سنگسار

سنگسار

اس کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔پہلا پتھر ٹھیک اس کی پیشانی پر پڑا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے پیشانی سے فوارہ پھوٹ پڑا ہو۔ خون بھل بھل نکل کر ندی کی صورت اس کی آنکھوں میں اترنے لگا۔ لیکن اس سے پہلے کہ اس کی چیخ کی بازگشت ختم ہوتی اس پر پتھروں کی بارش ہونے لگی۔ اس کے چہرے اور سر سے درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو جنبش دینے کی کوشش کی تاکہ اپنے بازوؤں کا حصار بنا کر اپنے چہرے کو پتھروں سے بچا سکے لیکن ہاتھوں نے حرکت کرنے سے انکار کردیا۔ اسے یاد آیا کہ وہ شانوں تک مٹی تلے دبی ہوئی ہے۔ پتھر اولوں کی طرح اس کے سر اور چہرے پر برس رہے تھے۔ اس کے منہ سے بے اختیار چیخیں نکل رہی تھیں لیکن اللہ اکبر کے نعرے اتنے بلند تھے کہ اسے اس  کی اپنی چیخیں کسی کنویں سے آتیں محسوس ہورہی تھیں۔ گال پر نوکیلا پتھر لگا تو اس نے چیخ کر اپنی ماں کو پکارا۔ اسے یقین تھا کہ اب ماں دوڑتی ہوئی آئے گی اور اسے سینے سے لگائے گی لیکن نہ ماں آئی نہ ہی گالوں پر اس کے بوسے کا لمس ہوا۔ ناک پر پتھر لگی تو اس نے چیخ کر ابا کوآواز دی لیکن  وہ  بھی اس کی مدد کو نہ آیا نہ  ہی اس کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ پتھر مسلسل برس رہے تھے اور اس کا چہرہ لہو لہان ہو رہا تھا۔ اس کا سر اور چہرہ جیسے آگ میں جھلس رہاتھا۔ اس نے آخری امید کے طور پر اپنے بھائی کا نام لے کر پکارا لیکن اس کی آواز حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ اس کے منھ کا ذائقہ نمکین ہونے لگا اور ذہن تیزی سے تاریکی میں ڈوبنے لگا۔
فضا اب بھی اللہ اکبر کے نعروں سے گونج رہی تھی جب مولوی حسام الدین نے چیخ کر سب کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے شانے سے سرکتی عبا کو سنبھالا اور داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ آہستہ گڑھے کی طرف بڑھنے لگا۔
وہ ساکت ہو چکی تھی اور اس کے چہرے پر پڑی خون آلود چادر جگہ جگہ سے پھٹ کر خون کے لوتھڑوں کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ مولوی نے اطمینان کی ایک ٹھنڈی سانس بھری اور ہاتھ اٹھا کر انتہائی عقیدت سے آسمان کی طرف دیکھنے لگا جیسے خدا کا شکر ادا کر رہا ہو۔ فضا ایک بار پھر اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔  نعرے تھم گئے تومولوی حسام الدین نے بلند آواز میں  کہنا شروع کیا

“ہمارا مذہب ہمیں حیا کا درس دیتا ہے۔ ہماری عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے تاکہ وہ مردوں کی ہوس بھری نظروں سے محفوظ رہ سکیں۔ عورت کا کام گھر کی چار دیواری میں رہ کر گھر کے مردوں کی خدمت  کرناہے۔ ان کا بلا وجہ اپنے مردوں کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا اور نامحرم مردوں کے ساتھ بات کرنا غیر شرعی اور قابل تعزیر عمل ہے۔ ایسی عورتوں کو جو غیر مردوں سے تعلقات استوار کرتی ہیں، سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہ بد ذات اور بے حیا لڑکی بھی پڑھنے لکھنےکے بہانے چپ چپ کر ایک غیر مرد سے ملتی تھی۔ اسے کئی بار منع کیا گیا گیا لیکن یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی اس لیے گاؤں کے لوگوں کی شکایات پر ہم نے اس پر شرعی مقدمہ چلایا اور جرم ثابت ہونے پر اسے سنگسار کرنے کی سزا سنائی جس پر آج الحمدللہ بخیرو خوبی عمل بھی ہوگیا۔ مجھے خوشی ہے اور میں اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے شریعت پر عمل کرنے اور کروانے کی توفیق دی۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں شریعت پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا کرے”۔

آمین کی صداؤں میں مولوی حسام الدین داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی  لینڈ کروزرگاڑی کی طرف بڑھا تو مجمع بھی چھٹنے لگا۔ وہ  مدرسہ پہنچا تو تاریکی ہونے لگی تھی۔ مدرسہ گاؤں سے ذرا الگ تھلگ پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔ وہاں پہنچ کر وہ گاڑی سے اترا تو کئی طالب علم اس کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔  ان میں اس کا ایک پرانا شاگرد بھی تھا۔  وہ پاس پہنچا تو مولوی نے اس کے کانوں میں کچھ سرگوشی کی۔ شاگرد نے ادب سے سر ہلایا اور بلند آواز میں کہنے لگا کہ مولوی صاحب تھکے ہوئے ہیں اور آرام کرنا چاہتے ہیں اس لیے کوئی ان کے آرام میں مخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔ یہ کہتے ہوئے شاگرد نے کن اکھیوں سے مولوی کی طرف دیکھا اور نظریں جھکاتے ہوئے ایک طرف چل پڑا۔ مولوی اپنے کمرے میں پہنچا تو اس پر ایک سرشاری طاری تھی۔ اس نے اپنی عبا اور عمامہ اتار کر کھونٹی پر لٹکایا اورچاپائی پر پڑا گاؤ تکیہ درست کرنے لگا۔ تبھی دروازے پرایک ہلکی آہٹ ہوئی اور کسی نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا تو اس کا نوعمرچہیتا شاگرد دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک  مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ بڑے اشتیاق سے دروازے کی طرف لپکا ۔  اس نے شاگرد  کا بازو پکڑ کر اسے کمرے کے اندر کھینچا اور دروازہ  بند کرکے چٹخنی چڑھادی۔

یہ کہانی پہلی بار اظہار پر شائع ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.