شہید راہ حق

شہید راہ حق 

5650247a709cc
احمدیوں کی مسجد کو آگ لگانے کے بعد مجمع اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے پاس ہی بنے ان کے گھروں میں گھس گیا اور توڑ پھوڑ شروع کردی ۔ ان بلوائیوں میں شیدا ہیروئنی بھی شامل تھا۔ وہ سب کی نظریں بچا کر گھر کی دوسری منزل پر واقع مالک مکان کے بیڈروم میں جاپہنچا جہاں الماریوں کی تلاشی کے دوران اسے سونے کا ایک قیمتی ہار ہاتھ لگا۔ ہار نیفے میں اڑس کر وہ تیزی سے باہر نکلا توجلدی میں سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کا پاوں پھسلا اور وہ لڑھکتے ہوئے فرش پر جاکر ڈھیر ہوگیا۔
اگلے دن جب اس کی نماز جنازہ ادا کی جانے لگی تو قبرستان میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی جبکہ مولوی لاوڈ اسپیکر پر چیخ چیخ کر لوگوں سے چندے کی اپیل کر رہا تھا تاکہ شہید راہ حق کی قبر پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کیا جاسکے۔

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں