کی جانا میں کون؟

بامیان، بند امیر

کی جانا میں کون؟
غالباَ پچیس سال پہلے کی بات ہے۔ میرے بڑے بھائی رضا وکیل تجارت کی غرض سے ایران گئے تھے جہاں اراک نامی شہر میں ان کا ایک پولیس سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ اس پر پولیس نے ان کا پاسپورٹ پھاڑ کر پھینک دیا تھا اور انہیں “گرفتار” کرکے پہلی فرصت میں مہاجر کیمپ اور بعد ازاں راتوں رات سرحد پار کرکے افغانستان کے شہر ہرات بھیج دیاتھا۔
مجھے اس واقعے کی اطلاع اس وقت ملی جب ان کا ہرات کی جیل سے اردو زبان میں لکھا ایک خط موصول ہوا۔ تب اس واقعے کو ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ ایک ملاقات میں اس بات کا تذکرہ سابق صوبائی وزیرحاجی طالب حسین سے کیا تو انہوں نے نہ صرف مجھے ایک راستہ سجھایا بلکہ اگلے دن مجھے لیکر جناح روڑ پر واقع ڈپٹی چیف آف پروٹوکول کے دفتر گئے جو وزارت خارجہ کا ایک علاقائی نمائندہ تھا۔
انہوں نے مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد کے مرکزی آفس کو ایک فیکس بھیجا اور اس کی ایک کاپی مجھے تھماتے ہوئے تاکید کی کہ میں دو تین دن بعد خود بھی وزارت خارجہ کا ایک چکر لگا آؤں۔ اتفاق دیکھئے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول کا پرائیویٹ سیکریٹری بھائی کاسابق کلاس فیلو نکل آیا جس نے تعاون کی پوری یقین دہانی کراتے ہوئے اسلام آباد میں کچھ فون بھی کھڑکائے۔ اسلام آباد جاتے وقت حاجی طالب حسین نے مجھے کرنل لطیف نامی ایک مہربان شخص کے نام ایک چھٹی دی جن کی ایک عمر کوئٹہ میں گزری تھی اور جو ان دنوں وزارت خارجہ میں ایک اہم عہدے پر تعینات تھے۔
دو دن بعد میں اپنے دوست علی محمد کے ساتھ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر پہنچاجہاں استقبالیہ کاؤنٹر پر ڈھیر سارے سوالات پوچھنے کے بعد ہم سے خصوصی طور پر یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ہم واقعی پاکستانی ہیں؟ جواب میں ہم نے انہیں اپنی تمام اسناد دکھائیں جن سے مطمئن ہوکر ہمیں ایک شخص کی معیت میں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ عمارت کی دوسری منزل پر افغانستان اور ایران سے متعلق خصوصی ڈیسک قائم تھا۔ہمیں جس کمرے میں لے جایا گیا وہاں دیوار سے لگے ریک میں لاتعداد فارسی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ مجھے حیرانی ہوئی جب وہاں بیٹھے شخص نے جو چہرے مہرے سے پشاور کا پختون لگتا تھا، میرے ساتھ انتہائی شستہ فارسی میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کا بھی پہلا سوال یہی تھا کہ کیا میں واقعی ایک پاکستانی ہوں، اور کیا میرے بھائی بھی پاکستانی ہیں؟ پھر جب ان کی تسلی ہوگئی تو انہوں نے مجھے اطمینان دلایا کہ وہ جتنا جلد ہو سکے ہرات کی جیل سے میرے بھائی کی رہائی کے انتظامات کرائیں گے۔
یاد رہے کہ کرنل امام ان دنوں ہرات میں پاکستان کے کونسل جنرل تھے۔
ہم وہاں سے باہر نکلنے لگے تو ہمیں کرنل لطیف کی یاد آئی۔ کسی نے ہمیں ان کے دفتر تک پہنچایا جو اسی فلور پر تھا۔ تب وہ کسی شعبے کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ ہمیں بڑی تپاک سے ملے۔ ہم نے انہیں حاجی طالب کا سلام اور پیغام دیا جس سے وہ بڑے خوش ہوئے اور کوئٹہ کے بارے میں پوچھنے لگے۔ پھرجس وقت ہم چائے پی رہے تھے انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمیں وہاں آنے میں کسی قسم کی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ ان کے لہجے میں اتنی اپنائیت تھی کہ میں انہیں یہ بتائے بغیر نہ رہ سکا کہ جب بار بار ہم سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ہم واقعی پاکستانی ہیں تب ہمارے دلوں پر کیا گزری؟
میری یہ بات سن کر کرنل صاحب کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کے لئے بدل سا گیا۔ پھر انہوں نے ہمیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں اس سوچ کا شدت سے مخالف ہوں۔ میرے خیال میں جس کے پاس پاکستان کی شہریت ہے وہ پاکستانی ہے۔ ورنہ میرا خاندان بھی ہندوستان سے ہجرت کرکے آیا تھا لیکن آج میں وزارت خارجہ میں ایک اہم عہدے پر فائز ہوں۔ ضیاء الحق ہندوستان کے شہر جالندھر سے تعلق رکھتے تھے جو تیرہ سال تک پاکستان کے حکمران رہے۔ نواز شریف کا تعلق امرتسر سے تھالیکن وہ آج پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔
ہم وہاں سے نکلے تو اپنے آپ کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے۔  وزارت خارجہ کی کوششوں سے کچھ دنوں بعد  بھائی خیریت سے گھر پہنچ گئے۔ آج اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران میری معلومات میں بھی بہت سارا اضافہ ہوچکا ہے۔ اب میں جان چکا ہوں کہ پرویز مشرف کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی تھی  اسی لئے اپنے دور حکومت میں جب وہ ہندوستان گئے تھے  تو انہوں نے دہلی میں اپنا آبائی گھر “نہر والی حویلی” دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کی والدہ نے تو وہ گھر جاکر دیکھ بھی لیا تھا۔ نواز شریف کو ہندوستان کے شہر امرتسر کے قریب واقع اپنے آبائی گاؤں  جاتی امراء سے اتنی عقیدت ہے کہ انہوں نے  لاہور کے قریب واقع اپنی بستی کا نام ہی جاتی امراء رکھا ہے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ کے قبیلے کے لوگ اب بھی افغانستان اور ازبکستان میں رہتے ہیں اورسندھ کے اردو بولنے والے اب بھی اپنے آپ کومہاجر کہتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے طالبان تو دو دہائی قبل افغانستان کے حکمران بھی رہ  چکے ہیں۔

ہم بہت عجیب لوگ ہیں۔ اتنے عجیب کہ بقول شاعر

؎ خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں!

ہم باہر کے ملکوں میں جاکر افغانی کی حیثیت سے اپنا کیس ڈالتے ہیں اور اپنے آپ کو افغانی ثابت کرنے کے لئے ہزاروں جھوٹ بولتے ہیں تاکہ پناہ مل سکے۔ لیکن دوسروں پر افغانی اور غیر ملکی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ہمیں زرہ برابر شرمندگی نہیں ہوتی۔ پچھلے دنوں جب بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کے دوران اس بات کا ذکر ہواتھا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے بعض مقتولین کے ورثاء کو اس لئے معاوضہ نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے پاکستانی ہونے پر شک تھا تو ہم نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیا تھا۔ آج ہم خود گلے پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے پر غیر ملکی ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ افسوس تو یہ کہ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے ابا حضور کو ہم نے خود  بوریا بستر سنبھالے گرد آلود چہرے اور حیران نظروں کے ساتھ بسوں سے اترتے دیکھا تھا۔

میرے لئے یہ بات کبھی بھی فخر کا باعث نہیں رہی کہ میرے دادا پاکستان بننے سے کئی دہائی قبل کوئٹہ آئے تھے بلکہ جب بھی میری امی ان دنوں کا ذکر کرتی ہے تو میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ اب بھلا مہاجرت پر فخر کرنے کا بھی کوئی جواز بنتا ہے کیا؟ یہ تو درد اور الم سے بھری ایک ایسی کہانی ہے جسے سنتے اور سناتے وقت آنکھوں سے غموں کا ایک دریا بہہ نکلتا ہے۔ ہاں میں نے ہمیشہ اس بات پر فخر  کا اظہار کیا ہے کہ میرے ابو پاکستان بننے کے بعد ایک سپاہی کی حیثیت سے پاکستان کی فوج کا حصہ رہے اور انہوں نے  1965 کی جنگ میں ایک سپاہی کی حیثیت سے حصہ لیا۔ مجھے اس بات کے اعتراف میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ بہت سارے “پاکستانیوں” کی طرح میرے ابو اور امی کے  بھی بہت سارے قریبی رشتہ دار آج بھی افغانستان میں رہتے ہیں اور ہر لحاظ سے مطمئن اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔  میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ مہاجرتوں کا سلسلہ کبھی نہیں رکتا۔ آج یہاں تو کل وہاں! میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ شاید کل میرے اور آپ کے بچے یہاں نہ ہوں بلکہ کسی نئی دنیا اور نئی تہذیب کی تلاش میں نکل پڑے ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جب میرے بچے اپنے بچوں کو ان کے دادا دادی اور نانا نانی کے بارے میں بتائیں گے تو انہیں یہ کہتے ہوئے ہرگز شرمندگی نہیں ہوگی کہ وہ پاکستانی تھے۔ اور میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ جب ہم متمدن ملکوں میں پناہ ڈھونڈنے جاتے ہیں تو انسانی حقوق کا بہت شدت سے ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن اپنے “آبائی وطن” میں انسانی حقوق کے حوالے سے گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں۔

پتہ نہیں مجھے اپنے فیس بکی دوست مرزا بولئی کی یہ بات بار بار کیوں یاد آتی ہے کہ “بعض لوگ اپنے آپ کو خالص “کوٹہ گی” اور دوسروں کو “لا لئی” ایسے کہتے ہیں جیسے  خود ان کے باپ دادا کسی زمانے میں کوئٹہ میں ڈائینو سار کا شکار کرتے رہے ہوں”۔

از ضعف بہ ہر جا کہ نشستیم وطن شد

از گریہ بہ ہر سو کہ گزشتیم چمن شد

Share
614Shares

2 comments

  • Ma ham yak nafari astom ki Baba kalan ma (Bakul ma) Quetta amda bud, wa ma dar Aurupa Min haisi yak Afghanistani zindagi munm, Aaali asli watan ma Afghanistan asta , Quetta asta ya da jayi ki ma zindagi munm????

    Bisyar behtareen Tehreer, zinda bashi HASAN RAZA Sir.

  • بہترین سر جی ہمیشہ خوش و سلامت باشین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں