سلمان بھائی؛ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا

سلمان بھائی آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا
salman

سلمان بھائی یقین جانیے کہ جب سے آپ کی گمشدگی کا سنا ہے میرے دل کوکسی پل قرار نہیں۔ حالانکہ میری آپ سے کوئی ذاتی جان پہچان بھی نہیں ، نہ ہی ایک دو ٹیلی فونک گفتگو یا مختصر پیغامات کے تبادلے کے علاوہ ہماری کبھی رو برو ملاقات ہوئی ہے۔ لیکن نا جانے کیوں میرا خیال ہے کہ میں آپ کو کافی عرصے سے اور بہت قریب سے جانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ ایک حساس اور درد مند دل رکھنے والے انسان ہیں جو ہماری طرح کسی ٹنل ویژن کا شکار نہیں بلکہ آپ  کی نظریں آس پاس کا بھی بخوبی نظارہ کر سکتی ہیں۔ اور سچ پوچھیے تو یہی آپ کی سب سے بڑی خرابی ہے۔

ورنہ کیا ضرورت ہے دوسروں کے غم میں ہلکان ہونے کی؟  اچھی بھلی با عزت نوکری ہے آپ کی۔ تنخواہ بھی ٹھیک ٹھاک ہوگی۔  پیار کرنے والا خاندان ہے۔ گاڑی بے شک بہت قیمتی نہ ہو لیکن ہے تو سہی۔ مکان بھی شاید کرایے کا ہو گا۔ لیکن زندگی تو پرسکون گزر رہی ہے۔  پھر کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ کے جھمیلوں میں پڑنے کی؟  آرام سے صبح تیار ہوکر یونیورسٹی چلے جائیں۔ لیکچر کے دوران ادھر ادھر کی ہانک کر آرام سے نکل آئیں۔ گھر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے قیلولہ کریں اور شام کو بچوں کے ساتھ کسی آئس کریم پارلر یا کسی خوبصورت پارک کا چکر لگا آئیں۔ رات کو دیر تک کسی کافی شاپ میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگائیں اور انہیں اپنا تازہ کلام سنائیں جس میں گل و بلبل اور لب و رخسار کے قصے ہوں۔ کچھ فلسفہ بگھاریں اور  وطن عزیز کے خلاف جاری یہود و ہنود  کی سازشوں کا پردہ چاک کریں۔ پھر دوستوں سے ڈھیروں داد وصول کرنے کے بعد خوش و خرم گھر لوٹ جائیں۔

لیکن معاف کرنا سلمان بھائی، یہ جو آپ نے عجیب و غریب قسم کے مشغلے  پال رکھے ہیں ناں! انہیں مشغلوں نے آپ کی تمام صلاحیتوں کو زنگ لگا کر رکھ دیا ہے۔ اب بھلا دریا کے بہاؤ کے مخالف بھی کوئی تیرتا ہے؟  کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ خود کو لہروں کے سپرد کر دیتے اور راضی بہ رضا ہو جاتے؟  پھر مگر مچھوں سے بھڑنے کی کیا ضرورت تھی؟  کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ان سے بنا کر رکھتے؟  آپ کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ بلوچستان کے رِستے زخموں کی بات کریں اور لاپتہ جوانوں کا ذکر چھیڑیں؟  جبکہ آپ کو سی پیک اور اس کے جادوئی اثرات پر بات کرنی چاہیے تھی۔ کس نے کہا تھا کہ آپ ان  ہزارہ مرد، عورتوں اور بچوں کا نوحہ پڑھیں جن کے قتل عام پر ان کے ہمسایوں تک نے آواز  اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔  کیا بہتر نہ ہوتا کہ آپ بھی “دلائل کی بنیاد پر” ان کو کافر قرار دیتے اور  ان کے قتل عام کو پاکستان اور اسلام کے لیے ضروری خیال کرتے؟  اس سے بھی زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ آپ گلی گلی اور نگر نگر  گھومتے، جلسے جلوس کرتے، فرقہ واریت  اور نفرت کی بات کرتے، مخالفین کو دھمکیاں دیتے اور مجمع سے  کافر کافر کے نعرے لگواتے۔ تب آپ کو بہت پروٹوکول ملتا۔ اگر آپ اپنے کھلاڑیوں کے ذریعے چوکے، چھکے لگواتے یا ڈبل سینچریاں بناتے تو آپ کی اور بھی زیادہ آؤ بھگت ہوتی۔ حکمرانوں کے دروازے آپ کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے۔ آپ ان کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا تناؤل کرتے۔ آپ کالے شیشے والی گاڑیوں میں گھومتے۔ مسلح نقاب پوش آپ کی حفاظت کرتے۔ آپ کے گزرنے پر  ٹریفک سگنلز  لال ہونا بھول جاتے۔ انتخابات کے دنوں میں سیکولر سمیت ہر قسم کی پارٹیوں کے راہ نما ووٹ کی خاطر آپ کے دروازے پر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے۔ بلکہ یہ بھی ممکن تھا کہ آپ کسی حلقے سے “بھاری ووٹ” لے کر عوامی نمائندہ بھی بن جاتے۔

