھانے کا وافر ذخیرہ کر سکیں ۔
٭
حسن رضا چنگیزی

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں