ہزارہ قوم کی تاریخ سے متعلق ایک نئی خوبصورت کتاب

ہزارہ قوم کی تاریخ سے متعلق ایک نئی خوبصورت کتاب

ساکا اور سیتھی کون تھے، قدیم شاہراہ ریشم کہاں کہاں سے گذرتی تھی، ان تجارتی گذرگاہوں کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے کونسی تاریخی جنگیں لڑی گئیں، ان جنگوں کے باعث موجودہ ہزارستان کے اطراف میں کونسی عظیم سلطنتیں قائم ہوئیں اور ان سلطنتوں کا ہزارہ قوم کی تشکیل میں کیا کردار رہا، ہزارہ قوم کی تشکیل کب ہوئی، لفظ ہزارہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے، کیا ہزارہ چنگیز خان کی نسل سے ہیں، کوشانی کون تھے، کیا ہزارہ قوم کے آباؤ اجداد کا تعلق نکودریوں سے تھا، تبت اور گلگت کے باسیوں کا ہزارہ قوم سے کیا رشتہ ہے، کیا ہزارہ قوم کے اجداد کا تعلق عرب کی سرزمین سے تھا، ہوزالہ یا ہازولہ کا ہزارہ سے کیا نسبت ہے، بامیان کی تہذیب کا تاریخی پس منظر کیا ہے، ہزارہ قوم کی زبان کیا تھی، فارسی ہزارہ قوم کی زبان کا حصہ کیسے بنی، ہزارہ ابتدا میں کس مذہب کے پیروکار تھے اور شیعہ مذہب میں کب داخل ہوئے، ہزارہ قوم کی تاریخ میں ہزارہ عورتوں کا کیا کردار رہا ہے، ہزارہ استان (ہزارستان یا ہزارہ جات) کا تاریخی پس منظر کیا ہے، ہزاہ استان افغانستان کا حصہ کب بنا، امیر عبدالرحمان نے انگریزوں کی مدد سے ہزارہ استان پر چڑھائی کیوں کی اور ہزارہ قوم اپنی زمینوں سے محروم ہونے کے بعد مرکزی ایشیا، پاکستان اور ایران کی طرف ہجرت کرنے پر کیوں مجبورہوئی؟
یہ اور ان جیسے بے شمار سوالات اور موضوعات جن کا اس کتاب میں احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس خوبصورت کتاب کے مصنف فدا گلزاری ہیں جو سیاسیات کے شعبے میں ایم فل کر چکے ہیں اور مستقبل میں پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ کتاب ان کی کئی سالوں کی تحقیق اور عرق ریزی کا ثمر ہے۔ کتاب انگلش زبان میں ہے جس کی اشاعت کا اہتمام گوشہ ادب کوئٹہ نے کیا ہے۔ کتاب 422 صفحوں پر مشتمل ہے۔ میں نے ابھی کتاب کے کچھ ابتدائی صفحات کا ہی مطالعہ کیا ہے۔ کتاب کی زبان بہت سلیس اور عام فہم ہے۔ تحریر میں بہت روانی ہے جس کی وجہ سے مطالعے کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب بلاشبہ ایک قیمتی تحفے سے کم نہیں۔ اگرچہ یہ کتاب ابھی باقاعدہ فروخت کے لئے پیش نہیں کی گئی لیکن امید ہے کہ آئندہ کچھ ہفتوں کے دوران یہ تمام قارئین کی دسترس میں ہوگی۔ اس کی قیمت پاکستان میں 795 روپے جبکہ باہر کے ملکوں میں 18 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
ہزارہ قوم کی تاریخ سے متعلق کتابوں کی فہرست میں اس کتاب کو ایک خوبصورت اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ میری طرف سے نوجوان مصنف فدا گلزاری کے لئے ڈھیروں مبارکباد اور نیک تمنائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں