یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج

یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج

پہلی قسط

ہمارے ہاں ایک چلن عام ہے کہ ہم پر کوئی بھی مصیبت آئے، ہم فوراَ چیخنے لگتے ہیں کہ اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے۔ حتیٰ کہ اگر کہیں سیلاب آ جائے یا گرمی کی شدت میں اچانک اضافہ ہو تو ہم فوراَ بیرونی سازش کی دہائی دینے لگ جاتے ہیں۔ “یہ سب یہودیوں کی سازش ہے” ہمارے ہاں اکثر لوگوں کا پسندیدہ تکیہ کلام ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ عالم اسلام بالخصوص پاکستان کی تمام تر مشکلات کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے جو ہمیں پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنا مبالغہ، یہ جاننے کے لئے پہلے ہمیں سازشی تھیوری کو سمجھنا ہو گا جس کے مطابق “دنیا بھر میں جتنے بھی اہم واقعات رونما ہوتے ہیں وہ اتفاقی نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے کچھ پراسرار اور مخفی قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے”۔ اگرچہ سازشی تھیوری کی یہ ایک جامع تعریف ہرگز نہیں لیکن اس آسان سی تعریف سے اس تھیوری یا سوچ کو سمجھنے میں مدد ضرور مل سکتی ہے جس کی جڑیں سات سو سال قبل کی تاریخ میں پیوست ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس سازشی تھیوری کی بنیاد بارہویں صدی عیسوی میں پڑی۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی صلیبی جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور یروشلم میں واقع مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے یورپی مسیحی زائرین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔  یہ راستہ چونکہ کافی لمبا اور دشوار گزار تھا اس لئے زائرین کو راستے میں عموماً لٹیروں اور ڈاکوؤں کے حملے کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔  جسے دیکھتے ہوئے پوپ کی رضامندی سے ماہر جنگجوؤں پر مشتمل ایک ایسا مسلح گروہ تشکیل دیا گیا جس کا کام سفر کے دوران زائرین کے ان قافلوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس گروہ کو تاریخ میں “نائٹس ٹیمپلر” کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ نائٹس ٹیمپلرز چونکہ مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے جانے والوں کے تحفظ کا  کام انجام دیتے تھے اس لئے مسیحیت کے پیروکار انہیں بہت عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔  چنانچہ عقیدت کے اظہار کے لئے وہ انہیں مال و زر کے علاوہ اپنی زرعی زمینیں بھی بطور عطیات دیا کرتے تھے۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ اس گروہ کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا اور عددی لحاظ سے طاقتور ہونے کے علاوہ وہ  بے شمار مال و دولت، جائیدادوں، بحری جہازوں حتیٰ کہ بینکوں (بیت المال) اور ہنڈی کے کاروبار کے بھی مالک بن گئے۔

