پھر سب کچھ بدل گیا

پھر سب کچھ بدل گیا


1015723_591715587540047_105199039_o1-900x650کوئٹہ میں عاشورہ خیریت سے گزر گیا تو سب نے سکھ کا سانس لیا لیکن راولپنڈی کے ناخوشگوار واقعے نے ملک بھر کو اداس کردیا ۔ واقعے کے بعد حسب معمول ایک دوسرے پرالزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ فرقہ پرست گروہوں نے اس واقعے کو خوب اچھالنے کی کوشش کی ۔ سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان بدتمیزی دیکھنے میں آیا ۔ایسے میں پتہ نہیں کیوں مجھے 1980 کا زمانہ یاد آیا ۔میں اور میرے دوست عام لا ابالی نوجوانوں کی طرح گھومنے پھرنے بلکہ بقول والدین آوارہ گردی کے شوقین تھے ۔ ہمارے گروپ میں شیعہ اور سنی دونوں مسلک کے دوست شامل تھے ۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ہم نے کبھی آپس میں مسلکی موضوعات پر کوئی گفتگو کی ہو ۔ زندگی بڑے نارمل انداز میں بسر ہورہی تھی ۔ میرے کئی شیعہ دوست شیروانیاں زیب تن کئے ایک مقامی مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے جاتے تھے جبکہ سنی دوست شام کے اوقات میں ٹوپیاں پہنے علاقے کی مساجد میں قرآن پڑھنے جاتے تھے۔ اس بات کی کسی کو پرواہ نہیں تھی کہ کون شیعہ ہے اور کون سنّی ۔ نہ ہی ہم ان موضوعات پر کبھی اپنے سنی دوستوں کے ساتھ بحث کیا کرتے ۔

اس کے برعکس ہم نہ صرف اکھٹے پکنک منایا کرتے بلکہ محرم کی رسومات میں بھی مل جل کر شرکت کرتے ۔ حتیٰ کہ ہمارے سنی دوست بھی بعض اوقات ہمارے ساتھ محرم کی مجالس میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ۔ دوسری طرف محلے کی مساجد کے طالب علم بچے جب شام کے وقت ہر ایک کے دروازے پر دستک دے کر ” ٹکی راوڑی خیر یوسی ” کی آواز لگاکر مسجد کے طالب علموں کے لئے کھانا جمع کرتے تو محلے کی دیگر ماؤں کی طرح میری ماں بھی ان کے برتن میں ہمیشہ کھانے کی کچھ نہ کچھ چیزیں ڈال دیتی ۔ تب مساجد اور امام بارگاہوں میں لاوڈ اسپیکر پر بلند آواز میں خطبہ دینے کا چلن عام نہیں تھا ۔ عاشورہ کے دن شیعہ ماتم کرتے تو سنی نذرو نیاز اور سبیل کی ذمہ داریاں سنبھالتے ۔ سرِ میدانی واقع حاجی رفیق کا "چکوال گرم حمام” عاشورہ کے دن بال سنوارنے اور شیو بنانے سے یکسر انکار کردیتا لیکن اس حمام میں صبح سے ہی پانی گرم کرنے کی تیاری شروع ہوتی تاکہ ماتمیوں کو مفت غسل کرنے کی سہولت میسر ہو ۔
لیکن پھر بڑے غیر محسوس طریقے سے سارا نظارہ بدلنے لگا ۔ جنرل ضیاء کی پالیسیوں اور ایرانی انقلاب کی حشر سامانیوں کے باعث مساجد اور امام بارگاہوں میں لاوڈ اسپیکر کی آوازیں بلندسے بلندترہونے لگیں ۔ داڑھیوں کے سائز میں اضافے کے ساتھ دلوں میں کدورتیں بھی بڑھتی گئیں اور زبانیں محبت کا پرچار کرنے کے بجائے ذہر اگلنے لگیں ۔ ہمیں بھی پہلی بار اس بات کا احساس دلایا گیا کہ کیوں کہ ہم شیعہ ہیں اس لئے حق پر ہیں جبکہ ہمارے سنّی دوستوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ جنت صرف ان کے لئے بنی ہے ۔
انہی دنوں پاکستان میں فقہہ جعفریہ نافذ کرنے کی مہم چل نکلی اور پاکستان خصوصاَ کوئٹہ کو لبنان بنانے کی باتیں کی جانے لگیں ۔ مجھے یاد ہے کہ تب کچھ امام بارگاہوں کے منتظمین میں محرم کے دس دنوں کے لئے پنجاب اور سندھ سے پیشہ ورخطیبوں کو بھاری معاوضوں کے عوض بُک کرنے کی ایک دوڑ سی لگ جاتی ۔مجالس میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ بِھیڑجمع کرنے کی خاطر ان خطیبوں کے بھاری معاوضوں کی خصوصی تشہیر کی جاتی ۔ ان دنوں امام بارگاہ کلان میکانگی روڑ کے ایک خطیب ضمیر الحسن نجفی کا بڑا شہرہ تھا جو اس وقت کا سب سے "مہنگا” خطیب تھا ۔ وہ بڑے مضحکہ خیز انداز میں اصحاب رسول کا مذاق اڑایا کرتا تھا ۔ وہ ان اصحاب کے خلاف بولنے اور تبریٰ بھیجنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ۔ تب انہیں محرم کے دس دنوں میں خطابت کے عوض چالیس ہزار روپے ملتے تھے جو شاید آج کے چالیس لاکھ روپیوں کے برابر ہوں ۔

ہم سارے شیعہ دوست ان کے شیدائیوں میں شامل تھے ۔ ایک دن میرے ایک دوست نے ایک پرچی پر ان کے لئے ایک سوال لکھ بھیجا ۔ ” ہم نماز کے وقت سجدہ گاہ (مور/ مہر) کیوں استعمال کرتے ہیں ؟ آقائی ضمیرالحسن نجفی نے اس سوال کے جواب میں ایک کہانی سنائی ۔ کہنے لگے ” ایک دن میں پنجاب کے کسی گاوں سے گزر رہا تھا تو نماز کا وقت ہوگیا ۔ میں نماز پڑھنے پاس کی ایک مسجد میں گھس گیا جو سنّیوں کی تھی۔ میں نے مصلیٰ بچھایا اور سجدہ گاہ رکھ کے نماز پڑھنے لگا ۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ مسجد کا امام بڑی بے چینی اور غصے میں ادھر ادھرٹہل رہا تھا ۔ میں نے نماز ختم کی تو امام مسجد میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ تم اس” ٹکیا ” پہ سجدہ کیوں کرتے ہو ؟ میں نے جواب میں کہا کہ کربلا کی اس مٹی پر سجدہ کرنے سے شیطان کو غصّہ آتا ہے ۔ کہیں آپ کو تو غصّہ نہیں آیا”؟ نجفی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ امام بارگاہ نعرہ حیدری سے گونج اُٹھی ۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس نعرے میں میری بلند آواز بھی شامل تھی ۔ تب دوسروں کی طرح میں بھی یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ مولوی صاحب نے بڑی چالاکی سے ہمارے دوست کے سوال کو گول مول کردیا تھا ۔

انہی دنوں میں نے پہلی بار ” ایک ، دو ، تین پر لعنت کا نعرہ اور جواب میں بے شمار کی تکرار سنی ۔ اور انہیں دنوں شاید پہلی بار سامنے کی مسجد سے امام بارگاہ کلان پر پتھراو کیا گیا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب اگلے دن ایک شخص نے مولوی (ضمیر الحسن نجفی)سے کہا کہ آپ تو اپنا کام کر کے چلے جائیں گے لیکن آپ کی ان تقریروں کی وجہ سے جو نفرت پھیل رہی ہے اس کے باعث آج کے بعد ہمیں اپنے ساتھ اسلحہ لے کر گھومنا ہوگا تو جناب کا جواب تھا کہ "میں نےاپنا کام کردیا اب آپ لوگ جانیں اور آپ کا کام ” موصوف اگلے کئی سالوں تک بھاری بھرکم فیس لیکر نوجوانوں کے اذہان کو زہر آلود کرتے رہے ۔
پھر ایک سال محرم کے دوران پنجابی امام بارگاہ میں پنجاب کے ایک اور آتش سخن خطیب کو دعوت دی گئی اور محرم کے آغاز سے قبل ہی بڑے منظم طریقے سے موصوف کی تشہیر کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ان کی پہلی خاصیت یہ بتائی گئی کہ وہ پہلے ایک دیو بندی مولوی تھے لیکن اب تشیّع کی حقانیت قبول کر کے "راہ راست” پر آگئے ہیں ۔ ان کی دوسری خوبی جو ان کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بنی ان کی بھاری بھرکم فیس تھی ۔ اس بات کی خصوصی تشہیر کی گئی کہ انہیں محرم کے دس دنوں کی خطابت کیلئے 90 ہزار روپیوں کی پیشکش کی گئی تھی جو اس سیزن میں کسی بھی خطیب کو دی جانے والی سب سے بڑی رقم تھی ۔ میں اس خطیب کا نام شاید زندگی بھر نہ بھول سکوں ۔اس کا نام تھا مظہر دیو بندی ۔ وہ بلا کا خطیب تھا ۔ اس کا یہ جملہ بڑا مشہور ہواتھا کہ "مجھ سے پوچھو میں بتاتا ہوں کہ سنّیوں میں کیا خرابیاں ہیں کیونکہ میں 45 سال تک سنی تھا اورابھی ابھی شیعہ ہوا ہوں”

اس وقت اس "نو شیعیے” کو جتنا معاوضہ اورعزت ملی اتنی عزت کبھی کسی مقامی شیعہ عالم کے حصے میں نہیں آئی ۔ انہی دنوں ایک موقع پر جب دیو بندی صاحب نفرتیں پھیلاکے اوراپنی روزی حلال کرنے کے بعد منبر سے اترے تو ہم دوست بھی ان کے پیچھے پیچھے پنجابی امام بارگاہ کے مختصر سے حُجرے میں چلے گئے ۔ سلام دعا کے بعد ہم نے ان سے سجدہ گاہ سے متعلق وہی سوال پوچھا جو گزشتہ سالوں ہم ضمیرالحسن نجفی سے پوچھ چکے تھے ۔ پہلے تو انہوں نے تھکاوٹ کا بہانہ بنا کے ہم سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہمارے اصرار پر انہوں نے جو جواب دیا وہ آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے ۔ فرمانے لگے ” بیٹے میں تو ابھی ابھی شیعہ ہوا ہوں میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ بہتر ہوگا یہ سوال آپ اپنے کسی جیّد عالم سے پوچھ لیں ” ہماری سادگی کا یہ عالم تھا کہ ہم تب بھی یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ ہمارے ہی چندوں پر پلنے والے یہ پیشہ ور”علماء” جو اپنی کمائی کی خاطر مسلک بدلنے پر ہمیشہ تیار رہتے ہیں ، جن کو دین کی معمولی سمجھ بوجھ بھی نہیں اور جو ہمارے اذہان میں اُبھرنے والے بنیادی سوالوں کے جواب تک نہیں دے سکتے اور انہیں ہنسی مذاق میں اڑا دیتے ہیں ہمیں مستقبل میں کن آزمائشوں میں مبتلا کرنے والے ہیں ۔
وقت گزرتا گیا اور ساتھ ہی سنّی امیرالمومنین ضیاءالحق کے نظام مصطفیٰ اور شیعہ امام خمینی کے ایرانی انقلاب کی بدولت خطے میں مذہبی جنون بھی بڑھتا گیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محبت کی جگہ نفرت نے لے لی ، دلائل کے بجائے پستول ، کلاشنکوف اور بموں کے زریعے بات کرنے کا سلسلہ چل پڑا ، گھروں کی دیواریں اونچی ہونے لگیں ، اپنی حقانیت ثابت کرنے کی خاطرسعودی عرب اور ایران سے طاقتور لاوڈ اسپیکر منگوانے کی ریت چل پڑی ۔ فتووں کا بازار گرم ہوا، معصوم لوگوں کو ذبح کرنے کی رسم چل پڑی اور میرے سنی ہمسایوں نے محرم کے دنوں میں نذرو نیاز کا سلسلہ بند کر دیا ۔ ساتھ ہی ٹکی راوڑی خیر یوسی کی آوازیں بھی آنا بند ہو گئیں ۔ ماحول پر آسیب کا سایہ پڑ گیا ۔ حاجی رفیق اپنا چکوال گرم حمام بند کر کے پنجاب چلا گیا ۔ ہمارے اسکول کے کلین شیواستاد ماسٹر عزیز نے اپنی ساری توجہ داڑھی بڑھانے پر مرکوز کردی اور میرے بچپن کے سنّی دوست مجھ سے دور ہوتے گئے ۔

پھر تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک بھر سے قتل و غارت کی خبریں آنے لگیں ۔ لوگ امن کی تلاش میں ملک سے بھاگنے لگے ۔ سینکڑوں لوگ برف زاروں اور سمندروں کی نظر ہونے لگے ، بم دھماکے ہونے لگے ، ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی ، بچے اور عورتیں خون میں نہلانے لگیں اور مائیں اپنے بچوں کو گھر سے رخصت کرتے وقت ان پر دعائیں پڑھ کر پھونکنے لگیں تاکہ وہ خیریت سے گھر واپس آسکے ۔ لیکن امن ایسا روٹھا کہ اس نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ۔
میں آج بھی ماضی کے مزاروں میں جھانک کر ایک ایسے پرسکون معاشرےکی تلاش میں ہوں جہاں میں اپنے سنّی دوستوں کے ساتھ پھر سے پکنک پر جا سکوں ۔ مجھے ایک ایسے معاشرے کی تلاش ہے جہاں عقیدے کی بنیاد پر کسی کو قتل نہ کیا جاتا ہواورجہاں لوگ شیعہ ،سنّی یا ہندو ، مسلمان اور عیسائی بنکر نہیں بلکہ انسان بن کر رہیں ۔ مجھے میرا کوئٹہ واپس چاہئے ۔ میں ہزاروں لبنان اور تہران اپنے کوئٹہ پر قربان کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن کیا ہے کوئی ایسا جو مجھے میرا وہی کوئٹہ واپس دلا سکے ؟

          ہےکوئی جو میری مدد کرے ؟ ھل من ناصر ینصرنا ؟

Share This:

12 comments

  • پاکستانی پرنٹ و الیکڑانک میڈیا پر ایرانی لابی کی مضبوط گرفت اور شیعہ اینکروں و صحافیوں کے منافقانہ تجزیوں جس میں تمام خرابی کا قصور وار سعودی عرب اور زمانے کا ہیرو ایران کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے میرا ذاتی خیال یہی تھا کہ آفرین ہے ایرانی ملاووں پر کہ تمام پاکستانی شیعوں کو ایسا برین واش کیا ہے کہ ان کی تعلیم بھی ان کے کام نہیں آتی
    پہلی بار کسی شیعہ کی زبانی ایک غیر جانب دار تحریر پڑھ کر انتہائی حیرت ہوئی
    کچھ ذاتی جان پہچان والے شیعوں کو بھی یہ کہتے سنا کہ ایران ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے اپنے سیاسی عظائم کے لئے غیر ایرانی شیعوں کو قربانی کا بکرا بنایا ہوا ہے لیکن یہ باتیں کرنے والوں کو بھی جب کبھی کبھار ایرانی پروپیگینڈا کو پروان چڑھاتے دیکھا تو دوسرا خیال یہی تھا کہ شیعہ نجی محفلوں میں کچھ اور خیالات رکھتے ہیں اجتماعی طور پر ایران کی سیاسی سوچ اور عظائم کو بھرپور کندھا فراہم کرتے ہیں
    اخر میں پھر کہوں گا کہ پاکستان کو اپ جیسے شیعوں کی ضرورت ہے اپ کی تحریر پڑھ کر خوشی ہوئی

  • Hassan raza sahab da manay azi blog shum role e hakumat full gum shudad… teka nafrata zeyad shud Kalashnikov amad bomb para shud marduma zibah shud wajah azi che bud aya e kar hakumat nabud ki jan e mardum ra save kana , awam ra da r saari dunya kula ela kana na insaafiya musha mgr yak mulk khu eta namechala bs ou idhara kuja bud ki duty she musha e kara nashana …. E yak pre plan mansuba bud ki shumom khabr daran or r aazra am che falto era dga rukh midi ..
  • Ghulam Raza sahab ki khubsurat tehreer parh k yahi yaqin hota hai k Shia Pakistanio aur Hazara k sath jo ho raha hai woh sab theek hai. Ab Raza sahab ki iss koshish ko kon rad kar sakta hai jis mein ab Hazara logon ko Toheen-e sahaba ka murtakib tehraya ja raha hai. Yani jo ASWJ walay Shion k sath kar raye hain haq ba janib hain?
    • مرتضیٰ صاحب، تبصرہ کرنے کا شکریہ ۔
      یہ تحریر دراصل ہزارہ قوم کا مقدمہ ہے جس میں میں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج ہم فرقہ واریت کی جس آگ میں جل رہے ہیں وہ ایران اور سعودی عرب کی لگائی ہوئی ہے جس پر ایران سے پڑھ کر آنے والے ملّاؤں اور پنجاب اور سندھ کے پیشہ ور ذاکرین نے کماحقہ تیل ڈالا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنی ہوں گی ورنہ ہم انہیں کبھی نہیں سدھار سکیں گے۔

  • Aap ki yeh mazmon bohat he sachii aur karwi. Aap haqeqat se dokay ka parda ota liya hain. Lakin yahi hain. Ham aap kay bohat mashkor hain ki aap ne hamay hamari saaf suthre kafdar kapro ke nichay badbudar banyan ka ehsas dilaya. Kash hamari new generation inke khatanak chaal me na ajaye.
  • bsyar khub bud lalai khuda shimo ra negah kana hassan reza changezi ..
  • Agar koi sochay tu… magar yehan tu kisi k paas sochnay ka time he nahe…
  • Iftikhar Ali Changazi
    Dear Hasan Riza Changezi.. bisyar khub gaba likaee kadain, magar yak chiz ra shomo bilkul tuch na kadain, ki agar az tarafee azmo (yani shia) da majlissaaa yak chanda dana baywaqoofa ghalt nara zadan ya ki bayhormati kahbar sahaba ra kada bud, khu chara da hamzoo zaman ki shomoo jawan budin chara rook tham shi na kadin, da azi karaa qasoorwar shomo tamam astain, aur hagar chand sharpasand az diga elaaqa amda da shakalee shia mabainee mardoom nafrataa ra shiroo kad khu az diga taraf mmm da pora quetta mukhtalif madrasaa open shud, aur da azoo madrasaa kolay haan shia (khasusan) hazara ra kafar gufta mardoom ra az yak diga doouur kad.. shomo khali ghalti yak taraf raa nishan dahee shi kadain (well done) agar shomo diga taraf ram nishan dahee shi kanin baz ee maqala (script0 e shomo waqeehan laheiq e tahseen musha.. thanx n hope that u will not mind what ever i said…
    • Iftikhar Ali Changazi آپکے خوبصورت تبصرے کا شکریہ ۔ میں نے اپنے مضمون میں اس پات کا تذکرہ کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بڑے غیر محسوس طریقے سے سارا نظارہ بدلنے لگا ۔ جنرل ضیاء کی پالیسیوں اور ایرانی انقلاب کے نتیجے میں مساجد اور امام بارگاہوں میں لاوڈ اسپیکر کی آوازیں زیادہ بلند ہونے لگیں ۔ داڑھیوں کے سائز میں اضافہ ہونے کے ساتھ دلوں میں کدورتیں بھی بڑھتی گئیں اور زبانیں محبت کا پرچار کرنے کے بجائے ذہر اگلنے لگیں ۔ ہمیں بھی پہلی بار اس بات کا احساس دلایا گیا کہ ہم شیعہ ہیں اور حق پر ہیں جبکہ ہمارے سنّی دوستوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ جنت صرف ان کے لئے بنا ئی گئی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت گزرتا گیا اور ساتھ ہی سنّی امیرالمومنین ضیاءالحق اور شیعہ امام خمینی کے ایرانی انقلاب کی بدولت خطے میں مذہبی جنون بھی بڑھتا گیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محبت کی جگہ نفرت نے لے لی ، دلائل کے بجائے پستول ، کلاشنکوف اور بموں کے زریعے بات کرنے کا سلسلہ چل پڑا ، گھروں کی دیواریں اونچی ہونے لگیں ، اپنی حقانیت ثابت کرنے کی خاطرسعودی عرب اور ایران سے طاقتور لاوڈ اسپیکر منگوانے کی ریت چل پڑی ۔ فتووں کا بازار گرم ہوا، معصوم لوگوں کو ذبح کرنے کی رسم چل پڑی اور میرے سنی ہمسایوں نے محرم کے دنوں میں نذرو نیاز کا سلسلہ بند کر دیا ۔ ساتھ ہی ٹکی راوڑی خیر اس کی آوازیں بھی آنا بند ہو گئیں ۔ ماحول پر آسیب کا سایہ پڑ گیا ۔ حاجی رفیق اپنا چکوال گرم حمام بند کر کے پنجاب چلا گیا ۔ ہمارے اسکول کے کلین شیواستاد ماسٹر عزیز نے اپنی ساری توجہ داڑھی بڑھانے پر مرکوز کردی اور میرے بچپن کے سنّی دوست مجھ سے دور ہوتے گئے پھر تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک بھر سے قتل و غارت کی خبریں آنے لگیں ۔ لوگ امن کی تلاش میں ملک سے بھاگنے لگے ۔ سینکڑوں لوگ برف زاروں اور سمندروں کی نظر ہونے لگے ، بم دھماکے ہونے لگے ، ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی ، بچے اور عورتیں خون میں نہلانے لگیں اور مائیں اپنے بچوں کو گھر سے رخصت کرتے وقت ان پر دعائیں پڑھ کر پھونکنے لگیں تاکہ وہ خیریت سے گھر واپس آسکے ۔ لیکن امن ایسا روٹھا کہ اس نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ۔
      اس مضمون کے زریعے دراصل میں نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کی ہے تاکہ صاف ستھرے کلف دار کپڑوں کے نیچے پہنے اپنے بدبودار بنیان کی موجودگی کا احساس کرسکوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں پر تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن ہمیں اپنی غلطیاں بھی تسلیم کرنی ہوںگیں تاکہ انہیں سدھارنے کی فکر کر سکیں ۔
  • Very nice the voice which talks from the inner side of every body but could not express
  • This is reality .we want to live as humen and we want our old Quetta a peaceful Quetta ,a beautiful quetta
  • Sorry we cannot get back that again.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں