کرامت

کرامت

28مئی، 2016

حاجی صاحب کی شہرت چارسو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہر طرف ان کی کرامات کی دھوم تھی ۔ ان کے عالیشان گھر پرہمیشہ سائلین کا جھمگٹا لگا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے ان کے ہاں حاضری دینے آتے جن میں ہر عمر اور طبقے کے لوگ شامل ہوتے۔ معتقدین اور مریدین میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہوتی جو گھریلو ناچاقی، غربت ،بچّوں کے روزگار یا ان کی شادی سے متعلق پریشانیوں کا حل ڈھونڈنے حاجی صاحب کے حجرے کا طواف کرتی نظر آتیں۔ مرادوں کے حصول کے لئے آنے والوں کی قطار میں ایسے نوجوان عشاق کی بھی کوئی کمی نہیں تھی جو اپنی ناراض محبوباؤں کو رام کروانےکی خاطر حاجی صاحب کی دعاؤں کے متمنی ہوتے۔

انتظار گاہ میں ہر وقت ایسے مریضوں کی بھی بھیڑ لگی رہتی جو یا تو ڈاکٹروں سے علاج کی سکت نہیں رکھتے تھے یا پھر ہسپتالوں کے چکر لگا لگا کر تنگ آچکے ہوتے۔ بعض لوگوں کا تو یہاں تک خیال تھا کہ حاجی صاحب کے قبضے میں کچھ ایسے جنّات ہیں جو ہر وقت ہاتھ باندھےان کے احکامات کے منتظر رہتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے آستانے پرایسے بھی مریض کثرت سے لائے جاتے جن پر جن یا بھوتوں کا سایہ ہونے کا شبہ ہوتا۔ ایسے مریضوں کا علاج ایک خصوصی کمرے میں کیا جاتا جہاں حاجی صاحب جنوں اور بھوت پریتوں کی ایسی چھترول کرتے کہ ان کی چیخیں سن کرباہر بیٹھے مریدوں کے بھی ہوش اڑ جاتے۔ حجرے کے باہر وسیع میدان میں عموماََ قیمتی گاڑیاں کھڑی رہتیں جو ان سیٹھوں یا بیگمات کی ہوتیں جنہیں حاجی صاحب کی صحبت میں بیٹھ کر اور ان کی دانائی و حکمت سے بھرپور باتیں سن کر یک گونہ اطمینان حاصل ہوتا۔ حاجی صاحب کی ایمان افروز باتیں اتنی میٹھی اور قلب و روح میں اترجانے والی ہوتیں کہ ان کی محفل میں لمحہ بھر کے لئےبیٹھنے والوں کو بھی اپنے گناہوں کا بوجھ ایک دم ہلکا سالگنے لگتا۔
وہ اپنے سائلین اور مریدین کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے اور ہر ایک کی بات حتی الامکان بڑے انہماک سے سنتے۔ کہنے والوں کا کہنا تھا کہ ان کی دعاؤں میں بڑی تاثیر تھی اور کم ہی ایسا ہوتا کہ انہوں نے کسی سائل کے حق میں دعا کی ہو اور اس کی مراد بھر نہ آئی ہو۔ لیکن بالفرض کبھی ایسا ہو بھی جاتا تو حاجی صاحب سائل کویہ کہہ کر تسلی دیتے کہ “شاید اللہ کی یہی مرضی تھی۔” وہ مریضوں کو ہمیشہ اپنادم کیا ہوا پانی پلاتے جبکہ بعض صورتوں میں وہ لوگوں کو مختصر سی تعویزبھی لکھ کردیتے ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ یہ سارا کام فی سبیل اللہ کرتے تھے اور ان کے بدلے کسی بھی قسم کی فیس یا نذرانہ نہیں لیتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ رخصت ہوتے وقت ان کے قدموں میں حسب توفیق کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرتے تھے، جسے وہ نظر بھر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ یہ کام ان کے گھریلو خدام انجام دیتے جوہر گھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے بعد ہرے رنگ کی ایک بڑی سی چادر میں بڑی لاپرواہی سے نذرانے کی رقم اور قیمتی اشیاء کی گٹھڑی بنا کر لے جاتے۔
حاجی صاحب کے چار بچّے تھے۔ بیٹا اکمل اکلوتا اور سب سے بڑا تھااور اسی سال بارہویں جماعت کا امتحان دینے والا تھا۔ اب اسے حاجی صاحب کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ اکمل اگرچہ کافی اچھے ڈیل ڈول والاایک خوبرو نوجوان تھا لیکن اسے پڑھنے لکھنے میں زرہ برابر بھی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ سکول میں بھی ہمیشہ بہ مشکل ہی پاس ہوتا آیا تھا۔ میٹرک میں تو اس کے نمبر اتنے کم آئے تھے کہ اگر وہ حاجی صاحب کا بیٹا نہ ہوتا تو اسے کسی کالج میں داخلہ ملنا بھی محال تھا۔ اس پر طرّہ یہ کہ اسے اپنے والد کی مصروفیات سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ اسے خوشی تھی تو بس اس بات کی کہ اس کی ہر فرمائش پہلی ہی فرصت میں پوری کردی جاتی تھی۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ یہی تھا کہ وہ تقریباَ سارا دن دوستوں کے ساتھ باہرگھومتا پھرتا اوروالد کو ملنے والے نذرانے کی رقم سے گلچھرے اڑاتا۔ اس میں اکمل کا اپناکوئی قصور نہیں تھا ۔گھر میں چونکہ کسی چیز کی کمی نہیں تھی اور کئی سارے ملازم گھر کے کام کاج اورمہمانوں اورسائلین کی ضروریات کا مکمل خیال رکھتے تھے اس لئے اکمل کی گھر میں غیر موجودگی کا کسی کو خیال ہی نہ آتا۔ ویسے بھی حاجی صاحب کے ہاں صبح سویرے ہی لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتاجو رات گئے تک جاری رہتا۔ درمیان میں اگرچہ نماز اور کھانے کے لئے وقفہ ضرورہوتااور اس دوران مہمانوں کے لئے لنگر کا بھی اہتمام ہوتا، لیکن حاجی صاحب کے پاس چونکہ لوگوں کی ہمیشہ بھیڑ لگی رہتی تھی اس لئے اس کا دھیان ادھر اُدھرکی باتوں کی طرف کم ہی جاتا۔ کچھ ایسا ہی حال حاجن کا بھی تھا جو ہر وقت عورتوں میں گھری رہتی اور دن بھرگاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھی رہتی تھی۔ بچیوں کو پڑھانے کے لئے گھر پر ہی استانیوں کا بندوبست کیا گیا تھا۔ایسے حالات میں حاجی صاحب کو اس بات کی بھنک کیسے پڑتی کہ صاحب زادے کس وقت کہاں ہوتے ہیں۔ وہ تو یہ جان کر مطمئن تھے کہ ان کا گھبرو بیٹابڑی باقاعدہ گی سے کالج جانے کے لئے گھر سے نکلتا تھا۔ یہی نہیں ، حاجی صاحب کا یہ بھی خیال تھاکہ اکمل نہ صرف روز ٹیوشن پڑھنے جاتا ہے بلکہ کمپیوٹر کی تربیت بھی حاصل کررہا ہے۔ انہیں اپنے بیٹے سے بڑی توقعات تھیں ۔ ان کی خواہش تھی کہ اکمل مستقبل میں ایک بڑا سرکاری افسر بنے۔
اکمل کے امتحانات ہوچکے تو اس نے اور بھی زیادہ پر پرزے نکالنے شروع کردئے۔ نتائج کے آنے میں ابھی کئی ہفتے باقی تھے اس لئے اس نے دوستوں کے ساتھ مل کر ملک گھومنے کا پروگرام بنایا۔ گھرمیں پیسوں کی کمی تو تھی نہیں اس لئےاسے سفر کے اخراجات کی کوئی پرواہ بھی نہیں تھی، ہاں اسے ماں باپ کو منانے میں تھوڑا وقت ضرورلگا۔
امتحانات کے نتائج نکلے تو اکمل تمام مضامین میں بری طرح فیل ہوگیا تھا۔یہ دیکھ کر اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ۔ اسے سیرسپاٹے سے واپس لوٹے کچھ ہی دن ہوئے تھے۔ ابھی تو وہ اپنے خوشگوار سفر کی یادوں سے نکل بھی نہ پایا تھا کہ اس کے سر پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اب وہ حاجی صاحب کو کیا منہ دکھائے گا۔ اسے اپنے ابو کی طبیعت کا بخوبی علم تھا جوویسے توبڑے دھیمے انداز میں بات کرتے تھےلیکن اگر کبھی انہیں کسی بات پر غصہ آجاتا تو ان کے منہ سے گویا آگ نکلنے لگتی تھی۔ ایسے میں یوں لگتا جیسے ان پر کسی جن کا سایہ پڑگیا ہو۔ اس دوران وہ سامنےپڑی ہر چیز اٹھا کر زمین پر پٹخ دیتے۔ اکمل نے انہیں نہ صرف بارہا نوکروں کو بری طرح پیٹتے دیکھا تھا بلکہ اسے اپنے ابو کے ہاتھوں ہونے والی اپنی و ہ دھنائی بھی یاد تھی جب اس کے میٹرک کا نتیجہ آیا تھا۔
اب کیا کیا جائے؟ وہ پریشانی میں سوچتا رہا۔ رات وہ گھر پہنچا تو حاجی صاحب ہنوز مصاحبین میں گھرے ہوئے تھے۔ وہ چپکے سے جاکر بستر میں گھس گیا اور صبح کے لئے حکمت عملی طے کرنے لگا۔
اگلے دن حسب معمول حاجی صاحب کے حجرے میں لوگوں کی بھیڑ جمع تھی لیکن حاجی صاحب خلاف معمول اپنی نشست پر نظر نہیں آرہے تھے۔ پھراچانک ساتھ والے کمرے سے کسی کی بھیانک چیخیں سنائی دینے لگیں ۔ اس دوران کبھی کبھار حاجی صاحب کی طیش میں ڈوبی آواز بھی سنائی دیتی جو ان چیخوں میں دب کر کہیں کھو جاتی۔ حاجی صاحب کی کرامات کے بارے میں جاننے والےتوفوراََ ہی سمجھ گئے کہ ضرورحضرت کسی مریض کا جن اتار رہےہوں گے جبکہ نئے آنے والے حیران ہوکر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔ یہ بات صرف حاجی صاحب کے خادم خاص کو ہی معلوم تھی کہ ساتھ والے مخصوص کمرے میں جن نکالنے کا کوئی عمل نہیں ہورہا تھا بلکہ اکمل کی پٹائی ہورہی تھی جو پیٹ کے بل زمین پر لیٹا ہوا تھا اور حاجی صاحب منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے اس کی چھترول کر رہے تھے۔ پھر جب وہ تھک کر ہانپنے لگے تو پاس پڑے مونڈھے پر بیٹھ گئے۔
“میں نےتمہیں بڑی مشکلوں سے کالج میں داخل کرایا تھا، ورنہ شاید کوئی تمہیں کسی سکول میں بھی نہ بٹھاتا۔ میں نے تمہاری ساری فرمائشیں پوری کیں۔ تمہیں قیمتی موٹر سائیکل لے کر دی۔ تمہیں اچھا کھلایا پلایا۔ بہترین لباس خرید کردیا۔ تمہیں گھومنے پھرنے کی آزادی دی جبکہ تمہاری بہنوں کو گھر سے باہر قدم نکالنے کی بھی اجازت نہیں۔ تم مجھ سے ٹیوشن پڑھنے کے بہانے بھی پیسے اینٹھتے رہے اور میں یہ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ میرا بیٹا دل لگا کر پڑھ رہا ہے۔ لیکن تم نے تو میری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لوگ کیا کہیں گے کہ حاجی صاحب کا بیٹا بارہ جماعتیں بھی پاس نہ کرسکا! اب میں ان مریدوں اور معتقدوں سے کیسے نظریں ملاؤں گاجو اپنی ہر پریشانی کے حل کے لئے مجھ سے رجوع کرتے ہیں؟ وہ کیا سوچیں گے کہ جس شخص کے قبضے میں جنات ہیں اور جوتمام دنیا کی مشکلات کا چٹکیوں میں حل بتاتے ہیں ان کا اپنا بیٹا ایک معمولی امتحان میں فیل ہوگیا؟” حاجی صاحب نے غصّے سے پھنکارتے ہوئے کہا!
لیکن ابو میں نے تو اپنی طرف سے بھرپور تیاری کر رکھی تھی اور مجھے پورا یقین تھا کہ میں امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہوجاؤں گا۔ لیکن سمجھ میں نہیں آرہا کہ سب کچھ الٹ کیسے ہوگیا؟اکمل نے کراہتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا!
“کیسی تیاری؟ مجھے تو ابھی معلوم ہوا ہے کہ تم کبھی ٹیوشن پڑھنے ہی نہیں گئے۔ کالج بھی صرف اس لئے جاتے رہے تاکہ دوستوں کے ساتھ مل کر غل غپاڑہ کرسکو! “یہ کہہ کر حاجی صاحب اسے مارنے کے لئےدوبارہ اپنی جگہ سے اُٹھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ ایک بار پھراکمل کی پٹائی شروع کرتے، اکمل نے قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چمکدار شے نکالی اور اسے حاجی صاحب کی طرف بڑھاکر کہا کہ اگر آپ کو یقین نہیں آرہا تو یہ دیکھ لیں! حاجی صاحب کے بڑھتے قدم رک گئے اور انہوں نےہاتھ بڑھا کر اکمل سے وہ چیز لے لی اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے۔ “میں نے پورے امتحان کے دوران اسے اپنے پاس رکھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود میں فیل ہوگیا۔ایسا کیوں ہوا؟ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے!” اکمل نے بدستور کراہتے ہوئے کہا۔یہ تمہیں کہاں سے ملا؟ حاجی صاحب کی آواز گویا کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔ “یہ مجھے میرے ایک دوست نے لاکر دیا تھا اور اس نے اس کے عوض مجھ سے دس ہزار روپے بھی لئے تھے اور کہا تھا کہ اس کی کرامت سے میں امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوجاؤں گا”اکمل نے بدستور دھیمی آواز میں جواب دیا۔
حاجی صاحب گنگ ہوکر رہ گئے۔ انہوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن الفاظ جیسے ان کے حلق میں پھنس کر رہ گئے۔ وہ سبز غلاف کے اندر سے نکلنے والے کاغز کے پرزے کو پہچان گئے تھے۔ یہ ان کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا تعویز تھا جو وہ امتحان میں کامیابی کے لئے طالب علموں کو دیا کرتےتھے۔
“شاید خدا کی یہی مرضی تھی!!!” یہ کہہ کر وہ بوجھل قدموں سے اپنے حجرے کی طرف روانہ ہوئے جہاں سائلین بڑی بے تابی سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.