عالمی یوم یک جہتی ہزارہ

عالمی یوم یک جہتی ہزارہ

ایک اکتوبر کا دن شاید اوروں کے لئے کوئی بہت خاص دن نہ ہو۔  مگر میرے جیسوں کے لئے اس دن کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب سال میں ایک مرتبہ ہی سہی دنیا بھر کے ہزارہ اپنے آپ کو ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ دراصل اپنی جڑ سے پیوستہ رہنے کی ایک جبلّی خواہش کا اظہار ہے ۔ کسی کو اس سے اختلاف کا اتنا ہی حق ہے جتنا مجھے اس سے اتفاق کا ۔
میرے خیال میں ہم یا ہم میں سے بعض لوگ Stockholm Syndrome کا شکار ہیں جو قید سے آزادی حاصل کرنا ہی نہیں چاہتے ۔ کوئی نئی اختراع اور نئی بات ان پہ گراں گزرتی ہے ۔ وہ اس بات سے بھی آزردہ ہوتے ہیں کہ یہ قدم فلاں نے کیوں اٹھایا؟ یا وہ اس کا کریڈٹ کیوں لے رہا ہے ؟ اس لئے وہ اڑنگا دینے لگتے ہیں ، وہ اپنی تمام توانائی اس عمل کو غلط ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں ۔ یہ سوچے بناء کہ ہمیں غموں کے سمندر سے خوشیوں کے کچھ قطرے کشید کرنے کا حق حاصل ہے ۔
ان لوگوں کی اتنی بساط ہی نہیں کہ کسی کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں لیکن ان زخموں پر چھڑکنے کے لئے نمک کی بوری ہمیشہ ساتھ لئے پھرتے ہیں ۔
شاید اسی موقع کے لئے بابا طاہر عریان نے کہا تھا کہ
اگر مرہم نئی زخم دلم را
نمک پاش دل ریشم چرائی
یعنی اگر میرے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو ان پر نمک کیوں چھڑکتے ہو ؟
میری طرف سے عالمی یوم یکجہتی ہزارہ ہر اہل دل کو مبارک ہو ۔

One thought on “عالمی یوم یک جہتی ہزارہ

  • 30/09/2016 at 5:23 pm
    Permalink
    bisyar khubshi
    lkn bazia bekhi khilaf azi roz asta khudakh chara
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.