بلوچستان میں بیروزگاری کا عفریت اور …

بلوچستان میں بیروزگاری کا عفریت اور عوامی وسائل کی لوٹ مار

جب سے بلوچستان اسمبلی میں صوبے کی 27 ہزار خالی اسامیوں کا ذکر خیر ہوا ہے بلوچستان کے عوامی حلقوں بالخصوص نوجوانوں میں یہی موضوع سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پچھلے دنوں ایک سوال کے جواب میں اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ بلوچستان میں اس وقت 27 ہزار کے قریب اسامیاں خالی پڑی ہیں جن پر بھرتی کا عمل شروع کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی نیا انکشاف نہیں تھا کیونکہ پچھلے سال دسمبر میں بلوچستان کے اس وقت کے چیف سیکریٹری سیف اللہ چھٹہ نے ایک اجلاس میں اس راز سے پردہ اٹھایا تھا کہ صوبے میں 35 ہزار کے قریب اسامیاں ایک عرصے سے خالی پڑی ہیں جن پر اگر چھ ماہ کے اندر بھرتیاں نہیں کی گئیں تو قانون کی رو سے خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ جس کے بعد  اس سال جنوری میں وزیر اعلیٰ ثناءاللہ زہری نے 90 دن کے اندر ان اسامیوں پر بھرتی کے احکامات جاری کیے تھے۔  لیکن چار مہینے گزر جانے کے باوجود  اب تک ان اسامیوں کی نہ تو تشہیر کی گئی ہے نہ ہی ان پر بھرتیوں کا کوئی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ جس سے بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں میں شدید بے چینی کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ خالی از دلچسپی نہیں ہوگا کہ سابق چیف سیکریٹری کے مطابق ان خالی اسامیوں کی تعداد  35 ہزار کے قریب تھی جبکہ صوبائی اسمبلی میں یہ تعداد 27 ہزار کے لگ بھگ بتائی گئی ہے جس سے ان افواہوں کو تقویت ملتی ہے کہ بقیہ آٹھ ہزار اسامیاں پہلے ہی خاموشی سے پر کی جا چکی ہیں جن کے لئے  قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ یاد رہے کہ اسی سال 13 مارچ کو بلوچستان اسمبلی کے ہی ایک اجلاس میں اراکین کے مابین اس انکشاف پر بڑی تو تو میں میں ہوئی تھی کہ گزشتہ دنوں ایس اینڈ جی اے ڈی میں جو 159 بھرتیاں کی گئی تھیں، ان میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے قرعہ اندازی کے زریعے خاموشی سے منظور نظر افراد کو نوازا گیا تھا۔ اسی سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ گزشتہ مہینے یعنی اپریل کو بھی پیش آیا تھا جب آئی جی جیل خانہ جات ممتاز بلوچ کو ان کے عہدے سے یہ کہہ کر برطرف کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے محکمے میں غیر قانونی بھرتیاں کی تھیں۔ جبکہ برطرف آئی جی ممتاز بلوچ کا موقف تھا کہ چونکہ صوبائی وزیر داخلہ خالی اسامیوں پر اپنے من پسند افراد بھرتی کرنا چاہ رہے تھے اس لیے انکار پر ان کو  انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی وزراء میرٹ کی پامالی اور غیر قانونی بھرتیوں کا سارا الزام افسر شاہی پر لگاتے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال صوبائی وزیر داخلہ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ "بھرتیوں کے عوض عوام سے بھاری رقوم وصول  کی جا رہی ہیں”۔ جبکہ عوامی حلقے اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ تعلیم یافتہ نوجوان ان خدشات کا برملا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ ان اسامیوں کی بندر بانٹ میں  وزراء  کا برابر ہاتھ ہے جو بظاہر میرٹ کی رٹ لگاتے نظر آتے ہیں لیکن درپردہ اقرباء پروری، رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر خاموشی سے بھرتیاں کروا رہے ہیں۔ بہر حال حقیقت جو بھی ہو، اس بات سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان میں اقربا پروری اور  لوٹ مار اپنے عروج پر ہے اور ہر وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی کی کوشش ہے کہ جس طرح بھی ہو اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرے۔  باقی عوام جائیں بھاڑ میں!! یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ لیکن بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان نا انصافیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

اطلاعاَ عرض ہے کہ موجودہ صوبائی اسمبلی کے ہر رکن کو سالانہ ترقیاتی فنڈ کی مد میں اب تک مجموعی طور پر اوسطاَ ایک ارب روپے کی رقم مل چکی ہے۔ جبکہ سالانہ ایک کروڑ روپے جو نادار مریضوں کے علاج کی غرض سے دیئے جاتے ہیں اور لاکھوں روپوں کی وہ رقم جو غریب طلباء کی امداد کے لیے ملتی ہے، ان کے علاوہ ہیں۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں بھی میرٹ اور استحقاق کا ہر گز خیال نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ یہ رقوم پسند و ناپسند کی بنیاد پر غیر مستحق افراد میں ریوڑیوں کی طرح بانٹ دی جاتی ہے۔ بطور مثال، کوئٹہ کے ایک حلقے سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی نے 2014 کے دوران 45 لاکھ روپے کی رقم  صرف 12 ایسے طلباء و طالبات کے درمیان تقسیم کی جن کی اکثریت نہ صرف کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھی بلکہ وہ پہلے ہی شہر کے مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تھے۔ حد تو یہ کہ ایک ہی گھرانے کی دو سگی بہنوں کو 9 لاکھ روپے کی خطیر رقم دی گئی جبکہ غریب گھرانوں کے مستحق افراد کو دروازے سے ہی واپس کر دیا گیا۔

معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالامال اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو پاکستان کا سب سے پس ماندہ صوبہ کہا جاتا ہے۔ یہ بات زیادہ غلط بھی نہیں۔ لیکن اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ قدرتی لحاظ سے امیر اس صوبے کو پسماندہ رکھنے میں وفاقی حکمرانوں کے علاوہ یہاں کے مقامی حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے، جنہوں نے اس خوبصورت سرزمین اور اس کے عوام کی ترقی کے لیے کبھی دل سے سوچا ہی نہیں۔ اس کے برعکس سب نے باری آنے پر اس کے وسائل کو مال غنیمت کی طرح لوٹا اور اپنی زندگیاں سنوار گئے۔  یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلوچستان کے اکثر علاقے قرون وسطیٰ کے ایسے پسماندہ دیہات کا نقشہ پیش کرتے ہیں جہاں نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ ہی زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات۔ جہاں نہ تو کسی پکی سڑک یا سکول کا نام و نشان ملتا ہے نہ ہی کسی ڈسپنسری کے آثار! حالانکہ ان علاقوں سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بندہ منتخب ہوکر صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں میں جا پہنچتا ہے جنہیں علاقے اور عوام کی ترقی کے لیے وافر مقدار میں فنڈز بھی ملتے ہیں۔ لیکن ان کو آج تک یہ توفیق نہیں ہوسکی کہ کم از کم اپنے آبائی علاقوں کی ترقی پر ہی توجہ دیں۔ اس کے برعکس ان کی تمام تر کوشش یہی ہوتی ہے کہ عوامی وسائل کی لوٹ مار اور مال غنیمت کی بندر بانٹ میں اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد وہ اپنی اس "حلال کمائی” سے کراچی، اسلام آباد یا  دوبئی اور لندن میں جائیدادیں خریدیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کوئٹہ کے علاوہ صوبے میں ایسا کوئی دوسرا شہر نہیں جو جدید دور کے تقاضوں سے کسی حد تک ہم آہنگ ہو۔  جبکہ کوئٹہ جو صوبے کا دارالخلافہ ہے، کی حالت بھی ایسی نہیں جس پر کسی قسم کے فخر یا اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، ہر طرف گندگی کا ڈھیر اور تجاوزات کی بھرمار!!۔ دارالخلافے کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے شہر بھر کے تمام ٹریفک سگنلز  ناکارہ پڑے ہیں حالانکہ سرکاری ریکارڈز کی رو سے خراب سگنلز کی بحالی کے نام پر متعدد بار کثیر فنڈز کا اجراء ہو چکا ہے۔ ایسے میں ہمارے ایک دوست کا قول بیان کرنے کے قابل ہے جن کا ارشاد ہے کہ "ٹریفک سگنلز کی غیر موجودگی میں کوئٹہ کا ٹریفک نظام ٹریفک قوانین کے بجائے باہمی افہام و تفہیم کے اصولوں پر چلتا ہے”۔ کچھ ایسا ہی حال کوئٹہ کے ہسپتالوں کا بھی ہے جہاں مشینیں اکثر خراب رہتی ہیں اور مریضوں کو زائدالمیعاد دواؤں پر ٹرخایا جاتا ہے۔ اس لیے اکثر اوقات نہ صرف مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہو پاتی بلکہ مناسب علاج بھی نہیں ہو پاتا۔ جس کی وجہ سے صوبے کے مریض بڑی تعداد میں علاج کی غرض سے کراچی اور لاہور کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے  ہیں۔ دوسری طرف حکمران اور  بڑے افسر  اپنے سر درد کا علاج بھی بیرون ملک کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان حقائق سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب صوبے کے دارالحکومت کا یہ حال ہے تو پھر باقی علاقوں کا کیا حال ہوگا؟

اس صورت حال میں اگر کوئی اس بات کی امید کرتا ہے کہ بلوچستان کے حکمران، عوامی نمائندے اور افسران اعلیٰ ملازمتوں کی تقسیم کے وقت میرٹ اور اہلیت کو مد نظر رکھ کر فیصلے کریں گے، تو معاف کرنا ہمارے خیال میں یہ محض اس کی خام خیالی ہے۔!

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں