تھپڑ

تھپڑ 

29 فروری، 2016 ۔۔۔۔
میرے ابو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ لیکن وہ کمال کے انسان تھے۔ میں نے ان کی زبان سے کبھی بھی کسی قسم کی معمولی اور ” بے ضرر” سی گالی بھی نہیں سنی ۔ مجھے اپنے گال پر پڑا ان کا صرف ایک ہی تھپڑ یاد ہے ورنہ وہ مارپیٹ کے بجائے ہمیشہ مہذب طریقے سے بات چیت کو ترجیح دیتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میری مسیں بھیگنےلگی تھیں، ان دنوں وہ مجھے باقاعدگی سے نماز پڑھنے کی تلقین کیا کرتے تھے ۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ “جب تک تم اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے اور تمہیں’شعور’ نہیں آجاتا ، تمہاری رہنمائی میری ذمہ داری ہے ۔ پھر جب تم اپنا بھلا برا سمجھنے لگوگے تو یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہوگا کہ تم نماز پڑھتے ہو یا نہیں!” بعد میں ایسا ہی ہوا ۔ جب میری داڑھی مونچیں نکل آئیں اور میں ٹھیک ٹھاک مسٹنڈا نظر آنے لگا تو انہوں نے مجھے صبح سویرے نماز کے لئے جگانا بند کر دیا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ اب میں اپنے برے اور بھلے میں تمیز کر سکتا ہوں تب انہوں نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا تاکہ میں اپنی مرضی کے افکار کا انتخاب کر سکوں ۔ وہ جمہوری سوچ پر یقین رکھتے تھے اس لئے میرے ” شعور حاصل کرنے کے بعد” انہوں نے کبھی مجھ پر اپنی سوچ مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی ۔
ہم بھائی بہنوں کی تربیت اسی ماحول میں ہوئی ۔ شاید اسی لئے ہم بھائیوں نے اپنے لئے الگ الگ فکری راہوں کا انتخاب کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کیا ۔
ہم چاروں بھائی سوچ اور افکار کے لحاظ سے ایک دوسرے سے کافی حد تک متفاوت ہونے کے باوجود آپس میں انتہائی محبت رکھتے ہیں ۔ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی پریشانیوں پر تڑپ اٹھتے ہیں ۔ کھانے کے معاملے میں ہماری پسند ایک جیسی نہیں لیکن ہم موقع ملنے پر ایک ہی دسترخوان پرکھانا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ الیکشن کے دنوں میں ہم آپس میں اپنے پسندیدہ امیدوار اور اس کی خوبیوں یا خامیوں سے متعلق بات تو کرتے ہیں لیکن آپس میں لڑتے جھگڑتے بلکل نہیں ۔ نہ ہی ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں ۔
ہم چاروں بھائی کبھی کبھار آپس میں کسی اختلافی موضوع پر بات کرتے ہوئے اونچا بھی بولنے لگتے ہیں لیکن اس سے ہمارے رشتے میں کبھی دراڑ نہیں آتی ۔
اس بات پر ہمیں طعنے بھی سننے پڑتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم چاروں بھائی کسی ایک بات پراتفاق نہیں کر سکتے تو ہم عوام کے اتحاد کی بات کیوں کرتے ہیں ؟
ہم اپنے گھر کی عورتوں کو بھی اس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ ہم مردوں کے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں ۔
انتخابات کے دواران عموماَ ایسا ہوا ہے کہ اگرامی نے ایک امیدوار کو ووٹ دیا ہے تو بیوی کسی اور امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال آئی ہے ۔ جبکہ میرا پسندیدہ امیدوار کوئی اور رہا ہے ۔
میرے دوست بھی مختلف نظریات رکھتے ہیں ۔ کوئی مولوی ہے تو کوئی ایتھیسٹ ۔ کوئی سوشلسٹ ہے تو کوئی سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی فلاحی معاشرے کا پرچارک ۔ ہم آپس میں کھل کربحث کرتے ہیں لیکن ان مباحث کو دل پر لیکر ایک دوسرے سے قطع تعلق ہرگز نہیں کرتے ۔
دوستوں کا تو نہیں معلوم لیکن مجھے اس بات کا سو فیصد یقین ہے کہ اگر میرے اندر تھوڑا بہت ظرف موجود ہے تو یہ بلاشبہ میرے ابو کی دین ہے ۔ ابو کے بتائے اور سکھائے ہوئے یہ اصول اب شاید میری رگ رگ میں بس گئے ہیں حالانکہ میں کبھی کبھار یہ سوچ کر شرمندہ ہوجاتا ہوں کہ میں بظاہر”تعلیم یافتہ” ہوتے ہوئے بھی ان کے پائے کا انسان کیوں نہیں بن سکا۔
لیکن میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ میں پرابلم کا حصہ بننے کے بجائے اپنے ابو کی طرح حل کا حصہ بنوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ کچھ لکھتے یا بولتے وقت کبھی کبھار میرے لہجے میں تلخی بھی آجاتی ہے لیکن اس تلخی میں میرے ابو کے اس تھپڑ کا لمس ہوتا ہے جو انہوں نے کبھی انتہائی مجبور ہوکر میرے گال پر رسید کیا تھا ۔

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔۔۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.