موجودہ بحران سے کیسے نکلا جائے؟

موجودہ بحران سے کیسے نکلا جائے؟

قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں جو ان کی زندگیوں اور ان کی آنے والی نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ زندہ قومیں ان نشیب و فراز سے سبق حاصل کرتی ہیں جبکہ لاپرواہ معاشروں کی قسمت میں زوال اور دربدری لکھ دی جاتی ہے ۔ آج جو اقوام مہذب، متمدن اور ترقی یافتہ کہلانے کے ساتھ ساتھ  پرامن معاشروں کی امین تصور کی جاتی ہیں انہیں یہ ترقی اور امن کسی طشتری میں سجا کے پیش نہیں کی گئی بلکہ انہوں نے اپنی ماضی کی غلطیوں کو سدھار کے اپنی توانیاں اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے صرف کیں ۔ انہوں نے مشکلات اور خطرات کا عقلمندی سے مقابلہ کیا اور دستیاب وسائل کے استعمال سے نئی دنیاؤں کی بنیادیں رکھیں۔

ہزارہ قوم کی تاریخ بھی ایسے ہی نشیب وفراز سے بھری پڑی ہے۔ جہاں ان کے آباء ترکوں اور مغلوں نے کبھی آدھی دنیا پر حکومت کی وہاں ایسے مواقع بھی آئے جب اسے اپنی بقاء ہی خطرے میں نظر آئی۔ انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں انگریزوں کی استعماری پالیسی بالخصوص ان کے پروردہ عبدالرحمان کے خلاف مزاحمت کے دوران ہونے والی جنگوں میں ہزارہ قوم کی ساٹھ فیصد آبادی کو تہہ تیغ کیا گیا، ان کی سرسبز زمینیں چھین لی گئیں اوران کی بڑی تعداد کو ہمسایہ ملکوں میں در بدر ہونے پر مجبور کردیا گیا ۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجود ان کے دلوں سے انکی بقاء اور شناخت کی جبلی خواہش نہیں نکالی جاسکی تبھی تو وہ جہاں بھی گئے انہوں نے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنی محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک نئی دنیا بسالی۔

پاکستان میں ہزارہ قوم کی آمد اسی زمانے میں شروع ہوئی ۔ وہ لٹے پٹے آئے تھے لیکن چونکہ جفا کش تھے اس لئے انہوں نے اپنی اسی خاصیت کی بدولت اپنی بقاء کا راستہ تلاش کیا ۔ انہوں نے بلوچستان بھر میں سڑکوں اور ریلوے لائن بچھانے کے دوران بحیثیت مزدور اپنا خون پسینہ بہایا، پاکستان کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا ، فوج میں بھرتی ہوکر ملکی سرحدوں کے دفاع میں اپنا خون بہایا ، کھیلوں کے شعبے میں ملک اور صوبے کا نام روشن کیا اور بلوچستان خصوصاَ کوئٹہ شہر کی ترقی اور خوبصورتی میں اپنا کردار ادا کیا۔

جواب میں پاکستان اور بلوچستان نے بھی انہیں نوازنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی اور انہیں باعزت زندگی کے مواقع فراہم کئے ، ان کے بچّوں پر تعلیم کے دروازے کھول دیئے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع مہیا کئے۔ یہ ہزارہ قوم کی جفا کشی اور ملک اور صوبے کی فراخدلی تھی جس کے باعث ہزارہ نہ صرف ملکی خدمات کے شعبے میں آگے آگے رہے بلکہ عددی لحاظ سے انتہائی قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود انہوں نے تعلیمی شعبے میں بھی بڑا نام کمایا۔

اگرچہ اس دوران انہیں نسلی اور مذہبی تعصبات کا بھی سامنا رہا ، وہ اپنی شناخت برقرار رکھنے میں مشکلات کا بھی شکار رہے اور اپنے اظہار کے لئے وہ کبھی بھی قومی یا مقامی میڈیا تک رسائی حاصل نہ کر سکے لیکن انہوں نے حتیٰ الامکان باعزت زندگی گزاری اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے آپ کو پاکستانی اور بلوچستانی معاشرے سے جوڑے رکھا۔

ہزارہ قوم کی زندگی میں بھونچال 1999 میں اس وقت آیا جب ایک منظم پروگرام کے تحت اس سے متعلق افراد کے پراسرار قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا جو سولہ سال گزرنے کے باوجود نہ صرف اب تک جاری ہے بلکہ اس کے ختم ہونے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ۔ ان سولہ سالوں میں پندرہ سو سے زائد ہزارہ جوان ، پیر ، بچّے اور عورتیں اس قتل عام کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہونے والے اور درجنوں کے حساب سے زندگی بھر کے لئے معذور ہونے والے اس بہیمانہ قتل عام کی ان نشانیوں میں شامل ہیں جو تاریخ کا حصّہ بن چکے ہیں ۔ اس پر اسرار قتل عام کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں اور اس کی روک تھام کی ذمہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے نیز یہ کہ اس نسل کشی کو روکنے کی خاطر ریاست اور ریاستی اداروں نے کیا اقدامات کئے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر بہت زیادہ بحث ہو چکی ہے۔

اس سلسلے میں یقیناَ کئی آراء ہونگیں جو اپنی جگہ درست بھی ہو سکتی ہیں ۔ کچھ لوگ اسے ایران عرب پراکسی جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں تو کچھ اس قتل عام کو بلوچوں کی تحریک آزادی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نسل کشی کے پیچھے لینڈ مافیا کا ہاتھ ہے جو ہزارہ قوم کے کاروبار اور جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ سب ملک پر مسلط سرمایہ دارانہ نظام کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے تاکہ سسٹم کو دوام دیا جا سکے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جاسکے ، کچھ لوگ اس قتل عام کو ریاست یا ریاستی اداروں کے سر تھونپتے ہیں جو اپنی حاکمیت اور بالا دستی برقرار رکھنے کے لئے قاتلوں اور دہشت گرد جتھوں کی سرپرستی کرتے ہیں تاکہ وہ ماورائے عدالت طریقے اختیار کرکے ناپسندیدہ افراد کو ان کے راستے سے ہٹا سکیں۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ان سولہ سالوں پر محیط ہزارہ قتل عام کا کوئی ایک سبب ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک کثیرالجہتی (Multi Dimensional) اور کثیر المقاصد (Multi purpose) ایجنڈا ہےجسے جاننے کے لئے جذبات سے زیادہ سائنسی طریقہ کار پر عمل کرنا زیادہ سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ظاہری بات ہے کہ کسی بیماری کا صحیح علاج تب تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس بیماری کی صحیح تشخیص نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیماری کی وجہ کچھ بھی ہوعلاج بھی ٹھیک طریقے سے ہونی چاہئے۔  اور یہی وہ سب سے اہم سوال ہے جو تقریباَ ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے اور جسکا جواب ڈھونڈنا چنداں آسان بھی نہیں یعنی اس بحران سے کیسے نمٹا جائے؟

میرا اپنا خیال یہ ہے کہ سر دست ہمیں اپنے گھر میں لگی آگ کو بجھانے اور اپنے بچے کچے سامان کو بچانے کی زیادہ فکر کرنی چاہئے ۔ اس کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنی طاقت یا استعداد کا حقیقی انداز میں ناپ تول کریں ، اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو دھیان میں رکھیں ، دستیاب وسائل اور میسر مواقع کی عاقلانہ جانچ پڑتال کریں اور خطرات اور چیلنجز کا ازسر نو جائزہ لیں ۔ تبھی ہم اس بحران سے نمٹنے کا مناسب راستہ نکال سکیں گے۔

ایک مثال پر غور کریں۔

فرض کریں کہ آپ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ انسانوں کی آبادی سے کافی دور کسی ایسے گھنے جنگل یا صحرا میں بھٹک گئے ہیں جہاں درندوں کا راج ہے۔ رات سر پر ہے جبکہ موسم کے تیور بھی ٹھیک نہیں۔ آپ کے موبائل فون بھی کام نہیں کررہے جس کے ذریعے آپ کسی سے رابطہ کر کے مدد حاصل  کرسکیں۔ یہ صورت حال آپ کے لئے اس لحاظ سے بھی غیر متوقع ہے کیونکہ آپ نے ایسے حالات کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔  پہلے تو آپ اسے کسی وقتی ایڈونچر سے تعبیر کرتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ صورت حال آپ کی توقعات سے بڑھ کر خراب ہے۔ تب آپ ایک لمحے کے لئے کانپ جاتے ہیں کیونکہ آپ کو اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔

ایسے میں آپ کے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں ۔ یا تو تن بہ تقدیر ہوکر کسی غیبی امداد کا انتظار کریں یا پھر اس مشکل سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں ۔ آپ اپنی ساری توانائیاں مجتمع کرتے ہیں ، اپنی سانسیں بحال کرتے ہیں اور اس افتاد سے نمٹنے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ایسے میں آپ کی نظر اپنی سروائیول کٹ (Survival Kit) پر پڑتی ہے جس میں پانی کی آدھی بوتل، چند بسکٹس اور ایک چھوٹے چاقو کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ آپ جان جاتے ہیں کہ اس وقت یہی آپ کا کل سرمایہ ہے جس سے کام لیکر آپ اپنی بقاء کا سامان کر سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ اس دوران کسی جھاڑی یا درخت کے پیچھے سے کوئی بھاری بھرکم گینڈا نمودار ہوتا ہے جس کے تیور انتہائی خطرناک نظر آرہے ہیں ۔ ایسے میں آپ کیا کریں گے ؟ کیا آپ اپنا چھوٹا سا چاقو نکال کر بہادروں کی طرح اس کئی من وزنی جنگلی گینڈے کے سامنے مردانہ وار کھڑے ہوں گے یا بزدلوں کی طرح چپکے سے کسی درخت کی آڑ لے کر اس بلا کے ٹلنے کا انتظار کریں گے۔

آپ دونوں کام کر سکتے ہیں بس اتنا یاد رکھیں کہ بہادری و بے وقوفی اور بزدلی و عقلمندی کے درمیان بال برابر ایک غیر مرئی فاصلہ ہوتا ہے ۔ کسی گینڈے کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے ہونا بہادری نہیں بلکہ حماقت کی نشانی ہوتی ہے جبکہ اس مصیبت سے جان چھڑانے کے لئے وقتی طور پر کسی درخت کے پیچھے چھپ جانا بزدلی نہیں بلکہ عین عقلمندی ہے بشرطیکہ آپ میں زندہ رہنے کی خواہش ہو۔

ایسے بحرانوں میں ٹیم ورک کی بڑی اہمیت ہوتی ہے جبکہ خطرات کی درجہ بندی (Categorization) اور ان سے نمٹنے کے لئے ترجیحات کا تعین (Prioritization)  بھی بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایسی کسی بحرانی صورت حال میں مایوسی اور چڑ چڑے پن کا طاری ہونا ایک فطری بات ہے جبکہ اس صورت حال کی ساری ذمہ داری ایک دوسرے کے سر تھونپنا اور خود دامن جھاڑ کر تمام ذمہ داریوں سے مکر جانا بھی ایک عام سی بات ہے۔ لیکن جو سوال زیادہ اہمیت رکھتا ہے وہ یہ کہ کیا ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں اپنی سروائیول کٹ کو دھیان میں رکھنا ہوگا اور موجودہ و ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہزارہ نسل کشی کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن اس قتل عام کو روکنے میں پاکستانی ریاست نے اپنا حق بھرپور طریقے سے ادا نہیں کیا بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس سلسلے میں ریاست نے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی ۔ قاتل سینکڑوں قتل کرکے آزاد گھومتے رہے جبکہ ہزارہ قوم کو اونچی دیواروں میں قید کر دیا گیا۔

دوسری طرف ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ ہم اس بحرانی کیفیت سے نکلنے پر کم اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے پر زیادہ توجہ دیتے رہے ۔ ہمیں مار باہر سے پڑتی رہی لیکن ہم اس کا سارا غصہ اپنوں پر اتارتے رہے۔ ہم بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے رہے۔ ہم نے کبھی اس قتل عام کی اصل وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کی نہ ہی ہم نے مل بیٹھ کر اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل بنایا۔

Share
217Shares

4 comments

  • اس گینڈے والے مثال کی روشنی میں اگر ہم واقعہ کربلا کو دیکھیں تو امام حسین کے استقامت کو حماقت سے تشبیہ دیا جا سکتا ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
  • ناظر یوسفی
    بہت ہی بر موقع تحریر ہے حسن رضا صاحب،

    فرانز فینن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ غلام قومیں اپنی غلامانہ ذہنیت کی نفسیات کی وجہ سے آپس میں الجھ کر فورا ایکدوسرے کو کاٹ ڈالتے ہے، افسوس کہ ہماری قومی نفسیات بھی عین فرانزفینن کے بیان کردہ خصوصیت سی ملتی ہے۔

  • اچھا مضمون ھے اور مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنے کی تجویز بھی دانشمندانہ ھے مگر افسوس یہ ھے کہ الیکشن کی سیاست اور اسمبلی سیٹ جیسی محبوبہ کے عشق نے حریفوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کر دیا ھے جس کی خاطر ھر کوئی دوسرے کی پگڑی اچھالنے میں لگے ھوئے ھیں تاکہ خود کو زیادہ اھل اور دانا ثابت کر سکے۔ لہٰذا فی الحال مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنے کی جرات اور ھمت کسی میں بھی نہیں ھے اور نہ ھی کسی میں اتنی سیاسی سمجھ بوجھ ھے کہ وہ اس کی اھمیت کو جان سکے اور عوام کے بہتر مفادات کی خاطر اپنی انا اور ذاتی مفاد کی قربانی دے سکے۔ حقیقی سیاست اور عوام کے دکھوں کا مداوا کسی کے پاس نہیں۔ دوسری بات یہ ھے کہ بیرونی دشمن سے اندرونی دشمن زیادہ خطرناک ھیں خصوصا وہ دشمن جو آپ کا ھم نسل اور ھم عقیدہ بھی ھیں اور آپ کی گلی یا محلے میں بھی رھتا ھے اور جو آپ کی نئی نسل کو تعلیم، ثقافت، فنون اور شناخت سے دور کرنے اور پراکسی ایندھن بنانے میں مصروف ھیں۔ یہ ممکن نہیں کہ ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں سے کوئی قوم نابود ھو جائے مگر سیاسی نادانی اور اندرونی دشمن کسی بھی قوم کو با آسانی نابود کر دیتے ھیں۔
    کوئٹہ میں ھزارہ قوم کی بدبختی کا نکتہء آغاز چھ جولائی 1985 ھے
  • خوبصورت تحریر ہے! میرے دل و دماغ میں آجکل ایک ہی سوال گردش کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ ( کیا 20 سال بعد ہزارہ قبیلہ خاص کر پاکستان میں سب کچھ لُٹانے کے بعد کیا اپنے اصل قاتلوں کو پہچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں یا نہیں؟ مثلاً ہماری نسل کشی یا قتل عام سب سے پہلے کس کے دل و دماغ میں اوپر نیچے ہونے کے بعد اس کی زبان سے جاری ہوا؟ اور تقریباً 20 سال گزرنے کے باوجود وہی قاتل ہزارہ قوم کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہے! 2 قاتل ہمارا خون پانی کی طرح کیوں بہا رہا ہے؟ ہم من حیث القوم کس عمل کی انجام دہی کریں تاکہ ہمارا قتل عام رک سکے؟ کیا کبھی ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ مستقبل قریب میں اپنے قاتل کو سر عام رسوا کر سکے؟ بخدا میں رات دن ان سوالات کو لیکر بہت پریشان ہوں! لیکن میرے اٹھائے ہوئے سوالات اپنی جگہ برقرار ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں