ناکہ

ناکہ
اوئے، اوئے، رک، رک، رک۔ ادھر سائڈ کر۔ چل نیچے اتر۔
سر کوئی غلطی ہوگئی کیا؟
چٹاخ!! غلطی کے بچے، بحث کرتا ہے ہم سے؟
نہیں سرجی! پر پتہ تو چلے کہ میں نے کیا کیا ہے؟
چٹاخ!! کیا کیا ہے؟ ابے او پروفیسر کی اولاد! تم جیسے پروفیسروں کو ہم دور سے ہی پہچان لیتے ہیں۔ زرا تھانے چل پھر تجھے بتاتا ہوں۔ ڈال اس کو ہتھکڑی۔
لیکن سر میں کوئی پروفیسر نہیں۔ میں تو ایک عادی چور ہوں۔
ایں!! تم، میرا مطلب ہے کہ آپ چور ہیں؟
جی سر قسم لے لیں۔
اوئے رفیق، زرا اس کی تلاشی تو لو۔ ابھی پتہ چلے گا۔
یہ کیا! چار عدد موبائیل، پندرہ ہزار روپے نقد اور ایک پستول۔ وہ بھی لوڈڈ! رفیق لگتا ہے یہ سچ بول رہا ہے۔ کھول دو اس کی ہتھکڑیاں۔

معاف کرنا جناب، ہم سے غلطی ہوگئی اور ہم خواہ مخواہ آپ کو پروفیسر سمجھ بیٹھے۔ جبکہ آپ تو ایک معزز آدمی نکلے۔ لیکن اس میں ہمارا بھی کیا قصور ؟ آپ کا حلیہ ہی ایسا ہے، عادی مجرموں والا۔ صاف ستھرے کپڑے، سلیقے سے بنے ہوئے بال، چھوٹی خوبصورت داڑھی اور آنکھوں پر سفید چشمہ۔ ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا تو دھوکہ کھالیتا۔ خیر امید ہے کہ آپ ہمیں معاف کریں گے۔ اوئے رفیق، صاحب کو ان کا پستول واپس کردو۔
تو کیا میں جاسکتا ہوں؟
جی بالکل جاسکتے ہیں، بس یہ رقم اور موبائل فون آپ کو بطور "پلی بارگین” ہمیں دینا ہوگا۔ پستول اس لیے واپس کر رہے ہیں تاکہ آپ آئندہ بھی روزی روٹی کما سکیں۔
جی بہت شکریہ۔ کیا اب میں جاؤں؟
ہاں، لیکن میری مانیں تو اپنا یہ حلیہ ٹھیک کروالیں۔ ورنہ پروفیسر ہونے کے شبے میں پھر کہیں دھر لیے جائیں گے۔

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں