ہارن

ہارن

اس نے اپنی نئی نویلی گاڑی نکالی اور شہر کے مشہور آئسکریم پارلر کا رخ کیا۔ بیوی بچّے بھی ساتھ تھے جو موسم کی سختی سے بے نیاز گاڑی کے خنک ماحول میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ تھوڑی دور ہی گئے ہوں گے جب اسے رکنا پڑا۔ آگے گاڑیوں کی لمبی قطار نظر آرہی تھی۔ وہ حسب عادت ہارن پر ہاتھ رکھنے ہی والا تھا جب اسے سامنے سے کچھ لوگ آتے دکھائی دئے۔ ان کی تعداد درجن بھر سے زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے ایک تابوت سر پر اٹھا رکھا تھا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے قبرستان کی جانب جارہے تھے۔
“کسی غریب کی میت ہوگی تبھی تو اتنے کم لوگ نظر آرہے ہیں۔ کسی سیٹھ کی میت ہوتی تو سارا محلہ امڈ آیا ہوتا” اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا!
“کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ جاکر اس میت کو تھوڑی دور تک کاندھا دے آئیں؟” بیوی نے اس کی بڑبڑاہٹ سن کر کہا۔
“اب بھی کافی دیر ہوگئی ہے، ایسا نہ ہو کہ ہمارے پہنچتے پہنچتے آئسکریم پارلر کے پارکنگ لاٹ میں گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ بھی نہ رہے!”
یہ کہہ کر اس نے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.