گنج گران مایہ

گنج گران مایہ (محمد عالم مصباح)


جمعرات،28 جولائی، 1994۔Misbah1

وہ جولائی کے عام دنوں کی طرح ایک گرم دن تھا۔ میں ہزارہ جات میوزک میں بیٹھا معمول کی دکانداری میں مصروف تھا جب ایچ ایس ایف کا ایک نوجوان رکن ہانپتے ہوئےآیا۔
"آپ جلدی سے میرے ساتھ ہسپتال چلیں، عالم مصباح کو کسی نے حملہ کر کے زخمی کردیا ہے” آنے والے نے ایک ہی سانس میں بتایا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں اور وہ بڑا مضطرب نظر آرہا تھا۔مجھے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ کیا وہ خیریت سے ہیں؟ میں نے پوچھا! آپ چلیں میں راستے میں بتاتا ہوں! آنے والے نے کہا۔
میں نے جلدی سے دکان بند کی اور ہم سول ہسپتال کی طرف دوڑ پڑے۔
"خبر تو یہی ہے کہ ان پر حملہ ان کے بڑے بھائی نے کیا ہے اور وہ اب ہم میں نہیں رہے” مجھے راستے میں بتایا گیا۔ ہم ہسپتال پہنچے تو عالم مصباح سانسوں کی قید سے آزاد ہو چکے تھے۔

