اس کو رخصت نہ ملی

اس کو رخصت نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

12027600_1627653130828683_2554155381477970766_n
کتنے لوگ آئے اور چلے بھی گئے ۔ کوئی کراچی سے آیا اور تین مہینوں کی عبوری وزارت کے دوران کچھ عمارتوں پر اپنے نام کی تختی لگا کے ہمیشہ کے لئے واپس چلا گیا ۔ اب کوئی اس کے بارے میں بات نہیں کرتا ۔
کوئی کسی کھمبی (خِلیلئ) یعنی Mushroom کی طرح اچانک زمین سے نکلا اور کئی سال وزارت کے مزے لوٹنے کے بعد آرام سے چلتا بنا اور لوٹ کر کسی کی خبر نہیں لی ۔ اس کے بارے میں بھی کوئی کچھ نہیں بولتا ۔
اس سابق وزیر کے بارے میں بھی کوئی بات کرنے کی زحمت نہیں کرتا جس کے پاس پہلے چلانے کو سائیکل تک نہیں تھی لیکن آج اسکے کروڑوں روپے غیر ملکی بینکوں میں پڑے ہیں اور جس کی شکل دیکھنے کو بھی لوگ ترس گئے ہیں ۔
جس تنظیم نے عوام کے اربوں روپے کی جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے اور جس کی ماہانہ کروڑوں روپیوں کی آمدنی کا بھی کوئی حساب کتاب نہیں اس کی طرف بھی کسی کی نظریں نہیں اٹھتیں ۔

جن ملاؤں نے کوئٹہ کو لبنان بنانے کا وعدہ پورا کیا اور جو 2000 سے زاید معصوموں کے قتل کے برابر ذمہ دار ہیں ان سے بھی کوئی مائی کا لال کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں کرتا ۔
جو لوگ ایرانی اور لبنانی ملاؤں کی تصویروں کی نمائش کرکے اور یوم القدس کے نام پر معصوم جوانوں کو خون میں نہلانے کے ذمہ دار ہیں ،ان سے باز پرس کی ہمت بھی کسی میں نہیں ۔
وہ ٹرانسپورٹ مافیا جو مقدس مقامات کی زیارات کے نام پر معصوم لوگوں کی جانیں داو پر لگا کر اور ان کی جیبیں خالی کر اکے جائیدادوں پہ جائیدادیں خرید رہا ہے ، بھی کسی کو نظر نہیں آرہا ۔
وہ اشخاص جو سیکیوریٹی کے نام پر زائرین کی ہر بس سے 5،000 تا 10،000 روپے وصول کرکے نوجوان اور چھوٹے بچّوں کو زائرین کی حفاظت کے لئے مستونگ کی قتل گاہ میں بھجواتے رہے ہیں ، وہ بھی سب کی نظروں سے اوجھل ہیں ۔
ان کی طرف سے بھی سب نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جو شہادت سعادت کا نعرہ لگاتے رہتے ہیں لیکن مسلح محافظوں کے بغیر ٹوائلٹ بھی نہیں جاتے ۔
وہ کفّار دشمن مومنین اور سامراج دشمن کامریڈز بھی کسی کو نظر نہیں آتے جو مغربی ملکوں میں سوشل اور سینٹر لنک کے پیسے کھاکھا کر اپنی کافر اور سامراج دشمنی کا نا قابل تردید ثبوت فراہم کر رہے ہیں ۔
ایسے لوگ بھی سب کی آنکھوں سے اوجھل ہیں جن کے ایک ہاتھ میں ہمیشہ نہج البلاغہ اور دوسرے ہاتھ میں کامریڈ لینن کی کتاب ہوتی ہے اور جو حسب ضرورت ہفتہ وارایک فیس بکی  پمفلٹ نکال کے اور گاہے بہ گاہے فیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرکے شہیدوں میں اپنا نام لکھواتے رہتے ہیں ۔
بلکہ سب آستینیں چڑھا کے ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنا سبق نہیں بھولے ، جو خانہ بدوشوں کی طرح اپنا  دفتر صرف اس لئے تبدیل کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی جائیداد نہیں اور وہ اپنے دفتر کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکتے ، جو ہمیشہ جان ہتھیلی پر رکھے رہتے ہیں ، جن پر درجنوں ناجائز مقدمات قائم ہیں ، جنہوں نے کوئٹہ کو خانہ جنگی سے بچائے رکھا ، جو فیس بک پر انقلاب لانے کے بجائے اپنے ہمسایوں کے دکھ درد میں عملاَ شریک ہونے کو ترجیح دیتے ہیں اور جو بھائی چارے اور پر امن بقائے باہمی کی بات کرتے ہیں ۔
ہاں یہ وہی لوگ ہیں جن کا کمبل ہتھیانے کے لئے چوروں اور ٹھگوں نے تمام تر اختلافات کے باجود ایکا کر لیا ہے ۔
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو رخصت نہ ملی جس نے سبق یاد کیا ۔

Share This:

One comment

  • چنگیزی صاحب، اس امید کے ساتھ کہ صبح اٹھوں تو آپ مذکورہ بالا قسم کے، خاص مقاصد کے لیےپالےگئےخدائی فوجداری پر مامور مجاہدین، انسانیت کے نام نہاد ٹھیکیداران اورسچائی کی من مانی تعریف کرنے والے تنگ نظرعلم برداران کے بِلا سوچے سمجھے (یا خوب سوچے سمجھے) جارحانہ تیر و تفنگ کے ہدف پر نہ ہوں، دعا گو ہوں کہ اس کی بجائے وہ سر بہ گریباں ہوں، فکر میں غلطاں ہوں

    آئیے ہاتھ اٹھائیں

    آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
    ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں
    ہم جنھیں سوزِ محبت کے سوا
    کوئی بُت کوئی خُدا یاد نہیں

    آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی
    زہرِ امروز میں شیرینئ فردا بھر دے
    وہ جنہیں تابِ گراں بارئ ایام نہیں
    ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے

    جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں
    ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے
    جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں
    ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے

    ”جن کا دیں پیروئ کذب و ریا ہے ان کو“
    ہمتِ کفر ملے ، جراتِ تحقیق ملے
    جن کے سر منتظرِ تیغِ جفا ہیں ان کو
    دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

    عشق کاسِرّ نہاں، جانِ تپاں ہے جس سے
    آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے

    حرف ِحق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
    آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے

    فیض

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں