کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ۔

ابھی عملی سائنس کی عمر ہی کتنی ہے؟ زیادہ سے زیادہ  دو  ڈھائی سو سال! گلیلیو کو گزرے محض پانچ سو سال ہوگئے ہیں جس نے نظام شمسی سے متعلق فرسودہ نظریات کو چیلنج کیا تھا۔ تب جدید سائنسی ایجادات کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ آئن سٹائن کے نظریات کو تو دو سو سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو بھی ابھی صرف ڈیڑھ سو سال ہی ہوئے ہیں جبکہ ایڈیسن اور مارکونی جیسے نابغوں کو فوت ہوئے سو سال بھی نہیں بیتے۔ لیونارڈو  ڈائیونچی کا قصہ بھی زیادہ پرانا نہیں جس کی بنائی ڈرائنگز نے انسانی اعضا کو سمجھنے میں مدد دی۔

جبکہ  کائنات کی تشکیل کے بارے میں اب تک جو نظریات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ہماری کائنات کی عمر اربوں سال ہے۔ نو مولود سائنسی تحقیقات کے مطابق انسان کم از کم پچاس لاکھ سالوں سے کائنات کے اس نقطے پر آباد ہیں۔ مختلف ادیان کے پیرو کار اس نظریے سے متعلق مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ مثلا جن دنوں  میں گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ میں بی ایس سی کا طالب علم تھا اور میرے مضامین میں جیولوجی بطور ایک اہم مضمون شامل تھا، تب یہی سوال میں نے اپنے اسلامیات کے لیکچرر سے پوچھا تھا۔
اس مہربان استاد نے پہلے تو یہ کہہ کر سوال کا جواب دینے سے احتراز کیا کہ “ایسے سوالوں کے جواب دینے سے کچھ ایسے نئے سوال پیدا ہوں گے جو ہمارے عقائد سے متصادم ہیں”۔ لیکن جب میں نے انہیں جیو لوجی میں پڑھائے جانے والے انسانی ادوار سے متعلق بتا یا تو انہوں نے بادل ناخواستہ حساب لگا کر بتایا کہ حضرت آدم کی تخلیق لگ بھگ دس ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔ ان کا جواب سن کر میں خاموش ہوگیا کیونکہ جیولوجی کی کتابوں کے مطابق انسان ساڑھے تین لاکھ سال قبل پتھروں سے اوزار بنانے پر قادر ہو چکا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دور کو پتھر کا دور بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تمام نظریات اور قیاس آرائیاں اپنی جگہ۔ آئیے ان “حقائق” پر بات کرتے ہیں جن سے ہمارا روز واسطہ پڑتا ہے۔ میری آنکھ ایک ایسے ماحول میں کھلی جہاں زیادہ تر مکانات مٹی  گارے کے بنے ہوتے تھے۔ گھر وں میں روشنی کے لیے لالٹین کا استعمال ہوتا تھا جبکہ کمروں کو گرم رکھنے کے لیے کوئلے کی انگیٹھی جلائی جاتی تھی۔ سواری کے لیے سائیکل سے کام لیا جاتا تھا۔ اکا دکا لوگ ہی پھٹ پھٹی کا استعمال کرتے تھے جسے ہم اپنی سہولت کی خاطر “ٹف ٹفی” کہتے تھے۔ موٹر یعنی گاڑی تو پورے شہر میں چند ہی لوگوں کے پاس تھی۔ سواری کے لیے تانگے چلا کرتے تھے جبکہ پکی سڑکیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ بلیک ینڈ وائٹ ٹیلی ویژن تو ہمارے لڑکپن کے دور کی یادگار ہے جس کے واحد چینل پر شام پانچ بجے سے رات بارہ بجے تک پروگرام نشر ہوتے تھے۔ ریموٹ کنٹرولر کا تصور بھی محال تھا۔ حالات حاضرہ سے باخبر رہنے اور موسیقی سننے کا ایک سستا ذریعہ بڑے اور بے ہنگم قسم کے وہ ٹیوب ریڈیو تھے جن کا مالک ہونا کسی عیاشی سے کم نہیں تھا۔ متمول لوگ موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے گراموفون کا استعمال کرتے تھے۔ ان دنوں ٹیلی فون کا حصول بھی کسی عذاب سے کم نہیں تھا جس کے لیے مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں انتظار کرنا پڑتا۔ تب ہم سکول میں ٹھاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے، دوات میں قلم ڈبو ڈبو کرتختی پر  لکھتے اور چاک سے سلیٹ پر حساب کے سوالات حل کرتے۔ پہاڑے یاد کرنے کے لیے ہم سارے طالب علم قطار میں کھڑے ہوکر بلند آواز میں ایک دونی دونی، دو دونی چار کا ورد کرتے۔ جسم پر ملیشیا کے کپڑے ہوتے اور پاؤں میں ہوائی چپل۔ گھروں میں پانی نل کے بجائے کنویں سے حاصل کیا جاتا جبکہ گرمیوں میں پانی ٹھنڈا رکھنے کے لیے صراحی اور مٹکوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔

اب تو دنیا ہی زیروزبر ہو کر رہ گئی ہے۔ باقی باتیں چھوڑیے۔ یہ بھی بھول جائیے کہ سائنس نے کتنی ترقی کرلی ہے اور  دنیا گلوبل ویلیج سے سمٹ کر کس طرح گلوبل سٹریٹ بن گئی ہے۔ بس  ذرا اپنی ہتھیلی پر جمے موبائل فون پر ایک نظر ڈالیے جس نے پوری دنیا کو ایک چھوٹے سے خوبصورت ڈبے میں بند کرکے ہماری مٹھی میں تھما دیا ہے۔ اس جادوئی ڈبے میں تختی بھی ہے اور کاغذ قلم بھی۔ اس میں چاک اور سلیٹ بھی ہے  پہاڑے بھی۔ برش بھی ہے اور کینوس بھی۔ وی سی آر بھی ہے اور ٹی وی بھی۔ سی ڈی پلیئر بھی اور اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی۔ گھڑی اور الارم بھی اور کیلنڈر بھی۔ کیمرہ بھی اور ٹارچ بھی۔ ڈائری بھی، کتابیں اور لائبریری بھی۔ خط بھی اور ڈاک خانہ بھی۔ دنیا جہاں کا نقشہ بھی اور منزل تک رہنمائی کرنے والا گائیڈ بھی۔ اب تو کسی بھی موضوع سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بس دو انگلیوں کو حرکت دینا ہی کافی ہے۔

اب ہم دنیا میں کہیں بھی کبھی بھی نہ صرف کسی سے بھی فون پر بات کر سکتے ہیں بلکہ لائیو ویڈیو کے ذریعے اپنی سرگرمی ہزاروں لاکھوں لوگوں کے ساتھ شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ اب ہماری ایک اک حرکت خفیہ کیمروں کی زد میں ہے۔ اب حقیقت میں ستاروں پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں۔ کائنات کے اسرارو رموز کو سمجھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نئے جہانوں کی تلاش ہورہی ہے۔ ایلیئنز کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ قدرت کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھے جارہے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے جس کے بعد گاڑیاں ہوا میں اڑتی نظر آئیں گی۔ طب کے میدان میں انقلابات برپا ہورہے ہیں۔  سٹیم سیل ٹیکنالوجی اور انسان کی کلوننگ پر کام ہو رہا ہے۔ روبوٹکس کی بات تو اس لیے پرانی ہوچکی  کیونکہ اب مصنوعی ذہانت پر تحقیق جاری ہے۔  یاد رہے کہ یہ ساری تبدیلیاں محض چند دہائیوں کی پیداوار ہیں۔ اب زرا تصور کریں کہ مزید چند دہائیوں یا ایک صدی بعد یہ دنیا کیسی ہوگی!؟

سوال یہ ہے کہ سائنس کی اس روز افزوں ترقی کے بعد جب بہت سارے اسرار سے پردہ اٹھ جائے گا تو کیا اس وقت کی نسل آنکھ بند کر کے ان کہانیوں پر اعتبار کر نے کو تیار ہو گی جنہیں لوریوں کی شکل میں سنا کر ہم انہیں سلانے کی کوشش کرتے ہیں!؟

بہ من حکایت شبہائی بی ستارہ مگو

بسی شنیدہ ام این قصہ را دوبارہ مگو

تو لائی لائی خموشی و خواب و بی خبری

بہ گوش طفلک بیدار گاہ وارہ مگو

مجھے ستاروں سے خالی راتوں  کی حکایتیں نہ سناکیونکہ میں یہ قصے بہت سن چکا ہوں ۔ تم خاموشی، خواب اور بے خبری کی یہ لوری گہوارے میں لیٹے اس  طفل کو بھی ہرگز نہ سناناجو درحقیقت جاگ رہا ہے۔

Share This:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں