ایرانی انقلاب میں امریکہ کا کردار

بساط شطرنج۔ ایرانی انقلاب میں امریکہ کا کردار

مرحوم قیس (نیاز علی یوسفی) کے ساتھ میری لکھی کتاب “بساط شطرنج” مئی 2001 میں چھپ کر بازار میں آگئی تھی۔ یہ کتاب جو بنیادی طور پر سیاسی تجزیوں پر مبنی تھی ہماری دوسال کی محنت اور تحقیق کا نتیجہ تھی۔ اس کتاب کو جہاں بڑی پزیرائی ملی وہاں کچھ حلقوں میں اس کی بڑی مخالفت بھی ہوئی۔ کتاب کی پزیرائی کا یہ عالم تھا کہ اس کی تقریباَ نو سو کاپیاں کچھ ہفتوں کے اندر ہی بک گئیں ۔ ان میں وہ درجنوں کاپیاں بھی شامل تھیں جنہیں ایرانی کونسلیٹ نے بڑی عجلت میں بازار سے اٹھوالیا۔
اس کتاب کے شروع کے صفحات میں ہم نے ایران کے ” اسلامی انقلاب ” کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مذکورہ انقلاب کی کامیابی کے پیچھے امریکہ کا ہی ہاتھ تھا جو شاہ ایران کی صنعتی اور زرعی اصلاحات کی پالیسی سے ناخوش تھا۔ دوسری طرف چونکہ عوام میں بھی شاہ سے بیزاری اپنےعروج پر پہنچ چکی تھی اس لئے امریکہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچلا تھا کہ ایران بھی افغانستان کی طرح سامراج (امریکہ) مخالف انقلاب کے موڑ پہ کھڑا ہے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے احزاب ؛ تودہ اور مجاہدین خلق جو اس انقلاب کے ہراول دستوں میں سے تھے ملک میں امریکہ کے بڑھتے اثرو نفوذ کے پہلے ہی سخت مخالف تھے جن سے جُڑے لاکھوں لوگ روز سڑکوں پر نکل کر شاہ کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ حکومت پرشاہ ایران کی گرفت روز بروز کمزور پڑ رہی تھی اور ان کے ملک سے فرار ہونے کے آثار واضح ہو چکے تھے لہٰذا اس سے قبل کہ بائیں بازو کا یہ انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوتا امریکہ نے آیت اللہ خمینی کو جو ایک عرصے سے فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے تھے ایک خصوصی طیارے کے زریعے تہران پہنچایا جس نے آتے ہی اسلامی انقلاب کا نعرہ بلند کردیا۔ صفحہ 27

حکومت پر اپنی گرفت مظبوط کرنے کے بعد ان “انقلابیوں” نے امریکی احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے ایک ایک کرکے بائیں بازو کے ان تمام رہنماؤں کو ختم کردیا جو مستقبل میں ان کے راستے کی رکاؤٹ بن سکتے تھے۔ یہی نہیں بعد میں ایرانی ملاؤں نے ضیاءالحق اور عرب حکمرانوں کے ساتھ مل کر امریکہ کے سب سے بڑے مخالف سوویت یونین کے خلاف جس ” جہاد ” کا بیج بویا وہ دراصل امریکی احسانات کا ہی بدلہ تھا جس کی فصل ہم آج تک کاٹنے پر مجبور ہیں۔

کتاب کے مخالفین کا ایک اعتراض یہی تھا (اور اب بھی ہے) کہ اس کتاب میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی میں امریکی کردارکا ذکر کرکے نہ صرف حقائق سے چشم پوشی کی گئی ہے بلکہ خطے بالخصوص افغانسان اور پاکستان کے معاملات میں ایران کے کردار پر بحث کرتے وقت افراط سے کام لیا گیا ہے ۔
بساط شطرنج کو شائع ہوئے چودہ سال ہونے کو ہے لیکن ابھی حال ہی میں کچھ ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جو ہمارے اس تجزئے کو حرف بہ حرف صحیح ثابت کرتی ہیں ۔ اس تصویری دستاویز کو زرا غور سے دیکھئے اور سنئے۔ آپ جان جائیں گے کہ 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کے منصوبہ ساز کوئی اور نہیں بلکہ امریکی صدرجمی کارٹر اور دیگر امریکی کرتا دھرتا تھے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس حقیقت کا اعتراف کوئی اور نہیں بلکہ خود آیت اللہ منتظری کر رہے ہیں جن کا شمار انقلاب کے صف اول کے راہنماؤں اور خمینی کے انتہائی قریبی رفقاء میں ہوتا تھا۔
اس تصویری دستاویز میں آپ جمی کارٹر کے بعد آنے والے امریکی صدررونالڈ ریگن کا وہ بیان بھی سنیں گے جس میں انہوں نے اپنے پیش رو پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی انقلاب کی کامیابی میں امریکی کردار پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا۔ اس دستاویز میں ان کروڑوں امریکی ڈالرز کا بھی ذکر ہے جو امریکی حکام فرانس میں جلاوطن آیت اللہ خمینی کی خدمت میں بھیجتے رہے۔
مجھے امید ہے کہ اس دستاویز کو دیکھنے کے بعد “بساط شطرنج” کے ناقدین اپنے رویّے پر ضرور نظر ثانی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.