طاقت اور دولت میں روز افزوں اضافے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نائٹس ٹیمپلرز حکمرانوں اور پوپ کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگے کیونکہ اب وہ حکومت اور چرچ کے معاملات میں بھی مداخلت کرنے لگے تھے۔ نائٹس ٹیمپلر کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ایک مرحلے پر انہوں نے پوپ کی تعلیمات کو بھی جھٹلانا شروع کر دیا تھا اور ایک نئے دین کی تبلیغ کرنے لگے تھے۔ ان پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کو پیغمبر ماننے سے انکاری تھے، اس کے برعکس وہ حضرت یحیٰ کو اپنا پیغمبر اور پیشوا مانتے تھے اور انہیں کی تعلیمات کا پرچار کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ خفیہ مقامات پر جلسے کرتے جہاں نئے دین کی تبلیغ کی جاتی۔ یہ سلسلہ نسل در نسل دو صدیوں تک چلتا رہا۔ بالآخر 1307 عیسوی میں فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم نے (جو نائٹس ٹیمپلر کے بڑھتے اثر و رسوخ سے کافی خوفزدہ تھا) اس “فتنے” سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور فوج کشی کر کے نائٹس ٹیمپلرز کی ایک بڑی تعداد کو قتل کرنے کے بعد ان کے تمام اثاثوں پر قبضہ کرلیا۔ تاریخی میں درج روایات کے مطابق گروہ کے بعض افراد اس معرکے سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے بھاگ کر خفیہ مقامات پر روپوشی اختیار کرلی۔ اگرچہ بعض مسیحی حلقوں کا خیال ہے کہ نائٹس ٹیمپلرز دراصل حضرت عیسیٰ سے منسوب جام مقدس کے رکھوالے تھے اس لئے وہ ان پر لگائے گئے الزامات کو درست تسلیم نہیں کرتے اور ان کے لیے احترام کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ایک انتہائی خطرناک، خفیہ اور پراسرار تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اس تھیوری پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بادشاہ فلپ کے حملے میں بچ جانے والے اگرچہ زیر زمین چلے گئے لیکن انہوں نے اپنی سرگرمیاں ترک نہیں کیں اور چرچ کی تعلیمات کے خلاف اپنی تبلیغات جاری رکھیں۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے پہلے پہل سائنس کو اپنا ہتھیار بنایا اور مذہبی عقائد کے مقابلے میں سائنسی دلیلیں پیش کرنے لگے۔ اس سلسلے میں کاپر نیکس اور گلیلیو کی مثالیں دی جاتی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی خفیہ تنظیم سے تعلق رکھتے تھے جس کا کام لوگوں کے اذہان میں مذہب سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنا تھا۔ یاد رہے کہ کاپر نیکس اور گلیلیو وہ اشخاص تھے جنہوں نے پہلی بار اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ دعویٰ چونکہ چرچ کی تعلیمات سے یکسر متصادم تھا اور اس نظریے سے سورج کی پرستش کرنے والوں کو مسیحیت پر اخلاقی برتری مل سکتی تھی اس لیے گلیلیو کو دو مرتبہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی بار تو وہ اپنے دعوے کی تکذیب کر کے سزا سے بچ گیا لیکن دوسری بار معافی مانگنے کے باوجود اسے عمر بھر کے لئے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والے اس بات کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مشہور فن کار اور تخلیق کار لیونارڈو ڈائیونچی اور  مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن بھی اسی خفیہ تنظیم سے وابستہ تھے جسے ایلومیناٹی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے روشنی پھیلانے والا یا روشن دماغ والا۔ سازشی نظریہ دانوں کا خیال ہے کہ پراسرار خفیہ سوسائٹی ایلومیناٹی مختلف ناموں کے تحت صدیوں سے قائم ہے اور آج اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی قسم کا واقعہ برپا کرا سکتی ہے۔ ایلومیناٹی کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس پراسرار تنظیم کی باقاعدہ بنیاد یکم  مئی 1776 میں بویریا ـ(Bavaria) میں رکھی گئی اور اس کے بانی کا نام ایڈم وایزہاپٹ تھا جو یہودیت ترک کر کے مسیحیت اختیار کر چکا تھا۔ سازشی نظریہ دانوں کے مطابق دونوں عالمی جنگیں ایلومیناٹی کی منصوبہ بندیوں کے  نتیجے میں وقوع پزیر ہوئیں۔ ان کے خیال میں  پہلی جنگ عظیم کو برپا کرنے کا مقصد روسی زار حکومت کو کمزور کر کے اس کے سقوط کی راہ ہموار کرنا اور دوسری جنگ عظیم کا مقصد جرمنی کی طاقت پر کاری ضرب لگانا تھا۔ اسی طرح انقلاب فرانس اور روسی بالشویک انقلاب کی منصوبہ بندی اور کامیابی کا سہرا بھی ایلومیناٹی کے سر باندھا جاتا ہے جن کا مقصد دنیا کی دو طاقتور بادشاہتوں کا خاتمہ تھا۔  کارل مارکس کے بارے میں سازشی نظریہ دانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہودی پیشواؤں  کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس نے اینگلز کے ساتھ مل کر ایلومیناٹی کی زیر نگرانی  کمیونسٹ مینی فسٹو تحریر کی۔  روسی کمیونسٹ انقلاب کے بارے میں تو یہاں تک دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام تر پلاننگ ایلومیناٹی نے کی اور لیون ٹراٹسکی جو ان دنوں امریکی شہر نیویارک میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے کے ذریعے لینن کو سونے کی شکل میں دو کروڑ ڈالر کا کثیر سرمایہ بھی فراہم کیا گیا جس کا بندوبست ایلومیناٹی سے منسلک ایک امریکی بینکار جیکب شف Jacob Schiff نے کی۔ سازشی تھیوری پر یقین رکھنے  والے کمیونزم کے علاوہ ایتھیزم اور لبرل ازم کو بھی اسی خفیہ تنظیم کے اعلیٰ دماغوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد انسانوں کو مخلف گروہوں میں تقسیم کر کے اور انہیں آپس میں لڑا کر دنیا میں افراتفری پھیلانا اور لوگوں کو مذہب سے دور کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سازشی نظریے کے بعض پیروکار جدید تعلیم، سائنسی تحقیقات اور نت نئی سائنسی ایجادات کو بھی اسی خفیہ سوسائٹی کی سازشوں کی کڑی سمجھتے ہیں۔

دوسری قسط

سازشی تھیوری اور پراسرار تنظیموں کے ضمن میں ایک اور تنظیم کا بھی نام بکثرت لیا جاتا ہے جسے فری میسن کہتے ہیں۔ فری میسن کے بارے میں ایک عام تصور یہ ہے کہ یہ دراصل ایلومیناٹی کا ہی دوسرا نام ہے جب کہ بعض لوگوں کے خیال میں ایک ہی نوعیت کے تصورات رکھنے کے باوجود یہ دو مختلف تنظیمیں ہیں۔ فری میسن کی تاریخ سے متعلق مختلف آراء وجود رکھتی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فری میسن کی تشکیل1717 میں لندن میں ہوئی جبکہ بعض روایات کے مطابق اس کی بنیاد امریکہ کی جنگ آزادی Revolutionary War 1775-1783))  کے دوران رکھی گئی۔ یہ وہی وقت تھا جب بویریہ (جو اب جرمنی کا حصہ ہے) میں ایلومیناٹی کی تشکیل ہو رہی تھی۔ فری میسن کی تاریخ سے متعلق متضاد آراء ہونے کے باوجود اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ ایلومیناٹی کی طرح اس تنظیم کا سلسلہ بھی نائٹس ٹیمپلر سے ہی جا ملتا ہے جس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ ایلومیناٹی اور فری میسن ایک ہی پراسرار تنظیم کے مختلف نام ہو سکتے ہیں۔ فری میسن دراصل فرانسیسی الفاظ Frere Mason کا ماخذ ہے جس کا مطلب ہے راج برادری یا راج بھائی چارہ۔  کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی جنگ آزادی سے قبل وہاں تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے فرانسیسی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی ۔ ان کا آپس میں بہت منظم رابطہ تھا اور وہ وقت آنے پر ایک دوسرے کی کھل کر مدد کرتے تھے۔ ان کا ایک خفیہ نیٹ ورک بھی تھا جو  بہت وسیع، منظم اور دور دراز علاقوں تک پھیلا ہوا تھا جس کی بدولت انہوں نے وہاں کے سیاسی اور معاشی معاملات میں ایک اہم مقام حاصل کرلیا تھا۔ ان کے اثرو نفوذ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ علاقے کے بینکوں سے قرضہ لینے یا کسی قسم کی نوکری کے حصول کے لئے فری میسن کے کسی رکن کی ضمانت لازمی ہوتی تھی۔ وہ اپنے خفیہ اجلاس زیر تعمیر عمارتوں میں منعقد کرتے جنہیں میسن لاج کہا جاتا تھا۔ میسن لاج کی یہ اصطلاح ان کے ابتدائی تنظیمی ڈھانچے کے لئے بھی استعمال ہوتی تھی۔ سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والوں کے مطابق امریکہ کی جنگ آزادی کے دروان فری میسن اتنے طاقتور ہو چکے تھے کہ کئی مالیاتی اداروں اور بینکوں پر ان کا قبضہ ہو چکا تھا اور وہ وہاں کے نظام سیاست میں اتنی سرایت کر چکے تھے کہ امریکہ کے اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے ستاون رہنماؤں میں سے پچاس کا تعلق فری میسن سے تھا۔ جن میں جیمز فرینکلن، جان ہینکاک اور جارج واشنگٹن جیسے بڑے نام بھی شامل تھے۔

ایلومیناٹی اور فری میسن دو مختلف تنظیموں کے نام ہوں یا ایک ہی تنظیم کے دو مختلف نام، سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ ان تنظیموں کا ایک ہی ایجنڈا ہے یعنی تمام انسانوں کو ٖغلام بنانے کے بعد “دنیائے واحد پر فرد واحد کی حکمرانی”۔

سازشی تھیوری کے موجد اور پرچارک زیادہ تر مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جن میں مذہبی رہنما،  صحافی، دانشور، کتابوں کے مصنفین اور شو بز  سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد شامل ہیں۔ مذہبی پیشواؤں اور سکالرز کی اکثریت کا تعلق مسیحی عقیدے سے ہے جن میں شامل بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایلومیناٹی در حقیقت شیطان کے پجاری ہیں اور وہ تمام مذاہب کا خاتمہ کر کے دنیا پر اپنا شیطانی نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کے ثبوت کے طور پر تکون (Pyramid)  کے اوپر بنی اس “شیطانی” آنکھ کی مثال دی جاتی ہے جسے ایلومیناٹی کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مذہبی افراد کی ایک بڑی تعداد ان افراد پر مشتمل ہے جنہیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ ایلو میناٹی یا اس جیسی دیگر خفیہ سوسائٹیز کے پیچھے یہودیوں کا دماغ کارفرما ہے جو دنیا سے تمام حکومتوں اور صیہونیت کے علاوہ تمام مذاہب (بالخصوص مسیحیت) کا خاتمہ کر کے دنیا پر فرد واحد کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے اس خدشے کو درست ثابت کرنے کے لیے ان مسیحی دانشوروں کے پاس بے شمار دلائل ہیں۔ مثلاً وہ یہودیوں کی مقدس کتاب “تالمود”  کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ یہودی دیگر مذاہب خصوصاً مسیحیت کے ماننے والوں کو اتنا حقیر جانتے ہیں کہ انہیں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر کبھی انہیں زندہ رہنے کے لئے کسی انسانی جگر کی ضرورت پڑے تو وہ کسی غیر یہودی کو قتل کر کے اس کا جگر حاصل کر سکتے ہیں۔ تالمود کے مطابق  یہودیوں کی تخلیق اسی لئے کی گئی ہے کہ وہ زمین پر حکمرانی کریں جبکہ غیر یہودی ناقص اور شیطانی خصلتوں کے حامل ہوتے ہیں جنہیں صرف اس لئے خلق کیا گیا ہے کہ وہ  آل یہود کی خدمت کریں۔ اسی طرح مسیحیوں کو اس بات کا بھی رنج ہے کہ تالمود میں حضرت عیسیٰ کی نہ صرف جگہ جگہ توہین کی گئی ہے بلکہ حضرت مریم کی شان میں بھی گستاخانہ کلمات کہے گئے ہیں۔ مسیحی دانشوروں کو اس بات کا یقین ہے کہ ایلومیناٹی تالمود کی تعلیمات کے مطابق دنیا پر یہودیت کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا مطلب مسیحیت کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان مذہبی دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایلومیناٹی سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں مسیحی مذہبی اداروں میں گھس گئے ہیں۔ یہ افراد حضرت عیسیٰ کی تعلیمات کی غلط تشریح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں مذہب کا غلط تصور بٹھایا جائے۔

ایلومیناٹی کی سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والا دوسرا طبقہ غیر مذہبی افراد کا ہے جس میں بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنفین، ٹیلی ویژن اور فلم کے اداکار، صحافی، دانشور اور محققین شامل ہیں۔ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ اعلیٰ یہودی دماغوں کے زیر نگرانی  چلنے والی یہ خفیہ سوسائٹی دنیا پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جسے ون ورلڈ آرڈر کہا جاتا ہے۔ تکون کے اوپر بنی آنکھ کی شبیہ سے متعلق ان کا ماننا ہے کہ اس سے مراد دنیا پر اعلیٰ ترین دماغوں کی حکمرانی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ دنیا بھر میں جتنی بھی بڑی تحریکیں اٹھی ہیں ان کے پیچھے ایلومیناٹی کا ہاتھ رہا ہے جس کا مقصد انسانوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنا ہے تاکہ وہ آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو قتل کرتے رہیں۔ ان کے خیال میں جنگ برائے امن کا نعرہ بھی دراصل اسی پراسرار سوسائٹی کی ایجاد ہے جس کے پیچھے یہ بنیادی سوچ کارفرما ہے کہ جہاں جتنی شدید جنگ ہو گی وہاں لوگ امن کے لئے اتنا ہی زیادہ ترسیں گے۔ اسی لئے دنیا بھر میں خونریز جنگیں برپا کی جاتی ہیں تاکہ لوگ امن کی بھیک مانگنے لگیں۔ جنگ زدہ ملکوں سے بھاگ نکلنے والوں کے لئے پرامن اور ترقی یافتہ ملکوں کے دروازے کھول دینے کا ایک مقصد بھی یہی ہے کہ مختلف ثقافتوں کے ملاپ سے ان کے درمیان موجود خلیج کو کم کیا جائے جو جہان واحد کی تشکیل کے لئے بے حد لازمی ہے۔ اقوام متحدہ کی تشکیل کو ایلومیناٹی کے ون ورلڈ ایجنڈے کا ہی حصہ سمجھا جاتا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان  تشکیل پانے والی علاقائی تنظیموں کے بارے میں بھی یہی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی باور کیا جاتا ہے کہ امریکی اور برطانوی پارلیمنٹ میں مضبوط ترین لابیوں کا تعلق ایلومیناٹی سے ہے جو مخصوص ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے سر گرم عمل رہتے ہیں۔ سازشی نظریہ دانوں کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے تمام بڑے واقعات، حکومتوں کی اکھاڑ بچھاڑ حتیٰ کہ مشہور شخصیات کے قتل کے پیچھے بھی ایلومیناٹی کا ہاتھ ہوتا ہے۔  امریکہ سمیت دنیا بھر کے اکثر مالیاتی اداروں، بڑی سرمایہ دار کمپنیوں، بینکوں حتیٰ کہ امریکی فیڈرل ریزرو بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اداروں پر بھی ایلومیناٹی کا تسلط قائم ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کی اکثر بڑی فاماسیوٹیکل کمپنیاں، بڑے تحقیقی و صنعتی ادارے اور ہیوی ٹیکنالوجیکل انڈسٹریز ایلومیناٹی سے منسلک  یہودیوں کے سرمائے سے چلتے ہیں۔ دنیا کے اکثر بڑے میڈیا گروپس، اخبارات، ٹی وی، ریڈیو، فلم انڈسٹری اور سوشل میڈیا بھی ایلومیناٹی سے وابستہ یہودیوں کے مکمل کنٹرول میں ہیں جن کے ذریعے غیر محسوس طریقوں سے دنیا بھر کے لوگوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور ان کی رائے تبدیل کر کے ان کے دماغوں میں اپنا ایجنڈا ٹھونسا جاتا ہے۔ سکالر شپس کے نام پر دنیا بھر کے باصلاحیت اور روشن دماغ طالب علموں اور سکالرز کو امریکہ اور یورپ کی بہترین یونیورسٹیوں میں اس لئے داخلہ دیا جاتا ہے تاکہ ان کی ذہنی تربیت کر کے انہیں مستقبل کے ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے تیار کیا جائے۔ نت نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ انسان کو مشینوں کا مکمل محتاج بنا کر انہیں آزادانہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے۔

امریکی صدر روزویلٹ نے کہا تھا کہ “سیاست میں کوئی بھی واقعہ اتفاقی رونما نہیں ہوتا، اگر کوئی واقعہ رونما ہو جائے  تو جان لیں کہ اس کے لئے ایسی ہی منصوبہ بندی کی گئی تھی”۔ یاد رہے کہ یہ وہی فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ ہے جن کے بارے تصور کیا جاتا ہے کہ وہ ایلومیناٹی کے ایک اہم رکن تھے۔

تیسری قسط

سازشی تھیوری سے متعلق ہمارے ہاں بھی مختلف قسم کے تصورات پائے جاتے ہیں۔  بنیادی تصور تو وہی ہے جو مغربی دانشوروں کا قائم کردہ ہے۔ ہمارا کمال بس اتنا ہے کہ ہم نے اس تصور سے مسیحیت کا لفظ نکال کر اس کے بدلے اسلام  اور پاکستان کے الفاظ اور کچھ دیگر مقامی تصورات کا اضافہ کر دیا ہے۔ جسے ہم اس بین الاقوامی سازشی تھیوری کا ایک لوکل ورژن کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ  چونکہ  دنیا میں اسلام  بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اس لئے یہودی دنیا بھر میں سازشیں کر رہے ہیں تاکہ اسلام کو پھلنے پھولنے سے روک سکیں۔  ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ چونکہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور پاکستانی فوج دینا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے۔ اس لئے ہمارے تمام دشمن خصوصاً یہود و ہنود ہم سے خائف ہیں اور  مل کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں  تاکہ ہمیں  کمزور کر کے پاکستان کے ٹکڑے کرسکیں۔

ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ یہودی بل گیٹس ہمارے بچوں کو پولیو کے قطرے اس لئے پلا رہا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو نامرد بنا کر ہماری آبادی کم کر سکے۔ ہمارا خیال ہے کہ کینسر کوئی مرض نہیں بلکہ یہ وٹامن ڈی کی کمی کا نام ہے اور روزانہ خوبانی  کے پندرہ یا بیس بیج کھا کر اس کا سستا اور فوری علاج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات  یہودی کمپنیاں ہمیں  اس لئے نہیں بتاتیں کہ کینسر کے نام پر ادویات بیچ کر وہ ہم سے سالانہ اربوں ڈالر بٹورتی  ہیں۔  ہم سمجھتے ہیں کہ صدام حسین اور کرنل قذافی اب بھی زندہ ہیں اور ایک امریکی جزیرے پر  پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ ایبٹ آباد  پر حملہ ایک ڈراما تھا جس کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا تھا جبکہ اسامہ بن لادن اس واقعے سے کئی برس قبل وفات پا چکے تھے۔ اسٹیفن ہاکنگ کے ملحدانہ نظریات کا مقصد  سائنس کے نام پر دنیا میں الحاد کا پھیلاؤ تھا۔ دوسرے سیاروں پر ایلینز کی موجودگی کا شوشہ صرف اس لئے چھوڑا گیا ہے تاکہ اسلام کی تعلیمات کو جھٹلایا جاسکے۔ اڑن طشتریاں دراصل جدید امریکی جہاز ہیں جو مسلمانوں کے خلاف بمباری میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر اذان کی آواز سنی تھی۔  مائیکل جیکسن مسلمان ہونے والے تھے اس لئے انہیں پراسرار طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ سونامی  کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ امریکہ ایک خفیہ ٹیکنالوجی کی مدد سے جہاں چاہے سونامی پیدا کر دیتا ہے۔ ایلومیناٹی دراصل دجال کے پیروکاروں کی تنظیم ہے جس کا مقصد اسلام کا خاتمہ کر کے زمین پر دجالی نظام قائم کرنا ہے اور پیرامڈ کے اوپر بنی آنکھ دجال کی اکلوتی آنکھ کی شبیہ ہے۔

یہ تو تھے وہ تصورات جو سازشی تھیوری سے متعلق بین الاقوامی اور مقامی سطح پر  وجود رکھتے ہیں۔ اب آتے ہیں اس اہم ترین سوال کی طرف کہ ان سازشی نظریات میں کس حد تک حقیقت ہے اور کتنا مبالغہ؟  میرے خیال میں جتنی پراسراریت سازشی تھیوری اور ایلومیناٹی یا فری میسن سے متعلق داستانوں میں ہے اتنی ہی مشکل اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں بھی ہے۔ اس کے باوجود نہ تو اس تھیوری سے مکمل انکار کیا جا سکتا ہے نہ ہی اس پر آنکھ بند کر کے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم تھوڑا سا ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو ہمیں کئی ایسے واقعات نظر آئیں گے جن کا اگر گہری نظر سے جائزہ لیں تو شاید ہم اس تھیوری کے بارے میں بہتر اندازے لگا سکیں۔  یہ وہ بڑے واقعات ہیں جو ہماری معلوم تاریخ کا حصہ ہیں لیکن ایک عرصہ گزرنے کے باوجود نہ صرف آج بھی اسرار کے پردوں میں محفوظ ہیں بلکہ  ان میں کئی واقعات تو ایسے بھی ہیں جو ہماری نظروں کے سامنے وقوع پزیر ہوئے ہیں ۔ مثلاً اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھرے مجمعے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ لیکن آج تک یہ واقعہ اسرار کے  پردوں میں لپٹا ہوا ہے اور کسی نے اس قتل کے محرکات جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اسی طرح جنرل ضیاء الحق  کے طیارے کا حادثہ جس میں ان کے علاوہ کئی اعلیٰ فوجی عہدیداروں اور امریکی سفیر  آرنلڈ رافیل ہلاک ہوگئے تھے، تیس سال گزرنے کے باوجود آج بھی پراسراریت کی گرد تلے دبا ہوا ہے۔ حتٰی کہ ضیاء کو اپنا روحانی باپ کہنے والے اور ضیاء کی انگلی پکڑ کر سیاست کی پرخار وادی میں اترنے والے نواز شریف کو بھی کبھی اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرتے۔ بے نظیر بھٹو کو مجمع عام میں قتل کرنے کا واقعہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے حکومت میں آنے اور آصف زدراری کے صدر بننے کے باوجود اس پراسرار قتل کی گتھی نہیں سلجھائی جاسکی۔

1970 کی دہائی کے آخری اٹھارہ  مہینوں کے اندر پاکستان ، ایران اور افغانستان میں بالترتیب حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا اور خطے میں خونریز جنگوں  کی بنیاد پڑی جس میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہونے والوں نے دیگر ممالک میں پناہ ڈھونڈ لی۔ ہم ایک عرصے تک اس خونریزی کو کافروں کے خلاف جہاد سمجھتے رہے کیونکہ ہمیں یہی باور کرایا گیا تھا۔ لیکن جب 25 سال بعد ہیلری کلنٹن نے بتایا کہ وہ جہاد دراصل ایک امریکی ایجنڈا تھا جس کا مقصد سوویت یونین کی پیش قدمی کو روکنا تھا تب ہم جان گئے کہ اس منصوبہ بندی کے پیچھے امریکیوں کا شاطر  دماغ کار فرما تھا۔ یہ ایک المیہ ہی ہے کہ سوویت یونین کب کا ٹوٹ چکا اور امریکی جہاد کا بھانڈا بھی کب کا پھوٹ چکا لیکن جہاد اب بھی جاری ہے اور افغانستان اور پاکستان کی سرزمین اب بھی عام لوگوں کے خون سے رنگین کی جا رہی ہے۔ اسی طرح پہلے پہل ہم جنرل ضیاء کے فوجی کودتا اور آیت اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کو بھی ایک داخلی معاملہ سمجھتے رہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ واقعات بھی امریکی سوچ اور منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ تھے تاکہ خطے میں سوویت یونین کے بڑھتے اثرورسوخ کے سامنے بند باندھا جا سکے۔ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی آٹھ سالہ ایران عراق  جنگ کی داستان بھی بہت زیادہ پرانی نہیں جس میں لاکھوں مسلمان آپس میں لڑ کر قتل ہو گئے۔ 1990 میں کویت  پر عراقی حملےکی بھی آج تک کوئی معقول وجہ سامنے نہیں آسکی جس نے امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کو خطے میں قدم جمانے کے مواقع فراہم کئے۔

2003  میں عراق پر اتحادی افواج کے حملے کو بھی محض پندرہ سال گزر چکے ہیں جس کے لئے یہ جواز  پیش کیا گیا تھا کہ صدام کے پاس وسیع تباہی والے ہتھیار ہیں۔ لیکن  2011 میں جب امریکی اور اتحادی فوجیں عراق سے نکلنے لگیں تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ ہمیں عراق میں  وسیع تباہی والے ہتھیار نہیں ملے۔ مگر تب تک عراق کا سارا منظر نامہ تبدیل ہو چکا تھا اور پندرہ لاکھ سے زیادہ عراقی اتحادی افواج  کے ہاتھوں یا آپس میں لڑ کر ہلاک ہو چکے تھے جبکہ لاکھوں لوگ مغربی ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کے لئے در بدر ہو چکے تھے۔

2011 میں یمن سے اٹھنے والی عرب بہار اور لیبیا کے صدر معمر قذافی کے قتل کے  واقعات بھی ماضی قریب کی مثالیں ہیں جبکہ شام میں جاری خانہ جنگی جس میں اب تک پندرہ لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے سروسامانی کی حالت میں مغربی ملکوں کے دروازوں پر دستک دے  رہے ہیں، ابھی ماضی کا قصہ نہیں بنی اور روز وہاں سے قتل عام کی خبریں آتی ہیں۔  پراسرار تنظیم داعش کے ظہور کو بھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جس نے نہ صرف شام میں موجود سینکڑوں سال پرانے مقدس تاریخی مقامات کے نام و نشان تک مٹا دیئے بلکہ اسلام کے نام پر قتل و غارت کی ایسی داستان رقم کی جس نے  دہشت و بربریت کے سارے  پرانے ریکارڈ  توڑ دیئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ مشہور یہودی ربی اور مبلغ مانس فرائیڈمین (Manis Friedman) نے چند سال قبل اپنے ایک فتویٰ میں کہا تھا کہ “جنگ کو اخلاقی طور پر جیتنے کا واحد طریقہ یہودی طریقہ ہے۔ ان کے مقدس مقامات کو تباہ کر دو۔  مرد، عورتوں اور بچوں کو قتل کر دو۔ اور مویشی بھی”۔ ابو بکر البغدادی کی شخصیت بھی  سات پردوں میں چھپی ہوئی ہے  جسے ہمارے ہاں کچھ “دانشوروں” نے امام مہدی ثابت کرنے کے لئے قرآن اور احادیث  تک سے حوالے دیئے؟ اور یہ جو پچھلے کچھ مہینوں سے سعودی عرب میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی اصلاحات کا حیران کن سلسلہ شروع ہوا ہے  جس کے نتیجے میں وہاں کسینوز اور کلبز بن رہے ہیں، سینیما کھل رہے ہیں، خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل رہی ہے، ویلنٹائن ڈے سے متعلق “مثبت اور خوشگوار” بیانات آ رہے ہیں، عورتوں کے لباس سے متعلق احکامات نرم کئے جا رہے ہیں، اسرائیل سے اعلانیہ تعلقات بڑھائے جا رہے ہیں اور سب سے اہم بات کہ شہزادہ محمد بن سلمان اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں  کہ “اسی کی دہائی میں سعودی عرب نے وہابیت کو فروغ دینے کی خاطر مختلف ممالک میں مساجد اور مدارس کی فنڈنگ اپنے مغربی اتحادیوں کے کہنے پر کی تاکہ سوویت یونین کا راستہ روکا جاسکے”    کیا محض ایک نوجوان شہزادے کے ذہن کی اختراع ہیں!؟ اور کیا امریکی سٹی بینک سے وابستہ ایک گمنام شخص شوکت عزیز کا پاکستان کا وزیر اعظم بننا اور ورلڈ بینک کے  ایک گمنام ملازم اشرف غنی کا افغانستان کا صدر منتخب ہونا محض اتفاق کی بات ہے؟

ان مثالوں سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کی تقدیر کا فیصلہ ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک اور قوتیں کرتی ہیں۔ لیکن کیا ان طاقتور ملکوں اور طاقتوں کی باگ ڈور واقعاً ایلومیناٹی جیسی کسی خفیہ اور پراسرار تنظیم کے ہاتھوں میں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا صحیح جواب شاید ہی کبھی ملے۔ لیکن ایک بات جو وثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے  کہ ہماری تقدیر ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہرگز نہیں۔ ہم بین الاقوامی ایجنڈوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مکمل ہوتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن ہم میں اتنی صلاحیت نہیں کہ ہم ان  کی راہ میں روڑے اٹکا سکیں۔ کیونکہ نہ تو ہم تعلیم میں مغربی اقوام کا مقابلہ کر سکتے ہیں نہ ہی ٹیکنالوجی میں۔ نہ تو ہم میں اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اپنی طرف بڑھتے ہوئے طوفانوں کا رخ موڑسکیں نہ ہی اتنی بصیرت کہ شاطروں کے کھیل میں اپنے آپ کو مہرہ بننے سے روک سکیں۔ ہم صرف بڑھکیں مار سکتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہو گا کہ ہم کینسر کا خوبانی کے بیجوں سے علاج کرتے رہیں، سبزیوں اور پھلوں  پر مقدس ہستیوں کے نام تلاش کریں اوراس وقت تک “انتظار”  کریں جب  تک خدا ہمارے لئے آسمان سے کوئی نجات دہندہ نہیں بھیجتا۔

یہ مضمون پہلی بار ‘مکالمہ’ پر شائع ہوا

یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج۔۔۔۔ حسن رضا چنگیزی/قسط  1

یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج۔۔۔۔ حسن رضا چنگیزی/قسط 2

یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج۔۔۔۔ حسن رضا چنگیزی/آخری قسط

Share
1Shares

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جملہ حقوق بحق چنگیزی ڈاٹ نیٹ محفوظ ہیں