لیکن نہیں معلوم کہ آپ کس مٹی کے بنے ہیں؟ آپ کافر قرار دیتے بھی ہیں تو پھولوں کی خوشبو اور لفظوں کے جادو کو۔ آپ کفر کا فتویٰ لگاتے بھی ہیں تو طبلے اور ڈھول پر، ہنسنے اور قہقہے لگانے پر، سر اور تھال پر، بھنگڑا، اتن اور دھمال پر، بیٹے کے بستے اور بیٹی کی گڑیا پر، جینز اور گٹار پر اور ٹخنوں سے نیچی شلوار پر۔ اب آپ ہی بتائیں کہ بھلا ان چیزوں کو کافر قراد دینے سے آپ کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟  بس کچھ مجھ جیسے “ملک دشمن” سیکولر اور لبرل لوگ کچھ دنوں تک آپ کے ان اشعار پر واہ واہ کرتے ہیں پھر سب کچھ بھول بھال جاتے ہیں۔

سلمان بھائی جب مجھے کسی نے آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ آپ شیعہ ہیں تو مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی۔ کیونکہ میں نے کبھی بھی آپ کو اپنی پروفائل پر خمینی یا خامنہ ای کی تصویر لگاتے نہیں دیکھا۔  نہ تو آپ نے کبھی ایران کے قصیدے پڑھے  نہ ہی شام کے بشار الاسد کے حق میں دعائیں کیں۔ میں نے کبھی آپ کو ولایت فقیہ کا نعرہ بلند کرتے بھی نہیں دیکھا نہ ہی آپ کسی مذہبی اور فرقہ پرست تنظیم کے حق میں تبلیغ کرتے نظر آئے۔  میرا خیال ہے کہ آپ نے کبھی شہادت، سعادت کا نعرہ بھی نہیں لگایا۔ ہاں آپ نے پاکستان میں جاری بدامنی اور قتل و غارت کی مذمت میں بہت کچھ لکھا۔ آپ نے ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی، یہ دیکھے بنا کہ ظالم کا تعلق کس فرقے سے ہے اور مظلوم کا کیا عقیدہ ہے۔  میں نے آپ کو کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ میں نے کبھی دیکھا نہ سنا کہ آپ نے نفرت کا پرچار کیا ہو۔ آپ تو ہر قسم کی بدتمیزی اور اہانت کا خندہ پیشانی سے جواب دیتے تھے۔

مجھے آپ ہمیشہ ایک ایسے انسان دکھائی دیے جس کے دل میں انسان اور انسانیت کا درد بھرا ہے۔ آپ مجھے ایک ایسے پاکستانی نظر آئے  جسے اپنے وطن سمیت اپنے وطن کے لوگوں سے بھی پیار ہے۔ مجھے ہمیشہ ایسا لگا کہ آپ اپنے پاکستان کو ایک پرامن ملک دیکھنا چاہتے ہیں جہاں مذہب، عقیدے اور زبان کی بنیاد پر کسی کو قتل نہ کیا جاتا ہو۔  آپ  مجھے ہمیشہ ایک ایسے پنجابی نظر آئے  جس کے سینے میں اپنے صوبے کے علاوہ دیگر صوبوں کے لیے بھی محبت کا لاوا ابلتا رہتا ہے۔  آپ نے ہمیشہ محبت کی تبلیغ کی اور تحمل اور رواداری کا درس دیا۔

سلمان بھائی آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا!

یہ مضمون ‘مکالمہ’ کے لیے لکھا گیا۔

" data-link="https://twitter.com/intent/tweet?text=%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86+%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%9B+%D8%A2%D9%BE+%DA%A9%D9%88+%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7+%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA+%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7+%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92+%D8%AA%DA%BE%D8%A7&url=http%3A%2F%2Fwww.changezi.net%2F2017%2F01%2F11%2Fsalmanhaider%2F&via=">">Tweet
3 Shares

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.