اطمینان

اطمینان

رقم تو اس نے لے لی تھی لیکن اس کا من اب بھی ڈانواڈول ہو رہا تھا۔
“مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا” اس نے سوچا۔
وہ ایک عجیب کشمکش کا شکار تھا۔ چھوٹی موٹی رقمیں تو وہ کئی بار حرام قرار دے کر ٹھکرا چکا تھا لیکن اتنی بڑی رقم کی پیشکش اسے پہلی بار ہوئی تھی۔
اس رقم سے وہ گھر کے کئی بڑے مسائل حل کر سکتا تھا۔ بیوی کے لیے ایک اچھا سونے کا گلوبند خرید سکتا تھا، بیٹے کے لیے موٹر سائیکل لے سکتا تھا اور گھر کا رنگ و روغن کروا کے اس کی ہیئت  تبدیل کر سکتا تھا۔ آخر انہیں بھی خوشیاں منانے کا حق حاصل تھا۔
“لیکن رشوت لینا اچھی بات بھی تو نہیں۔ ایسا کرکے شاید اس نے ٹھیک نہیں کیا!” اس نے نوٹوں کے ڈھیر کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔
وہ کافی دیر تک بے چینی اور کش مکش کے عالم میں سوچتا رہا۔ پھر اچانک اس کے دماغ میں ایک کوندا لپکا۔
“اس رقم کا بیس فیصد میں کسی مسجد کی تعمیر کے لیے دے دوں گا” اس نے سوچا۔
یہ ارادہ کرتے ہی اس کے دل میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے ایک گہری سانس بھری اور اٹھ کر وضو کرنے چلا گیا تاکہ نماز پڑھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.