رنگے ہاتھوں

رنگے ہاتھوں
“تمہیں شرم آنی چاہئے، کیسے مسلمان ہو تم؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ رمضان کے مہینے میں یوں سر عام کھانا پینا منع ہے؟” مجسٹریٹ نے کٹہرے میں کھڑے ملزم سے پوچھا۔
“صاحب ہمارا تو سارا سال روزہ ہوتا ہے۔ دن میں ایک آدھ بار بڑی مشکل سے کھانا نصیب ہوتا ہے وہ بھی سڑا ہوا۔ کل مجھے دو دنوں بعد کھانا نصیب ہوا تھا اس لئے مجھ سے رہا نہیں گیا اور وہی کھانے بیٹھ گیا”۔ چھیتڑوں میں ملبوس مفلوک الحال ملزم نے نقاہت بھری آواز میں کہا۔
“وجہ کچھ بھی ہو! تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ایک مسلمان ملک میں رہتے ہیں جہاں رمضان کا احترام سب پر لازم ہے۔ تم نے یوں سر عام کھا کر جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کے لئے تمہیں سزا بھی ہوسکتی ہے”۔ مجسٹریٹ نے سامنے پڑے کاغز پر کچھ لکھتے ہوئے کہا۔ پھر شاید انہیں کچھ یاد آیا۔ وہ لکھتے لکھتے رک گیا اور انہوں نے نظریں اٹھا کر کٹہرے کے پاس کھڑے پولیس کے سپاہی کی طرف دیکھا۔
“کہاں سے پکڑ لائے اسے، کیا علاقے میں کوئی ہوٹل کھلا ہوا ہے؟” انہوں نے سپاہی سے پوچھا۔
“نہیں جناب کسی کی کیا مجال کہ رمضان کے مہینے میں اپنا ہوٹل کھلا رکھے۔ یہ تو بڑی بے شرمی سے کوڑے کے ڈھیر پر پڑا کھانا کھانے میں مصروف تھاجب ہم نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا!” سپاہی نے سیلوٹ مارتے ہوئے جواب دیا۔

Share
0Shares

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں