سند

سند
تقریب اختتام کو پہنچی تو وہ ڈھیروں مباکبادیں سمیٹ کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی تاکہ یہ بات بیوی بچوں کو سنا سکے۔ وزیر اعلیٰ کے ہاتھ سے تعریفی سند لینا اس کے لیے ایک اعزاز کی بات تھی۔ وہ شہر کے ایک معروف سرکاری ہسپتال کا سربراہ تھا۔ آج کی یہ خصوصی تقریب اسی کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی تاکہ ہسپتال کے لیے اس کی بہترین خدمات کا اعتراف کیا جاسکے۔
ابھی وہ راستے میں ہی تھا جب اس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری طرف اس کی بیوی تھی۔
“بیٹے کو معلوم نہیں کیا ہوا ہے وہ بیہوش پڑا ہے۔ آپ جلدی سے گھر آجائیں یا میں اسے لیکر ہسپتال آتی ہوں” بیوی نے روہانسی آواز میں بتایا۔
نہیں ہسپتال مت آنا۔ تم تیار رہو میں ابھی گھر پہنچتا ہوں۔ میں اپنے بیٹے کو کچھ بھی ہونے نہیں دوں گا۔ فون بند کرکے اس نے جلدی سے دوبارہ ایک نمبر ملایا۔
یہ نمبر شہر کے ایک معروف پرائیویٹ ہسپتال کا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.