عالم مصباح سے میری آشنائی کالج کے دنوں میں ہوئی۔ وہ مجھ سے ایک دو سال جونیئر تھا۔ اس کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہی تھا کہ وہ مختلف موضوعات پر بے تکان بولنے والا ایک نوجوان تھا جسے کتابوں کے مطالعے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ کالج تک پہنچنے سے قبل ہی اس نے سکول کی تعلیم کے علاوہ ایک مقامی مدرسہ "جامعہ امامیہ” سے باقاعدہ دینی تعلیم بھی حاصل کر رکھی تھی۔ یہی نہیں بلکہ وہ باقاعدہ گی کے ساتھ انگریزی زبان کی کلاسیں بھی لینے لگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے اپنی مادری زبان ہزارہ گی کے علاوہ فارسی، اردو اور انگریزی پر بھی زبردست دسترس حاصل ہوگئی تھی۔ وہ ایک انتہائی غریب گھرانے کا فرد تھا۔ چار بھائیوں میں اس کا چوتھا نمبر تھا۔ سب سے بڑا بھائی بلدیہ میں مالی کا کام کرتا تھا جبکہ دوسرا بھائی لوگوں کے سامان ڈھوکر روزی روٹی کما لیتا تھا۔ تیسرا بھائی غالباَ کہیں باورچی تھا۔ یوں پورے خاندان میں وہ اکیلا ایسا شخص تھا جونہ صرف بڑی کامیابی سے اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کررہا تھا بلکہ محنت مزدوری کرکے اپنا بوجھ بھی خود ہی اٹھارہا تھا۔ اسے فلسفے سے بڑی رغبت تھی اور وہ ہمیشہ فلسفے سے متعلق فارسی کتابوں کے مطالعے میں غرق رہتا۔ ایرانی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی کی اکثر کتابیں اس نے پڑھ رکھی تھیں لہٰذا جب پروفیسر ناظر حسین چنگیزی ہمیں شریعتی کے فلسفیانہ خیالات کے بارے میں لیکچر دیتے تو عالم مصباح کے ساتھ ان کی بحث کافی طول پکڑتی۔
گفتگو اور مباحث کے دوران اس کا استدلال انتہائی مضبوط ہوتا اس لئے جہاں بھی کسی پیچیدہ یا گنجلک گفتگو کی نوبت آتی تو سب کی نظریں اسی کی طرف اٹھ جاتیں۔ اس نے چونکہ کئی سال مدرسے میں گزارے تھے اس لئے دینوی و مذہبی معاملات پر بھی اس کی بہت گرفت تھی جو اسے دوسرے دوستوں سے ممتاز کرتی تھی۔ شاعری کا شوق بھی اسے انہی دنوں چرایا تھا اور وہ مصباح کے تخلص کے ساتھ فارسی اور اردو میں انتہائی معیاری شاعری کرنے لگا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب افغان ثور انقلاب کے مخالف بائیں بازو کے بے شمار "انقلابی” فرار ہوکر پاکستان آبسے تھے اور کسی نہ کسی سطح پر افغان حکومت کے خلاف مزاحمت میں مصروف تھے۔ بائیں بازو کے یہ ترقی پسند جو ماؤ نواز کہلاتے تھے، سوویت یونین کو سوشل سامراج کے نام سے یاد کرتے تھے اور بعض مواقع پر "مجاہدین” کے ساتھ مل کر افغانستان میں اکھٹے جہاد کیا کرتے تھے۔ ان کامریڈز کی بڑی تعداد ہزارہ جوانوں پر مشتمل تھی جو علمدار روڑ یا ہزارہ ٹاؤن میں آکر بس گئے تھے۔ عالم مصباح کا عموماَ ان کے ساتھ "ٹاکرا” ہوا کرتا تھا جن میں کبھی کبھار ہم دوست بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ لیکن سچ پوچھئے تو ان کی فلسفیانہ گفتگو اتنی ثقیل ہوتیں کہ اکثر ہمارے سروں پر سے گزر جاتیں۔ فلسفے سے عالم مصباح کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ یونیورسٹی میں داخلے کے وقت اس نے فلسفے کے مضمون کا ہی انتخاب کیا، جس پر ہم دوست اکثراس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور خبطی لوگوں کے لطیفے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اسے سنایا کرتے تھے۔ لیکن اس کا جنون دیکھئے کہ اس نے 1989-90 کے ایم اے کے امتحانات میں نہ صرف شعبہ فلسفہ بلکہ بلوچستان یونیورسٹی کی پوری آرٹس فیکلٹی میں ٹاپ کرکے ایک تاریخ رقم کردی۔ یہ اتنی بڑی کامیابی تھی جس نے بلوچستان یونیورسٹی کے فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں بطورلیکچرار اس کی تعیناتی کی راہ ہموار کی۔
وہ اپنے شعبے کا ہردل عزیز استاد تھا۔ روشن خیال ایرانی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی کےفلسفے کے مکمل مطالعے کے ساتھ ساتھ اس نے نہ صرف بائیں بازو کے لٹریچر کا بھی مطالعہ جاری رکھا بلکہ اس نے اپنا علم جونیئر دوستوں تک منتقل کرنے میں بھی کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے اس عمل سے نہ صرف اس کے آس پاس رہنے والے حسد میں مبتلا بعض دوستوں نے اس پر تہمتیں لگانی شروع کیں بلکہ مدرسے کے ملاؤں نے تو باقاعدہ یک زبان ہوکر اس پر کفر کا فتویٰ تک لگا دیا۔
یاد رہے کہ آج کی طرح ان دنوں بھی ملاؤں کا سب سے بڑا ہتھیار کفر، لادینیت یا کمیونزم کا فتویٰ تھا، اس لئے جب وہ کسی کے سامنے لاجواب ہوجاتے تب جھٹ سے کفر کا فتویٰ صادر کر دیتے تھے۔ اگرچہ ان کفار کی فہرست میں ہم سارے دوستوں کا نام شامل تھا لیکن مخالفین عالم مصباح کو ہم تمام کافروں کا قافلہ سالار سمجھتے تھے۔ اس لئے ان کے خلاف پروپیگنڈا بھی زیادہ شدت سے کیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ انہی دنوں کسی نے میری دکان کے پتے پر ایک گمنام خط بھیجا تھا جس میں مجھے بھرپور  گالیوں سے نوازنے کے بعد قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس خط کا ایک جملہ مجھے اب بھی یاد ہے جو کچھ اس قسم کا تھا:
تم نے ایک کتاب کا ترجمہ کیا کرلیا کہ اپنے آپ کو "شاخ کفر” سمجھنے لگے ہو! وہ دن دور نہیں جب تمہارا قصہ تمام کرکے ہم تم سے تمہاری” حرام توپیوں” کا حساب لیں گے۔ اگر میری یادداشت ٹھیک کام کر رہی ہے تو غالباَ اس وقت میرے پاس قادر یوسفی بھی بیٹھے ہوئے تھے جس نے میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے خط کی سنگینی کو بھانپ لیا تھا، بلکہ میرے خیال میں انہوں نے وہ خط پڑھا بھی تھا۔ خیر میں نے اس گمنام خط کو زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن اگلے دن عالم مصباح کی زبانی پتہ چلا کہ اس سے ملتا جلتا خط اسے بھی موصول ہوا تھا جس میں اس کی غربت اور بھائیوں کی مفلوک الحالی کا طعنہ دیتے ہوئے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ان دونوں خطوط کے موازنے سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ ایک ہی شخص کی کارستانی تھی۔
انہی دنوں مصباح نے درس و تدریس اور مطالعے میں یکسوئی کی خاطر یونیورسٹی کے ٹیچرز بلاک میں ایک مکان حاصل کرلیا اور وہیں شفٹ ہوگیا۔ ہم اکثر شام کو اس سے ملنے وہیں جاتے جہاں دیر تک ہماری گفتگو جاری رہتی۔ یونیورسٹی میں استاد مقرر ہونے کے بعد چونکہ اسے مناسب تنخواہ ملنے لگی تھی اس لئے وہ اپنے بھائی بھتیجوں کی بھی مدد کرنے لگا تھا۔ اپنے سے بڑے اور جھگڑالو بھائی کو تو اس نے یونیورسٹی کے عقب میں ایک کینٹین بھی لگا کر دیا تھا جہاں سے اسے اچھی خاصی آمدنی ہو نے لگی تھی اور اس کا وقت بھی اچھا اور مثبت انداز میں گزرنے لگا تھا۔
وہ انسانی مساوات پر یقین رکھنے والا ایک ترقی پسند نوجوان تھا۔ حالانکہ اس کی پوری زندگی غربت اور افلاس میں گزری تھی لیکن اسے زندگی اور زندہ دلی سے پیار تھا۔ اسے شعرو ادب سے بھی بڑی دلچسپی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے ہزارہ مورخ حسن پولادی کی مشہور کتاب The Hazaras جوانگریزی زبان میں تھی،کے ترجمے کا بھی آغاز کرلیا تھالیکن مصنف کے خاندان کے کسی رکن کے اعتراض کے بعد اس نے یہ کام ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ اس کی زندگی کے متعدد پہلو تھے۔ وہ دو مرتبہ ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا جنرل سیکریٹری منتخب ہوا۔ اس دور کا شمار بلاشبہ ایچ ایس ایف کے درخشاں ادوار میں ہوتا ہے۔ اس نے مشکل وقت میں ایچ ایس ایف کو پاؤں پر کھڑا ہونے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ ایک اچھا مقرر تھا جو کسی بھی موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرسکتا تھا۔ وہ ہزارہ گی اسٹیج پروگراموں کا ہمیشہ ایک لازمی جزو ہوا کرتا تھا۔ سکرپٹ رائٹنگ سے لیکر اسٹیج پر کمپیئرنگ تک کے تمام مرحلوں میں اس کا کردار ہمیشہ قابل رشک ہوتا۔ مشہور اسٹیج ڈرامہ "خالق شہید” کی تیاری اور اس کی نمائش میں اس کا کردار ناقابل فراموش تھا۔ اسی ڈرامے میں اس نے خالق شہید کے والد کا کردار بھی نبھایا تھا۔
وہ ایک سرمایہ تھا، وہ گنج گران مایہ تھا۔ جسے حاسدین نے اپنے طعنوں، سازشیوں نے اپنی سازشوں اور مخالفین نے اپنے فتوؤں سے مارڈالا۔ اس کا قاتل بظاہر اس کا بھائی تھا۔ وہی بھائی جس نے اس کے قتل پر کسی پشیمانی کا اظہار کرنے کے بجائے کہا تھا کہ چونکہ وہ یعنی عالم مصباح کافر ہوگیا تھا اس لئے اسے قتل کرنا لازمی ہوگیا تھا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قاتل کو اس قتل پر اکسایا گیا تھا اور اکسانے والے وہی لوگ تھے جو مصباح کی ذہانت، اس کی قابلیت اور صلاحیتوں سے خائف تھے۔ جو نہیں چاہتے تھے کہ ایک ریڑھی بان، ایک مالی اور ایک باورچی کا بھائی علم اور ترقی کی منزلیں طے کرکے آنے والوں کے لئے ایک مثال بنے۔ مصباح کے قتل میں وہ ملّا بھی شریک تھے جنہوں نے اس پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا اور ان کے ہاتھ بھی مصباح کے خون سے رنگے ہوئے تھے جنہوں نے ایک گمنام خط میں فلسفے کا استاد بننے پر اس کا مذاق اڑایا تھا اوراسے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔
مصباح کو قتل ہوئے بائیس برس بیت چکے ہیں۔ لیکن اس کے چاہنے والوں کو کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ اب ہم میں نہیں۔ کیونکہ جب بھی دوستوں کی محفل میں ترقی پسندی، انسان دوستی، علم، ادب، ہنر، سیاست اور فلسفے کے موضوع پر بات ہونے لگتی ہے تو مصباح کا تذکرہ ضرور سامنے آتا ہے۔ تب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوکر بیچ محفل آکر بیٹھ گیا ہو، اس بات کااحساس دلانے کے لئے کہ وہ مرا نہیں بلکہ اب بھی زندہ ہے۔

Misbah poem

Share This:

2 comments

  • Mashallah kheli aali navishta kaden Hassan Raza Sahib mua’affaq bashin hamesha qalam shomo sawooz wa rawan basha. Faqat yak arz ki bad az marg e Alam Misbah Haji Younas Az rishtadarai shi yak kitab mushtamil ba asha’ar Misbah Sahib banam "Misbah Nama” ( bale naami kitab khoob sure neyom islah ya tasdeeq dakar asta) bood chap kadan. Tazkire shi da tehreer shom agar jagah midaden khoob bood tashakkur.
    • درست گفتی محترم۔ مصباح نامہ باید ذکر شی موشود۔
      ای نالائقی ازمہ استہ کہ ای اہم موضوع رہ فراموش کدوم۔ تشکر از یاد آوری شم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں