زمانہ کیا چھین لے گا ہم سے؟

زمانہ کیا چھین لے گا ہم سے؟Capture.JPGnnnn

نوٹ: یہ میری یادداشتوں پر مبنی ایک سلسلہ وار تحریر ہے جس میں میں نے اپنے نوجوانی کے ایام سے متعلق کچھ واقعات کا  سرسری احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ واقعات کو بیان کرتے وقت میں نے انتہائی احتیاط سے کام لیا ہے تاکہ غلطی/دروغ گوئی کا شائبہ نہ رہے، جبکہ بعض کرداروں کے نام بھی تبدیل  کردئے گئے ہیں۔ 

بچپن اور طالب علمی کا زمانہ

بچپن میں مجھے الف لیلوی کہانیاں پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ تب مجھے دیو، پریوں اور جنات و فرشتوں کی کہانیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ ان دنوں میرا اس بات پر بھی یقین تھا کہ انسان کے دونوں کاندھوں پر ہمہ وقت دو فرشتے سوار رہتے ہیں جو اس کی نیکیوں اور بدیوں کا حساب رکھتے ہیں۔یہ بات مجھے بڑے بزرگوں نے بتائی تھی جسے میں نے گرہ میں باندھ لی تھی۔ میں کافی سالوں تک ان فرشتوں کا بوجھ اپنے شانوں پر محسوس کرتا رہا۔ حتیٰ کہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران جب مجھے حقیقتوں کا تھوڑا بہت ادراک ہونے لگا تھا اور میں جنّوں اور پریوں کی دنیا سے باہر نکل آیا تھا تب بھی مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے دونوں فرشتے اب بھی میری ایک اک حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتا۔
اسی دوران مجھ پر ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کی قیادت کی ذمہ داری بھی آن پڑی۔ جس کے بعد مجھے ایک دم سے ایسا احساس ہونے لگا جیسے بچپن سے میرے کاندھوں پر بیٹھے فرشتے پُر کرکے اڑ گئے ہوں اور ان کی جگہ ذمہ داریوں کے بوجھ نے لے لی ہو۔ یہ ایک ایسا بوجھ تھا جس کے احساس نے مجھے ایک نئی دنیا سے روشناس کرایا۔
یہ ان دنوں کی داستان ہےجب میرے پاس نہ تو پہننے کو ڈھنگ کے کپڑے تھے نہ ہی جیب میں پیسے۔ تب یونیورسٹی کی بس کا کرایہ غالباَ ایک روپے ہوتا تھا جبکہ چائے کی پیالی دو روپے میں ملتی تھی۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ بس پر بیٹھتے وقت میری نگاہیں کسی ایسے دوست کو تلاش کرتیں جو میرا بھی کرایہ ادا کرسکے جبکہ خالی پیریڈ کے دوران جب دوست چائے پینے کینٹین کا رخ کرتے تو میں کوئی بہانہ بنا کر کھسک جاتا تھا۔ ایک واقعہ تو شاید میں زندگی بھر نہ بھول سکوں جو میں نے اپنے بچّوں کو بھی سنا رکھا ہے۔
میرے ساتھ کمال شاہ نام کا ایک لڑکا پڑھتا تھا جس کا تعلق قلات سے تھا۔ وہ جمیعت طلبائے اسلام کا ایک سینئر رکن تھا لیکن چونکہ اس زمانے میں کوئٹہ کے تعلیمی اداروں پر ترقی پسند طلباء تنظیموں کا مکمل کنٹرول تھا جبکہ مذہبی تنظیموں کو سرگرمی کی اجازت نہیں تھی اس لئےوہ بہت محتاط اور لئے دئے رہتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ پوری کلاس میں میری ہی اس سے بنتی تھی۔ مکمل نظریاتی اختلاف کے باوجود ہم مختلف متنازعہ موضوعات پر دل کھول کر بحث کیا کرتے تھے ۔ ہمارے درمیان کبھی کسی بات پر تلخی نہیں ہوئی۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہم لیکچر سے فارغ ہوکر کلاس سےباہر نکلے تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ” کیا چائے پینے کا موڈ نہیں؟” میں نے بغیر سوچے ہاں میں جواب دیا، جس کے بعد ہم درختوں کے درمیان بنے کینٹین کے طرف چل پڑے۔ ہم ایک درخت کے پاس بیٹھ گئے تو کمال شاہ نے کینٹین بوائے کو اشارہ کرکے دو چائے لانے کا کہا۔ ہم چائے پیتے ہوئے گپ شپ کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد کینٹین بوائے ہماری طرف آنے لگا تو کمال شاہ میری جانب دیکھ کر کہنے لگا کہ آپ کے پاس پیسے تو ہونگے؟ لیکن جب میں نے ناں میں جواب دیا تو وہ پریشان نظر آنے لگا۔ پھر اس نے وہی سے آواز دے کر کینٹین والے کو کچھ دیر بعد آنے کا کہا۔ پھر دوبارہ مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ میں تو یہ سوچ رہا تھا کہ تمہاری جیب میں پانچ دس روپے ضرور ہوں گےاس لئے تم نے چائے پینے کی حامی بھری، ورنہ ہم ادھر آتے ہی کیوں؟ میں نے شرمندہ ہوکر کہا کہ ” میں تو یہ سوچ کر چلا آیا کہ شاید آج تمہارے پاس کچھ پیسے ہونگے اس لئے مجھے چائے پینے کی دعوت دے رہے ہو!” یہ سن کروہ بھی زرا سا شرمندہ نظر آنے لگا، جس کے بعداس نے مجھےایک ہلکی کہنی ماری اور ہم چائے کے پیسے دئے بغیر چپکے سے وہاں سے کھسک گئے۔
وہ میری زندگی کا ایک عجیب اور ناقابل فراموش دور تھا۔ اگرچہ ہم میں سے اکثر دوستوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا، لیکن نہ تو ہمیں کھانے پینے کی فکر تھی نہ ہی اچھے کپڑے پہننے کا شوق۔ وہ دن ہماری عیاشی کا دن ہوتا جب ہماری جیبوں میں کچھ روپے ہوتے او ر ہم اپنی اپنی جیبیں ٹٹول کر رقم اکھٹی کرتے اور علمدار روڈ پر واقع ” ہزارہ جات ہوٹل” میں کھانا کھانے چلے جاتے جہاں سنگل قابلی کی قیمت دس روپے اور ڈبل کی پندرہ روپے ہوتی۔ ہم عموماَ سنگل کی فرمائش کرتے اور اس پرڈھیر ساری چٹنی ڈال کر مزے لے لے کر “تناول” کرتے۔

عملی زندگی

1988 کی بات ہے۔ یونیورسٹی سے فراغت ملی اور ڈگری ہاتھ آئی تو غم روزگار کا بوجھ بھی کاندھوں پر آپڑا،کیونکہ اب تو بے کار پڑے رہنے اور مفت کی روٹیاں توڑنے کا کوئی بہانہ بھی باقی نہیں بچا تھا۔ انہی دنوں مجھے ایک مہربان شخصیت نے پیغام بھیجا کہ اگر میں چاہوں تو وہ مجھے سوئی سدرن گیس کمپنی میں آفیسر کی نوکری دلوا سکتی ہے! ان دنوں ایئر مارشل (ریٹائرڈ) شربت علی چنگیزی ایس ایس جی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے جبکہ انہی دنوں کمپنی میں ملازمتوں کے لئے اخبارات میں اشتہار بھی چھپا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ میرے ہاں کرنے کی دیر تھی جس کے بعد مجھے اس کمپنی میں ایک اچھی جاب مل سکتی تھی جہاں ملازمت کا ملناکسی بڑی لاٹری لگنے سے ہرگز کم نہیں تھا۔ لیکن چونکہ مجھے اب بھی اپنے کاندھوں پر پڑے “بوجھ” کا شدت سے احساس تھا یا پھر شاید میرے دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا تھا اس لئے میں نے اس مہربان شخصیت کی پیشکش کاانکار کرتے ہوئے تعمیر نسل نو سکول میں پرائمری ٹیچر بننے کو ترجیح دی تاکہ اس طرح” قوم کی خدمت” کا فریضہ انجام دے کر اپنے کاندھوں پر پڑے بوجھ میں کچھ کمی کرسکوں۔

اس ملازمت کی آفر مجھےتنظیم کے پیدائشی اور تاحیات چیئرمین غلام علی حیدری نے خود دی تھی ۔ میری پہلی تنخواہ پندرہ سو روپے مقرر کی گئی جو ایس ایس جی سی کی اس تنخواہ کے بیس فیصد کے برابربھی نہیں تھی جسے میں نے”قومی خدمت” کے عوض ٹھوکر ماردی تھی۔ پھر بھی مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ قوم کے نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرکے میں نہ صرف” قومی خدمت” انجام دے رہا ہوں بلکہ اس طرح شاید میرے شانوں پر پڑا بوجھ بھی کم ہوسکے۔
اسکول سے ملنے والی تنخواہ چونکہ انتہائی ناکافی تھی اس لئے میں نے کسی طرح کچھ رقم کا بندو بست کرکے گل پلازہ عبدالستار روڑ میں کیسٹوں کی ایک کرائے کی دوکان بھی کھول لی تاکہ آمدنی کا ایک نیا ذریعہ نکل آئے اور میں گھر والوں کا بوجھ کچھ کم کرسکوں۔ سکول سے چھٹی کے بعد میں سیدھا دکان پر جابیٹھتا اور شام گئے تک دکانداری میں مصروف رہتا۔ تیمور خانوف کی مشہور کتاب “تاریخ ہزارہ” کے ترجمے کا کام میں نے اسی دوران شروع کیا۔ دوکان چھوٹی سی تھی جس کے شوکیس پر کاغزات بے ترتیبی سے پڑے رہتے تھے ۔ کسی گاہک یا مہمان کے آنے پر میں جلدی جلدی تمام کاغزات سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیتا، اور جب وہ رخصت ہوجاتا تو میں ایک بار پھر ترجمے میں منہمک ہوجاتا۔ ایسے میں توجہ اور ارتکاز کا بار بار ٹوٹنا ایک عام سی بات تھی لیکن میں کسی روبوٹ کی طرح یہ کام انجام دیتا رہا۔کتاب کا ترجمہ اسی ماحول میں کسی طرح مکمل ہو بھی گیا۔ ساتھ ہی سکول کی ملازمت بھی جاری رہی اور دکان بھی چلتی رہی۔

سکول میں ملازمت کرتے ہوئے مجھے تین سال ہو چکے تھے اور میری تنخواہ بڑھ کر انیس سو روپے ہوگئی تھی جب سالانہ امتحانات کے اختتام اور سکول کی بندش کے ساتھ ہی میری تنخواہ بھی بند کردی گئی جو تین مہینوں تک بند رہی۔ پھر اس سے پہلے کہ سکول دوبارہ کھلتے “حاجی سخی “نامی اسکول کا ایک وفادارملازم میری دکان پر آیا اور میری تین مہینے کی تنخواہ اس زبانی پیغام کے ساتھ میرے ہاتھوں میں تھما دی کہ ” پرنسپل صاحب نے کہا ہے کہ آپ اپنے لئے کہیں اور نوکری کا بندوبست کرلیں!” اس پیغام کو سن کرمیں سن ہوکر رہ گیا لیکن زباں سے کوئی شکایت نہیں کی۔البتہ مجھے یہ ضرور محسوس ہوا جیسے کاندھے پر پڑا بوجھ کم ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگرسینے پر ایک بوجھ ضرورآن پڑا تھا۔ کیونکہ جن کے کہنے پر میں نے بہترین ملازمت کو ٹھوکر مار کر انتہائی کم تنخواہ پر اسکول جوائن کیا تھا انہی لوگوں نے اپنا کام نکالنے کے بعد مجھے بیچ منجدھار چھوڑ دیا تھا۔ خیرمیں نے سب کچھ بھلا کردوبارہ ملازمت کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے لیکن جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ان تین سالوں میں دنیا کافی بدل گئی تھی اور نوکری کا ملنا ازحد دشوار ہوچکا تھا۔ پھر ایک دن مجھےحسین علی یوسفی نے اپنے سکول (ڈان آئیڈیل) میں ٹیچر کی نوکری کی پیشکش کردی جسے میں نے قبول توکرلیا لیکن شاید سال بھر بعد ہی مجھے اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ بچّوں کو پڑھانا نہ تو پہلے میرے بس میں تھا ،نہ اب ہے۔ لہٰذا میں نے وہ نوکری بھی چھوڑ دی اور تمام دن دکان پر بیٹھنے لگا۔
تاریخ ہزارہ مغلbook21

کتاب کا ترجمہ مکمل ہوچکا تھا۔ اب مجھے اس کی کتابت کا انتظام کرنا تھا، جو بذات خود ایک ٹیڑھا کام تھا۔ ان دنوں کمپیوٹر پر اردو کتابت کا آغاز ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔جبکہ فونٹس بھی کچھ زیادہ خوبصورت نہیں تھے۔ کافی تگ و دو کے بعد بالآخر میں نے ایک ایسا آدمی ڈھونڈھ ہی لیا جو یہ کام سرانجام دے سکتا تھا۔ اس کا نام فادریوسف تھا اور وہ کوئٹہ چھاؤنی میں واقع سینٹ مائیکل سکول کا پرنسپل اور اس سے ملحق چرچ کا پادری تھا۔ اس نے اسکول کی کمپیوٹر لیبارٹری کے لئے کچھ کمپیوٹرز کا انتظام کر رکھا تھا جن میں اردو کمپوزنگ کی سہولت موجود تھی جبکہ وہ خود واحد ایک ایسا شخص تھا جس نے کراچی سے اردو سافٹ ویئر کے استعمال کی تھوڑی بہت تربیت حاصل کر رکھی تھی۔ اب میں روزانہ سہ پہر کے وقت اپنی دکان بند کرلیتا اور کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے مذکورہ چرچ جا پہنچتا جہاں ہم کتاب کی کمپوزنگ کا کام سرانجام دیتے۔ اس سافٹ ویئر میں ایک خرابی یہ تھی کہ اس میں صفحات کی سیٹنگ بالخصوص پاورقی یعنی حواشی یا(Footnotes) دینے کی صلاحیت نہیں تھی۔ بہر حال ہم نے جیسے تیسے کرکے کتابت کا بھی نوے فیصد کام مکمل کرلیا۔ اب مسئلہ حاشیہ بندیوں کا تھا جس کے لئے میں آئندہ کئی ہفتوں تک جناح روڈ کے ایک کاتب ‘باسط’ کے پاس جاتا رہا جس نے سارے صفحے کاٹ کاٹ کر دوبارہ چپکادئے جبکہ حاشئے ہاتھوں سے لکھے۔ اب صورت حال کچھ ایسی تھی کہ کتاب کا اصل مسودہ کمپیوٹر سے لکھا گیا تھاجبکہ Footnotes ہاتھ سے لکھے گئے تھے۔خیر یہ مرحلہ بھی طے پایا تو میں نے کسی ایسے شخص کی تلاش شروع کردی جو ا س کتاب کی چھپائی کا ذمہ اٹھا سکے۔
یہ تلاش اس وقت اپنے اختتام کو پہنچی جب بعض دوستوں کے توسط سے میری ملاقات بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خادم حسین خان سے ہوئی جو ان دنوں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے اور غالباَ اپنی یادداشتیں تحریر کر رہے تھے۔بالآخر ان کی کوششوں اور ڈنمارک میں مقیم معروف ہزارہ شخصیت حسین علی افغانی کے تعاون سے ایک دن کتاب لاہور سے چھپ کر آہی گئی۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی یزدان خان گورنمنٹ ہائی سکول کے ہال میں ہوئی جس کے مہمان خصوصی بلوچستان یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر محمد خان رئیسانی جبکہ صدر مجلس شربت علی چنگیزی تھے جو ایس ایس جی سی سے بھی ریٹائر ہو چکے تھے۔ تب میری عمر چوبیس سال ہوگی۔ تبھی تو مجھے بچہ جان کر کسی نے کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ بہرحال مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ میری دوسال کی محنت رنگ لائی تھی اور ہزارہ قوم کی تاریخ سے متعلق اردو میں پہلی کتاب اب پڑھنے والوں کی دسترس میں تھی۔ اس دن پہلی مرتبہ میں نے محسوس کیا کہ میرے شانوں پر پڑا بوجھ کسی حد تک کم ہو گیا ہے۔ اب مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ کتابوں کو فروخت کیسے کیا جائے، کیونکہ میں نے اپنے حصّے کا کام کرلیا تھا۔ اب یہ پڑھنے والوں پر منحصر تھا کہ وہ اس کتاب کو کوئی اہمیت دیتے بھی ہیں یا نہیں۔

اس ذمہ داری سے فارغ ہونے کے بعد میں نےایک بار پھر نوکری کی تلاش شروع کردی۔ اورایک دن جب ایک اخبار میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ایک اشتہار پر نظر پڑی جو کیمسٹری کےایک لیکچرر کی اسامی سے متعلق تھی، تو میں نےنہ صرف اس اسامی کے لئے درخواست دے دی بلکہ بعد میں ہونے والے تحریری امتحان میں کامیابی بھی حاصل کرلی۔ لیکن اس سے پہلے کہ انٹرویو کا مرحلہ آتا میں ایچ ایس ایف کے ایک وفد کے ہمراہ رسمی دورے پر کابل چلاگیا جہاں ہم تین مہینے تک رکے رہے(اس دورے کی تفصیلات پھر کبھی بیان کروں گا) ۔ دورے سے واپسی پر جب میں کوئٹہ پہنچا تو یہ جان کر اپنے آپ پر بڑا غصہ آیا کہ لیکچرر کی مذکورہ اسامی کے لئے ہونے والے تحریری امتحان میں واحد میں نے ہی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن چونکہ انٹرویو کے دن میں غیر حاضررہا تھا اس لئے وہ اسامی ہی منسوخ کردی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد میرے کاندھوں پرشرمندگی اور ناکامی کےاحساس کابوجھ بھی پڑگیا۔
اس کے بعد تو گویا جیسے ملازمت مجھ سے روٹھ سی گئی کیونکہ کئی بار ایسا ہوا جب عین اس وقت مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ، دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گئے! مثلاََ جولائی 1993 میں جن دنوں میں ریڈیو پاکستان میں بطور ہزارہ گی اناؤنسر و نیوز ریڈر کام کرتا تھا ، اسی پروگرام کےپروڈیوسر کی خالی اسامی پر میری تعیناتی کی سفارش کی گئی۔ یہ سفارش کسی اور نے نہیں بلکہ کوئٹہ کے اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر آغا محمد کاسی نے کی خود کی تھی۔ انہوں نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر اور میرا ایک غیررسمی انٹرویو کرنےکے بعدمجھے یہ خوشخبری سنائی تھی کہ ” بس زرا جمعہ کو فارمیلیٹی (باقاعدہ ٹیسٹ اور انٹر ویو) پوری ہونے دیں ، ہم آپ کو فوراَ پروڈیوسر رکھ لیں گے۔ کیونکہ ہمیں ہزارہ گی پروگرام کے لئےایک پروڈیوسر کی اشدضرورت ہے جس کے لئے آپ موزوں ترین شخص ہیں” لیکن قبل اس کے کہ جمعہ کا دن آتا اس وقت کے نگران وزیر اعظم معین قریشی نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت ملازمتوں کے لئے عمر کی بالائی حد میں تین سال کی رعایت دی گئی اور پاکستان کے تمام محکموں کو اس بات کی ہدایت کی گئی کہ وہ اعلان شدہ اسامیوں کی دوبارہ تشہیر کریں تاکہ مزید بے روزگار نوجوان اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یوں مذکورہ اسامی بھی منسوخ کردی گئی جسے پر کرنے کا خیال دوبارہ کسی کے ذہن میں نہیں آیا۔

Hazara Solidarity Movement کی شروعات

اس کے بعد ایک اور اچھی ملازمت خودمیں نے صرف اس لئے ٹھکرادی کیونکہ میرا”ضمیر” آڑے آرہا تھا۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ جو شخص مجھے بڑے خلوص سے اس ملازمت کی پیش کش کر رہا تھا، کبھی میں اس کا سخت ترین مخالف رہا تھا اور میں اپنے سینئر دوستوں کی دیکھا دیکھی ان کے خلاف بات کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ حالانکہ میری ان سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی، نہ ہی ان کی ذات سے کبھی مجھے کوئی نقصان پہنچا تھا۔ لیکن چونکہ سینئر دوستوں کو ان سے شکایات تھیں اس لئے ان کی مخالفت کو میں نے بھی اپنے ایمان کا جزو بنا رکھا تھا۔ بات ہورہی ہے مرحوم حاجی طالب حسین ہزارہ کی جو 1996-97 کے دوران میر ظفراللہ جمالی کی نگران صوبائی کابینہ میں بلدیات کے وزیر مقر ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ وہ اس سے قبل ستّر کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے طاقتور امیدوار سیف اللہ پراچہ کو شکست دے کرایم پی اے بھی منتخب ہو چکے تھے۔ ان کا پیغام میرا ایک ایسا دوست لیکر آیا تھاجس کے ساتھ ان کے خاندانی مراسم تھے۔ دوست نے ان کا پیغام دیتے وقت کہا کہ” کل میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تھا جہاں انہوں نے خصوصی طور پر تمہارا نام لے کر کہا کہ’مجھے معلوم ہے کہ تمہارا یہ دوست کافی عرصے سے بے روزگار ہے، اسے کہو کہ مجھے اپنی اسناد دے جائے یا تم خود اس سے اسناد لیکر آؤ تاکہ میں وزیر اعلیٰ سے کہہ کر اسے کوئی اچھی نوکری دلواؤں’ لیکن جس طرح میں بتا چکا ہوں، میں نے ان سے ملنے یا دوست کو اپنی اسناد دینے سے یہی کہہ کر صاف انکار کردیا کہ جس شخص کے خلاف میں ایک عرصے سے بولتا آیا ہوں اب اسی شخص کا احسان کیونکر لوں! ”
اس طرح وہ پیشکش میں نے صرف اپنے ضمیر کے جھانسے میں آکر ٹھکرادی۔ حالانکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ، جن سے ان کی بہت پرانی جان پہچان تھی، سےکہہ کر کئی بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت دلوائی۔ بہر حال اس واقعہ کے بعد میرے دل میں ان کی عزت بہت بڑھ گئی اور میں فرصت ملنے پر دوستوں کے ساتھ ان سے ملنے جانے لگا جہاں ہم گھنٹوں مختلف موضوعات پر گپ شپ کیا کرتے تھے۔
میرا اندازہ ہے کہ ٹیچر کی نوکری چھوڑنے کے بعد میں کم از کم آئندہ سات سال تک کوئی ملازمت ڈھونڈھنے میں قطعی طور پر ناکام رہا۔ لیکن میں مکمل بے روزگار بھی نہیں تھا کیونکہ ” ہزارہ جات میوزک” سے مجھے اتنی آمدنی ہونے لگی تھی کہ اب میں گھر والوں کا ہاتھ بٹانے لگا تھا ۔ اس حال میں بھی بعض اوقات مجھے اپنے کاندھوں پر وہی انجانا بوجھ پھر سےمحسوس ہونے لگتا جو مجھے بے چین کئے رکھتا۔ اس لئے موقع ملتے ہی میں دوستوں کے ساتھ مل کر کوئی نہ کوئی گروپ تشکیل دیتا جس میں ہم بہت ساری “اوٹ پٹانگ” باتوں پر بحث کیا کرتے۔ مثلاَ 1994 میں سیاسی سکوت کو توڑنے اور ایک بین القوامی ہزارہ پلیٹ فارم کی تشکیل کی غرض سے ہم دوستوں نے مل کر “جنبش ہمبستگی ہزارہ” Hazara Solidarity Movement کے نام سے ایک ایساگروپ تشکیل دیا جس میں ایچ ایس ایف کے بعض سابقہ اراکین کے علاوہ کچھ دیگر دوست بھی شامل تھے۔ ہم تقریباَ ہر دوسرے یا تیسرے دن کسی دوست کے گھر میں جمع ہوتے جہاں انتہائی اہم سیاسی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا۔ یہ سلسلہ کئی مہینوں تک جاری رہا جس کے بعد ہم نے اتفاق رائے سے ایک ڈرافٹ تشکیل دیا جس کا عنوان تھا “چہ باید کرد؟” اس ڈرافٹ میں ہزارہ قوم کی تاریخ اور محرومیت سے متعلق ایک مفصل تعارفی دیباچے کے بعد محض تین سوالات درج تھے جن کا ہاں یا ناں میں جواب تحریر کرنا تھا۔ ہم نے اس ڈرافٹ کی محدود کاپیاں بنائیں اور انہیں اندرون اور بیرون ملک مختلف حلقوں میں تقسیم کردیا۔ ہمارا خیال تھا کہ جب یہ سروے مکمل ہو جائے گا تو ہم اس کے نتائج کی روشنی میں اپنا نیا لائحہ عمل طے کریں گے جو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کی تشکیل پر منتج ہوسکتا تھا۔ لیکن ہمیں اس وقت مایوسی ہوئی جب لوگوں نے اس سروے پر بہ ظاہر مثبت رد عمل کا اظہار کرنے کے باوجود ان سوالات کے تحریری جوابات دینے سے معزوری ظاہر کردی۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ ان حساس معاملات پر بات کرکے ہم اپنے لئے کئی قسم کے خطرات مول لے رہے تھے۔ پھر انہی دنوں ہمارے ایک دوست پر ہزارہ ٹاؤن بروری میں ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں وہ خوش قسمتی سے بچ تو گئے لیکن اس واقعے سے بعض دوست اتنےخوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے خاموشی اور کنارہ کشی میں ہی عافیت جانی۔

HNF کی تشکیل اور اس کے سرقے کی کہانی

اس تجربے میں ناکامی کے کئی مہینوں بعد کچھ دوست ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے تاکہ اگر ممکن ہو تو کسی سیاسی پلیٹ فارم کی داغ بیل ڈالی جا سکے۔ اس مرتبہ اس “جمگھٹے” کی ابتداء اتحاد جوانان ناصر آباد نامی ایک چھوٹی تنظیم نے کی جس کے کرتا دھرتا جان علی چنگیزی (سابق وزیر) نوروز علی اور کچھ دیگر دوست تھے۔ اس گروپ میں بھی ایچ ایس ایف کے سابق اراکین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی جو ایک ایسے سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل چاہتے تھے جو ہزارہ گی معاشرے میں موجود سیاسی خلاء کو پر کر سکے۔
یاد رہے کہ ان دنوں ایچ ایس ایف ہی وہ واحد تنظیم تھی جو شہر اور صوبے کی سطح پر ہزارہ قوم کی سیاسی نمائندگی کرتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ تب ہزارہ گی سطح پر کوئی ایسی سیاسی پارٹی وجودنہیں رکھتی تھی جو مختلف مواقع پر قوم کی نمائندگی کرتی۔ ہاں کچھ ہزارہ سیاسی شخصیات ایسی ضرور تھیں جو مختلف سیاسی پارٹیوں سے منسلک تھیں لیکن ظاہر ہے کہ وہ اپنی پارٹیوں کے نمائندے تصور کئے جاتے تھے۔ ان میں پاکستان نیشنل پارٹی کےارباب آصف ہزارہ، پیپلز پارٹی کے نور محمد صراف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نوازش علی کے نام قابل ذکر ہیں۔ چنانچہ اس قحط الرجالی کے عالم میں لے دے کر ایک ایچ ایس ایف ہی ایسی تنظیم تھی جس کے راہنماء بیس بائیس سال کی عمر میں، بڑے بزرگوں ، ریش سفیدوں اور سینئر سیاست دانوں کے درمیان بیٹھ کر ہزارہ قوم کی نمائندگی کا حق ادا کرتے تھے۔ ان دنوں اگرچہ سینئر اراکین پر مشتمل ایچ ایس ایف کا ایک مشاورتی کونسل بھی ہوا کرتا تھا لیکن اس کا فیڈریشن کی فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں تھا۔ اس صورت حال میں ایک ایسے سیاسی پلیٹ فارم کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو زیادہ میچیور سطح پر قوم کی نمائندگی کر سکے۔ یہی وجہ تھی کہ نئے اور پرانے دوست ایک بار پھر اکھٹے ہوئے اور مسلسل اجلاسوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا۔ یہ سلسلہ بھی کئی مہینوں تک جاری رہا جس کے بعد نہ صرف ابتدائی منشور کا خاکہ مرتب کیا گیا بلکہ اس کے نام پر بھی اتفاق ہوا، یعنی ہزارہ نیشنل فورم (HNF)۔
اس نام کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ چونکہ اکثر دوستوں کا پس منظر ایچ ایس ایف سے متعلق تھا اور سب دوستوں کو اس بات کی بھی امید تھی کہ آگے چل کر یہی پلیٹ فارم ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی مدر پارٹی بن سکتا ہے اس لئے HSF کے نام کے وزن پر مجوزہ فورم کا نامHNF رکھا گیا۔ پارٹی کے بجائے فورم نام رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ سب دوست چاہتے تھے کہ پہلے پہل اسے ایک ڈھیلے ڈھالے ڈھانچے یعنی فورم کی شکل دی جائے ، پھر جب اس کے اراکین کی تعداد مناسب حد تک پہنچ جائے تب اسے ایک پارٹی میں تبدیل کیا جائے۔ تمام باتوں پر اتفاق ہوچکا تو منشور کی کئی کاپیاں بنائی گئیں تاکہ دوستوں کو جب بھی ضرورت پڑے وہ فوراَ دستیاب ہوں۔ جب سارے امور طے پاگئے اور اعلان کرنے کا وقت آپہنچا تو کسی دوست نے تجویز دی کہ کیوں نہ باقاعدہ اعلان سے پہلےبعض ایسے دیگر دوستوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائے جو ایچ ایس ایف یا اتحاد جوانان ناصرآباد کا حصہ نہیں رہے لیکن وہ ہمارے ساتھ مل کر جدوجہد پر راضی ہو سکتے ہیں۔ اس طرح شاید ہم HNF کو ایک وسیع تر پلیٹ فارم کی شکل دے سکیں۔اس تجویز پر مختصر سی بحث ہوئی جس کے بعد سب نے متفقہ طور پر اس کا خیر مقدم کیا۔ اس سلسلے میں دو تین نام ہی سامنے آئے جن میں ایک نام ایک ایسے سیاسی/ نظریاتی ورکر کا تھا جو نیشنل ازم کا سخت مخالف تھا اور کسی زمانے میں بلوچستان نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن یا کانگریس نامی ایک طلباء تنظیم کا ممبر رہ چکا تھا۔ اگرچہ اکثر دوستوں کی نظر میں وہ ایک انتہائی ناقابل اعتبار شخص تھا لیکن ان دوستوں کو اس بات کا بھی اطمینان تھا کہ یہاں شاید وہ کوئی الٹی سیدھی چال نہ چل سکے۔
بہر حال اگلے دو اجلاسوں میں مذکورہ شخص نے بھی نہ صرف شرکت کی بلکہ بڑی خوشی اور دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔ اس نے دوستوں سے منشور کی ایک کاپی طلب کی جو اسے دے دی گئی۔ لیکن!!!! اس سے پہلے کہ HNF کا اگلا اجلاس منعقد ہوتا ،اچانک خبر آئی کہ کچھ لوگوں نے مل کر ایچ پی ایف (HPF) کے نام سے ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔ ہم سارے دوست ہکا بکا رہ گئے۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ نیشنل ازم کے مخالف اس “نظریاتی ورکر” نے تاک میں بیٹھے اپنے چنددوستوں کے ساتھ مل کرHNF کے منشور میں جسے ہم نے کئی مہینے کی مسلسل عرق ریزی اور مشاورت کے بعد تیار کیا تھا معمولی ترمیم کرکے HPF یعنی ہزارہ پروگریسو فورم کے نام سے “ایک نئے سیاسی فورم ” کا اعلان کردیا تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ترمیم بھی محض اتنی کی گئی تھی کہ N یعنی نیشنل کو P یعنی پروگریسو میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ ورنہ منشور اب بھی ہمارے دوست کی ہنڈ رائٹنگ میں ہی تھا۔ ایک اور مزے کی بات یہ بھی تھی کہ اس فورم کے اکثر اراکین اپنے آپ کو نیشنلسٹ کے بجائے پروگریسو کہلوانا زیادہ پسند کرتے تھے حالانکہ ان کے ناموں کے ساتھ ‘ہزارہ” کا دم چھلا لگا ہوا تھا۔

ورکشاپ اور بساط شطرنج579826_157923724338137_1431827145_n

موصوف اور اس کے دوستوں کی اس دیدہ دلیری بلکہ سرقہ بالفریب کو بھانپبے کے باوجود ہمارے دوستوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں دکھائی بلکہ انہوں نے کھلے دل سے اس ڈاکے کو قبول کرلیا، کیونکہ وہ کسی کریڈٹ کے طلب گار نہیں تھے بلکہ وہ سب محض اپنے شانوں پر پڑے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ستم ظریفی کی انتہاء دیکھئے کہ ایچ پی ایف کے ” بانی اراکین” نے اپنا دفتر ایچ ایس ایف کے دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر یعنی ہزارہ عید گاہ کے اوپر ایک کمرے میں قائم کردیا۔
اس کے باوجود ہمارے دوستوں کی یہ خواہش تھی کہ کسی قسم کا تنازعہ پیدا کرنے کے بجائے مل کر جدوجہد کرنے کی کوئی راہ نکالی جائے۔ لہٰذا ہم نے HSF اور HPF کے درمیان ایک اتحاد یعنی Alliance تشکیل دینے کا فارمولا پیش کیا جسے کچھ بحث و تمحیث کے بعد قبول کرلیا گیا۔ اس دوران HSF کی طرف سے یہ شرط رکھی گئی کہ ہراتحادی کو یہ ویٹو پاور حاصل ہونی چاہئے کہ وہ جب بھی چاہے یک طرفہ طور پر اس Alliance کو خیرباد کہہ سکے۔ HPF کے رہنماء اس تجویز پر بہت ہنسے اور انہوں نے اسے ایچ ایس ایف کی سادگی اور Immaturity کا نام دیا۔لیکن کچھ ہفتے نہیں گزرے ہونگے جب انہوں نے اپنی میچیوریٹی کا ثبوت دیتے ہوئے،یک طرفہ طور پر اس اتحاد سے نکلنے کا اعلان کردیا۔
یہ مسروقہ فورم کافی عرصے تک فعال رہا۔ پھر ” مال حرام بود، جائی حرام رفت” کے مصداق قصہ پارینہ بن گیا۔
میری شادی 18 اگست 1995 میں ہوئی۔ ہم ایچ ایس کے دوست شروع سے ہی شادی بیاہ اور مرگ و مردن کی “تقریبات” میں فضول خرچی کے شدت سے خلاف تھے۔ اور یہ اختلاف بڑھکوں اور ڈائیلاگ کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ ہم سارے دوست اپنے”اقوال زرین” دوسروں کے سر تھونپنے کے بجائے ان پر سب سے پہلے خود عمل کرکے دکھانے پر یقین رکھتے تھے۔ میری شادی مکمل طور پر گھر والوں کی پسند اور انتہائی سادگی سے انجام پائی۔ خوش قسمتی سے میرے سسرال والے بھی سادگی کے حامی اور بے جا اصراف اور غیر ضروری رسومات کے سخت خلاف تھے۔
یہی وجہ تھی کہ میں نے اپنی شادی پر دیگیں چڑھانے کے بجائےمہمانوں کی چائے اور پیسٹری سے تواضح کی۔ آپ بے شک یقین نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ میری شادی کے دن مہمانوں کی تواضح پرصرف سات ہزار روپیوں کا خرچہ آیا جبکہ ان دنوں ایک معمولی شادی میں کھانےپر کم از کم ساٹھ ستر ہزار روپیوں کا خرچہ آنا ضروری تھا۔
یہی نہیں ہماری فیملی میں بہنوں کی شادیاں بھی اسی سادگی سے انجام پائیں، جبکہ بھائیوں کی شادیوں پر بھی اصراف سےہرممکن اجتناب کیا گیا۔ اس پاگل پن کا مظاہرہ کرنے والے ہم پہلے اور آخری لوگ نہیں تھے بلکہ یہ مثال ہم سے پہلے اور بعد میں ایچ ایس کے کئی دیگر دوستوں نے بھی دہرائی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کچھ لوگ سادگی اپنانے کی بات تو کرتے تھے، لیکن اپنی باری آنے پر اپنے ہی نعروں، نصائح اور اقوال زرین کی ایسی دھجیاں اڑاتے تھے کہ کوئی بھی سنے تو تھو تھو کرنے لگے۔
سنہ 2000 کی بات ہے جب ہمارے کچھ دوستوں نے ساکت پانی میں ایک بار پھر کنکر پھینکنے اور لہریں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس بار جمود کو توڑنے کی کوشش کرنے والے لیاقت شریفی، قیس اور رحیم چنگیزی تھے جنہوں نے مجھے بھی اس “کار خیر” میں حصہ لینے کی پیشکش کردی۔ جس کے بعد ہم چاروں دوستوں نے تاجئی خان کمپلیکس میں ایک دو روزہ ورک شاپ کا اہتمام کیا جس کا عنوان تھا “موجودہ صورتحال میں سیاسی اور سماجی کارکنوں کا کردار اور ان کی ذمہ داریاں” یعنی Role and responsibilities of Political and Social workers in current scenario۔ اس ورکشاپ کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہم نے کافی محنت کی۔ اس ورکشاپ میں اندرون اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے 40 کے قریب سیاسی اور سماجی کارکنوں کے علاوہ لکھاریوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ اس دوران مجھے اور قیس کو خطے کی اس وقت کی سیاسی صورت حال سے متعلق ایک پریزنٹیشن کا ٹاسک سونپا گیا جبکہ لیاقت اور رحیم نے ورکشاپ کنڈکٹ کرنے کی ذمہ داری لی۔ یہ ورکشاب ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوا جس کے دوران نہ صرف شرکاء کے تند و تیز مخالفانہ رویے سامنے آئے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان موجود تضادات کا بھی بھانڈہ پھوٹ گیا۔ اسی ورکشاپ سے ہمیں یہ بھی جانکاری ملی کہ لوگ مسائل کی نشاندہی تو بڑے آرام سے کر لیتے ہیں لیکن ان مسائل کے حل کے لئے ان کے پاس عموماَ کوئی فارمولا نہیں ہوتا۔
گرچہ ورکشاپ کے نتائج کی روشنی میں بعد میں ہم نے ایک سیمینار کا بھی انعقاد کیا لیکن اس ورکشاپ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے فوراَ بعد میں نے قیس کے ساتھ مل کر ” بساط شطرنج” پر کام شروع کیا جو مئی 2001 میں کتاب بن کر بازار میں آگئی۔ یہ کتاب جو دری زبان میں تھی ہاتھوں ہاتھ بکی۔ اور شاید دو یا تین مہینوں میں ہی اس کی تقریباَ تمام کاپیاں بک گئیں۔ حد تو یہ کہ خود میرے پاس بھی اس کتاب کا کوئی نسخہ باقی نہیں بچا جسے میں کسی کو دکھا کر بڑھکیں مار سکتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ بعد میں ہمارے دوست مبارک صابر نے بڑی محبت اور محنت سے اس کتاب کو خوبصورت اردو میں ڈھالا جس کی چھپائی کے لوازمات ہزارہ گی اکیڈمی نے پورے کئے۔

 قصئہ آوارگی 
1996 کی شروعات کی بات ہے جب ایک دن کامریڈ الطاف جعفری میری دکان پر آئے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے تھے۔ ہمارے آپس میں فیملی تعلقات بھی تھے لیکن جوانی میں فکری راستے جدا ہونے پر ہم ایک دوسرے سے کترانے لگے تھے۔ ہم تبھی آپس میں سلام و دعا کرتے جب ہمارے پاس ایک دوسرے سے بچ کر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہ بچ پاتا۔
خدا تیری خدائی گر مجھے لمحے کو مل جائے
تیرے لوح مقدر پر تجھے میں آدمی لکھوں
ابھی رکھ دی ہے میں نے مرہم مئے دل کے زخموں پر
زرا بہکوں تو جم کر قصئہ آوارگی لکھوں.۔۔۔ الطاف جعفری کے ہی اشعار ہیں۔
مجھے ان کے آنے سے بڑی حیرت ہوئی۔ سلام دعا ہوچکی تو کہنے لگے “ہم نے پیپلز پارٹی کے صوبائی عہدیداران سے بیروزگار نوجوانوں کو نوکریاں دلوانے کا وعدہ لے رکھا ہے۔ کیا تم مجھے کچھ ایسے بے روزگار نوجوانوں کی اسناد مہیا کر سکتے ہو جو ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں تاکہ انہیں ڈھنگ کی نوکریاں دلوائی جاسکیں؟”
میں نے ان سے کچھ اسناد مہیا کرنے کا وعدہ کرلیا۔ دو دن بعد وہ دوبارہ میری دکان پر آئے تو میں نے انہیں چار پانچ دوستوں کی اسناد حوالے کر دئے۔ وہ ایک ایک سند کا معائنہ کرنے لگے پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ ان میں اپ کی اسناد شامل نہیں۔ میں نے جھوٹ بولا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نوکری نہیں کرنا چاہتا۔ (اب جس شخص سے میرے نظریاتی اختلافات تھے اس کا احسان میں کیونکر اٹھاتا؟) لیکن وہ بھی میری جان چھوڑنے والے نہیں تھے اس لئے کہنے لگے کہ آپ اپنی اسناد دیں گے تو ہی میں ان تمام ڈاکیومنٹس کو آگے بھیجوں گا۔
اگلے دن میں نے اپنی اسناد کی بھی فوٹو کاپیاں بنوائیں اور ان کے حوالے کردئے۔ کچھ ہی ہفتے گزرے ہونگے جب جعفری نے مجھے بتایا کہ کئی دیگر لوگوں کی طرح میری بھی SSGC میں Management Trainee کی پوسٹ پر تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے۔
سچ پوچھئے تو یہ خبر میرے لئے ایک بڑی لاٹری سے کم نہیں تھی، حالانکہ سات سال پہلے میں نے ایسی ہی ایک لاٹری کو ٹھوکر مار دی تھی۔ بہرحال اب مجھے تقرری کے اسناد کا انتظار تھا جن کے لئے مجھے الگ سے پاپڑ بیلنے پڑے۔ وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماء صادق عمرانی نے میرا لیٹر یہ کہہ کر دبا لیا تھا کہ نور محمد صراف نہیں چاہتے کہ اس بندے کو پیپلز پارٹی کے کوٹے پر ملازمت ملے۔ تب ایک دن جعفری سمیت میرے بڑے بھائی رضا وکیل اور ظریف جو ان دنوں پیپلز پارٹی میں کافی فعال تھے، کسی طرح لڑ جھگڑ کر عمرانی سے میرے آرڈر لے کر آگئے۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ مجھے کراچی آفس میں رپورٹ کرنے اور اپائنٹمنٹ لیٹر لینے کا وقت گزر چکا تھا۔ میرا یہ مسئلہ SSGC میں تعینات ایک ہزارہ آفیسر حاجی نثار نے حل کیا جس کے کہنے پر میں کراچی چلا گیا اور اپنے آرڈرز لیکر کوئٹہ واپس چلا آیا۔
کمپنی میں میری تنخواہ پانچ ہزار روپے تھی جبکہ مجھے اور میرے جیسوں کو مستقل ملازم کا درجہ بھی حاصل نہیں تھا۔ یہ کچی نوکری کرتے مجھے دوسال بھی نہیں گزرے تھے جب 1998 میں نواز شریف نے رائٹ سائزنگ کے نام پر میرے جیسے ہزاروں ملازمین کو بیک جنبش قلم نوکریوں سے نکال دیا، جس کے بعد ایک بار پھر میری دوڑ ہزارہ جات میوزک تک محدود ہوکر رہ گئی۔
آئندہ کئی سال میں نے اس امید پر گزارے کہ شاید حکومت کو ہماری “اہمیت” کا اندازہ ہو اور وہ معافی مانگ کر ہم سے دوبارہ ملازمت پر آنے کی درخواست کرے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جسے دیکھ کر ہمارے دوستوں نے “انصاف” کی خاطر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ادھر میں نے بھی ملازمت سے کافی حد تک مایوس ہونے کے بعد ایک نئے کاروبار کی بنیاد رکھی۔
آہنگ سٹوڈیو کا آغاز میں نے 2001 میں کیا۔ پہلے پہل تو میں نے عبدالستار روڈ میں واقع لاہور پلازہ کے بیسمنٹ میں ایک دکان کرائے پر لیکر اس “نامشروع” کام کا آغاز کیا پھر جناح روڈ کے معروف پلازہ میں ایک بڑی جگہ کرائے پر لے لی تاکہ بڑے پیمانے پر کام کو آگے بڑھایا جاسکے۔

آہنگ سٹوڈیو کو اس کے پاؤں پر کھڑا کرنا اپنی جگہ ایک مشکل کام تھاکیونکہ پہلی مرتبہ کوئٹہ میں ایک ڈیجیٹل سٹوڈیو کی شروعات ہورہی تھی جس میں کم از کم 24 ٹریک ریکارڈنگ کی سہولیات میسر تھیں۔ اس سٹوڈیو کی تزئین و آرائش اور ساؤنڈ پروفنگ کسی اونچے پہاڑ کو سر کرنے سے ہرگز کم نہیں تھی۔ اس دوران ایسا بھی وقت آیا جب میرے پاس مزدوروں کو دینے کے لئے پیسے نہیں ہوتے اور کئی دن کام رکا رہتا تھا۔ تب میں سٹوڈیو میں رکھے مٹی کے ڈھیر پر بیٹھ کر سگریٹ پرسگریٹ پھونکا کرتا تھا اور ان دوستوں کو یاد کرکے آہیں بھرتا رہتا تھا جو نہ صرف مجھے مکمل طور پر فراموش کرچکے تھے بلکہ میرا فون اٹھانے سے بھی کترانے لگے تھے۔
جیسے تیسے کرکے سٹوڈیو کام کے قابل بنا اور اس میں ریکارڈنگ شروع ہوئی تو میری جان میں جان آئی۔ اب مجھے ٹھیک ٹھاک آمدنی ہونے لگی اور میں پہلی بار یہ سوچ کر مطمئن ہونے لگا کہ شاید اب میرے اچھے دن شروع ہونے والے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ان دنوں میں نے کئی مرتبہ چھتیس گھنٹوں تک مسلسل کام کیا۔ تب میرے شب و روز کا کوئی حساب نہیں تھا۔ گھر والوں کی مجھ سے شکایات بڑھ رہی تھیں لیکن میں تھا کہ پیسے کمانے میں مصروف تھا۔
انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک دن جب میں کسی ریکارڈنگ میں مصروف تھا، محمد علی ہزارہ میرے پاس آئے اور فرصت پانے پر سیاست کے موضوع پر گفتگو کرنے لگ گئے۔ سچ پوچھئے تو تب میں سیاست اور سیاسی مباحث سے بری طرح اوب چکا تھا اور میری تمام تر توجہ پیسے کمانے پر مرکوز ہوچکی تھی جبکہ محمد علی ہزارہ مجھے مسلسل کسی نئی پارٹی کی تشکیل کے سلسلے میں ہونے والی کوششوں سے آگاہ کرنے کی سعی کررہے تھے۔ ان کی باتوں سے تو میں اتنا جان ہی چکا تھا کہ کچھ دوست جن میں جواد ایثار آگے آگے تھے کسی نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے اس موضوع میں کسی بھی قسم کی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور محمد علی سے ہوں ہاں کرکے بات کرتا رہا۔
پھر ایک دن جناب نے فرصت پاکر مجھے بھی اس نئی شروعات کا حصہ بننے کی دعوت دے ڈالی اور کہا کہ دوستوں کی خواہش ہے کہ میں بھی اس جدوجہد کا حصہ بنوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ان کے جھانسے میں آنے اور اس نئی جمع آوری کا حصہ بننے سے ہر ممکن کنی کترانے کی کوشش کی اورانہیں صاف لفظوں میں بتایا کہ میں اپنی زندگی کا ایک اہم عرصہ ان خرافات میں گنوا چکا ہوں اور اب میں “قوم کی خدمت” کرنے کے بجائے اپنے خاندان کی خدمت کرنے کو ترجیح دینا زیادہ پسند کروں گا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے انہیں یہاں تک کہا تھا کہ”اب میں کچھ بے غیرت سا ہوگیا ہوں” اس لئے اگر وہ مجھے میرے حال پر چھوڑدیں تو ان کی مہربانی ہوگی۔ لیکن وہ کسی صورت میری بات نہیں مانے اور میرے کان میں ازان دیتے رہے۔ جس کے بعد میں نے ان کی بات اس حد تک مان لی کہ میں صرف بطور آبزرور اجلاس میں شرکت کروں گا اور گفتگو میں کسی قسم کا حصہ نہیں لوں گا۔
لیکن برا ہو اس کیڑے کا جو اب بھی میرے دماغ میں کھلبلا رہا تھا، اور خانہ خراب ہو اس بوجھ کا جو ابھی تک میرے کاندھوں پر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔اس لئے کچھ ہی میٹنگوں کے بعد میں اس “جمگھٹے” کا حصہ بن گیا جسے آگے چل کر ہزارہ گی معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرنا تھا۔

Share
75Shares

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں