مشتی از خروار

مشتی از خروار

10 جون، 2016۔
ان دنوں کا شمار اچھے دنوں میں ہی کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ امیر المومنین ضیاء الحق کے بوئے ہوئے بیج تن آور درخت بن چکے تھے، لیکن مومنین اب بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے اثرات سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ میں شام کو اپنی دکان بند کرتا تو گھر جانے سے پہلے کواری روڈ کی ایک یاترا ضرور کرتا۔ تب کوئٹہ کی اس معروف سڑک پربھینسوں کے کئی سارے باڑے تھے جہاں اندرون بلوچستان اور سندھ کے مالدار اپنی بھینسیں اور گائیں فروخت کے لئے لیکر آتے تھے۔ ایک ایسے ہی باڑے کے مالک سے میرے ایک دوست کی جان پہچان تھی۔ میں اور میرا دوست ہر شام بلا ناغہ اس باڑے سے دودھ لینے جاتے۔ عموماَ ایسا ہوتا کہ ہمارے پہنچتے ہی دودھ کی “چوائی” کا بھی وقت آن پہنچتا۔ تب باڑے کا کوئی ملازم ہمارے سامنے ہی بھینسوں کا دودھ نکالنے لگتا۔ یہ دودھ ہمیشہ بہت گاڑھا ہوتا جس میں ہلکی سی پیلاہٹ شامل ہوتی۔ اس دودھ کا نہ صرف ذائقہ کمال کا ہوتا بلکہ اس سے بنی چائے، دہی اور لسی کا بھی اپنا ہی مزہ ہوتا۔ بالائی کا تو پوچھئے ہی مت، جو ناشتے کا مزا ہی دوبالا کر دیتا۔ پھر جب میرے آنے اور جانے کا روٹ تبدیل ہوا تو میں نے علمدار روڑ کے ایک دودھ والے سے دودھ لینا شروع کیا جس کا دعویٰ تھا کہ اس کا بھینسوں کا اپنا باڑہ ہے اور وہ دودھ میں پانی کی ملاوٹ بالکل بھی نہیں کرتا۔ اس کی دکان پر گاہکوں کااتنا رش ہوتا جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے خیرات بٹ رہی ہو۔ میں بھی لمبی قطار میں کھڑا ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتا۔
پھر ایک دن میں نے اس دکان سے دودھ لینا بند کردیا۔ ہوا یہ کہ جب میری دودھ لینے کی باری آئی تو میں نے دیکھا کہ کچھ مزدور دکان کے پچھلے دروازے سے پلاسٹک کے بنے کچھ نیلے رنگ کےمرتبان لے کر آئے جس میں دودھ بھرا ہوا تھا اور سطح پر برف کے ٹکڑے تیر رہے تھے۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک ٹی وی رپورٹ گھومنے لگی جس میں دودھ کے بیوپار کا سارا کٹھا چٹا کھولا گیا تھا۔ مجھے متلی ہونے لگی اور یاد آیا کہ یہ تو وہی مرتبان ہیں جو اندرون بلوچستان اور سندھ سے بھر کر بڑے شہروں میں بھیجے جاتے ہیں اور جن میں درجنوں لوگ کہنیوں تک ہاتھ ڈال کر بار بار دودھ کی دھار کا معائنہ کرتے ہیں۔
تب میں نے کھلے دودھ کا استعمال بند کردیا۔ لیکن چونکہ خود ہڈیوں کے بھر بھر ے پن یعنی Osteopenia کا شکار تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ بچّے بھی کیلشیم کی کمی کا شکار ہوں، اس لئے ایک ڈاکٹر دوست سے رابطہ کرکے مدعا بیان کیا اورپوچھا کہ ” میں بچّوں کو کونسا خشک دودھ استعمال کرواؤں؟”
ڈاکٹردوست میرا سوال سن کرہنس پڑا اور الٹا سوال کرنے لگا کہ ” خشک دودھ؟ ہمارے ہاں تو لوگ نلکے کے پانی سےزندگی بچانے والی دوائیں بناتے ہیں، اور تم خالص خشک دودھ کی بات کرتے ہو!”
اس بات کو عرصہ گزر چکا ہے۔ اب تو نہ صرف دودھ بھینسوں اور گائیوں کے تھنوں سے نکلنے کے بجائے کیمیائی کھاد ، بال صفاء پاؤڈر ، شیمپواور گٹر کے پانی سے بننا شروع ہوا ہے بلکہ مومنین نے نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے مردہ جانوروں کی انتڑیوں سے صحت بخش گھی بنانے کا فارمولا بھی نکال لیا ہے۔
رمادھان کے مبارک مہینے کی قسم، عرصہ ہوا جب بھی ناشتے میں بہ امر مجبوری تازہ بالائی کھاتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی سستا ساشیمپو نوش جان کر رہا ہوں۔ اصلی گوشت کا ذائقہ تبھی محسوس ہوتا ہے جب کوئی ہمسایہ نیاز تقسیم کرتا ہے، ورنہ بازاری گوشت کھاتے ہوئے لگتا ہے جیسے میرے کان لمبے ہو رہے ہوں۔ کبھی کبھار تو بھونکنے کو بھی دل کرتا ہے۔ البتہ تربوز کھانے کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ اب گلا خراب نہیں ہوتا۔ کیونکہ سنا ہے کہ تربوزوں میںErythrosine کے انجکشن لگائے جاتے ہیں ۔

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔۔۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.